شامی دارالحکومت میں 2 دھماکے، 40 افراد ہلاک

بیروت: شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں ہونے والے یکے بعد دیگرے 2 دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ 120 زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے شامی مبصر تنظیم کے حوالے سے بتایا کہ یہ دھماکے دمشق میں ہونے والے ہولناک ترین دھماکوں میں سے ایک ہیں۔

انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم شامی مبصر تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ دمشق کے علاقے باب الساغر میں پہلا دھماکا سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے ہوا جس کی زَد میں وہاں سے گزرتی ایک بس آگئی، جبکہ دوسرا دھماکا خودکش تھا۔

خیال رہے کہ باب الساغر کے علاقے میں متعدد مزار موجود ہیں جس کی وجہ سے یہاں دنیا بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

دمشق کے المجتہد ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق دونوں دھماکوں کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک جبکہ 120 کے قریب زخمی ہوئے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے صنعا کی رپورٹس کے مطابق اہل تشیع افراد کے مزار القاعدہ اور داعش سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ رہے ہیں اور باب الساغر میں ہونے والے دھماکے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

خیال رہے کہ دمشق کے جنوبی حصے میں سیدہ زینب کا مزار زائرین کے لیے ایک اہم مقام ہے اور گذشتہ چھ سالوں کے دوران اس مزار کو متعدد مرتبہ دھماکوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

گذشتہ ماہ فروری میں بھی شام کے شہر حمص میں ہونے والے خودکش حملے میں انٹیلی جنس چیف سمیت 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی شہر الباب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں کار میں نصب بم پھٹنے سے 41 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

رواں سال جنوری میں کفر سوسا ضلع میں ہونے ہوالے دو خودکش دھماکے بھی 8 فوجیوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کی وجہ بنے تھے۔

کفر سوسا میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری ماضی میں القاعدہ سے وابستہ دھڑے فتح الاشام نے قبول کی تھی، جن کا کہنا تھا کہ ان کے حملے کا نشانہ روسی فوجی تھے۔

خیال رہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے زیر کنٹرول دارالحکومت میں اس طرح کے دھماکے غیرمعمولی بات ہیں تاہم دمشق کے مضافاتی علاقوں میں باغیوں کی فائرنگ کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں