افغان طالبان کے امیر کی شہریوں سے شجرکاری کی اپیل

افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنے ایک بیان میں افغان شہریوں اور جنگجوؤں پرملک بھر میں شجر کاری میں حصہ لینے پر زور دیا ہے۔ جنگ جو گروپ کی طرف سے یہ اپنی نوعیت کا منفرد مطالبہ ہے۔

عوام کے نام پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ  ‘ایک درخت یا کئی درخت لگاؤ، چاہے وہ پھل دینے والا ہو یا نہ ہو، تاکہ یہ زمین خوبصورت بنے اور اللہ کی مخلوق کو فائدہ ہو۔’

یاد رہے کہ افغانستان میں جنگلات کی کٹائی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ درختوں کو کٹائی کے بعد غیر قانونی طور پر بیچ دیا جاتا ہے یا ان کو سردیوں میں جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پیغام میں کہا گیا تھا کہ ‘درخت لگانے سے ماحول کو تحفظ ملتا ہے، معاشی ترقی پروان چڑھتی ہے اور زمین کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ درخت لگانے سے اور کھیتی باڑی ایسے کام ہیں جن کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔’

طالبان کی جانب سے ماحولیات پر بیانات ایک حیران کن بات ہے کیونکہ وہ ایسے بیانات شاذ و نادر ہی دیتے ہیں۔

پچھلے سال مئی میں ہبت اللہ اخوندزادہ افغان طالبان کے رہنما منتخب ہوئے تھے اور ان کی وجہ شہرت ایک عسکری ماہر کے بجائے ایک عالم دین کی حیثیت سے زیادہ ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں