آملہ کے فوائد

آملہ کو عربی میں املج فارسی میں آملہ سندھی میں آتورا جبکہ ہندی میں آنولہ کہتے ہیں۔ ۔ اس کے بڑے بڑے درخت ہوتے ہیں۔ اس کی گٹھلی گول ہوتی ہے جس کے کنارے دھاری دار ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ کڑوا اور کسیلا ہوتا ہے۔ اس کے افعال و خواص ہلیہ کابلی سے ملتے جلتے ہیں۔ اگر آملہ کو دودھ میں بھگو دیا جائے تو ایسے آملہ کو شیر آملہ کہتے ہیں۔ یہ کھانے میں سب سے عمدہ ہوتا ہے۔ اس کا مزاج پہلے درجے میں سرد اور دوسرے درجے میں خشک ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک دس گرام ہے۔

                                      

 آملہ پاؤڈر سے چائے بنائی جاسکتی ہے جس میں وٹامن سی بڑی تعداد میں موجود ہوتاہے۔ وٹامن سی کے بارے میں مانا جاتا ہےکہ اس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے،  اور جلد کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ پیاس کو بجھاتا ہے، تھوک اور قے کو ختم کرتا ہے۔۔ دستوں کو روکتا ہے اور بالوں کو سیاہ رکھتا ہے۔

سر درد اور جگر کے امراض میں مفید ہے۔ ایسی صورت میں رات کو نو ماشے خشک آملہ، نوگرام دھنیا دونوں کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح پانی چھان کرکوزہ مصری ملا کر پئیں۔ آملہ میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کا استعمال مرض اسکروی سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ قابض ہوتا ہے اس لئے اسے قابض دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مقوی اور قابض ہونے کی بنا پر یہ دل کیلئے انتہائی مفید ہے۔

 قوت حافظہ کیلئے مفید ہے۔ دماغ کی طرف بڑھنے والے انجرات کو ختم کر کے دماغی افعال کو طاقت دیتا ہے۔۔ جب ڈاکٹر انٹی بائیوٹک استعمال کراتے ہیں تو اکثر ساتھ حیاتین نہیں دیتے چنانچہ انٹی بائیوٹک ادویات کے مضر اثرات کو روکنے کیلئے آملے کا استعمال ضروری ہے۔

 آملے کا مربہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شوگر والے حضرات مربہ دھو کر استعمال کریں۔ کولیسٹرول جو کہ خون میں چربی کی صورت ہوتی ہے کی بڑھتی ہوئی مقدار کو روکنے کیلئے ضروری ہے۔ سفوف آملہ صبح و شام آدھا چمچہ چائے والا ہمراہ پانی استعمال  کیا جائے اور کولیسٹرول کو کم کرنے کیلئے ورزش کی جائے۔ آملے کا اچار بہترین ہاضم، مقوی اور بھوک لگاتا ہے۔                             

آملہ معدے کی تیزابیت  سے محفوظ رکھتا ہے۔ آملہ نہایت صحت بخش بو ٹی ہے اور دن میں دو مر تبہ دودھ یا پا نی میں آملہ پاؤڈر اور شکر ملا کر پینے سے معدے کی تیزابیت سے چھٹکا رہ ممکن ہے۔
عام طور پر جڑی بوٹی آملہ کو با لوں کی مضبو طی ،چمک اور گر تے بالوں کے علا ج کے لئے استعما ل کیا جا تا ہے۔
آملہ میں قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات پا ئی جا تی ہیں جس کے باعث آملہ کا استعما ل انفکشن سے محفوظ رکھتا ہے اورقوتِ مدافعت کو بڑھا تا ہے۔
۔یہی نہیں بلکہ آملہ کے جو س کو شہد کے ساتھ ملا کر کھانے سے بینا ئی کی کمزوری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

جلد پر آملہ لگانے سے یہ ایک قدرتی ‘سن بلاک’ کا کام کرتا ہے اور جلد پر ایک تہہ بن جاتی ہے جو یو وی ریز سے بھی بچاتی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آملہ کو باہر جانے سے 20 سے 30 منٹ قبل لگالیں۔

آملہ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ۔ ۔ اس کو پیس کر پانی میں بھگو کر اس کے پانی سے سر دھونے سے بالوں کی سیاہی قائم رہتی ہے اور بال گرنے رک جاتے ہیں۔

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز