خامنہ ای کے جانشین کے چناؤ کے لیے خفیہ کمیٹی کا انکشاف

ایران کی خبر گان کونسل کے ترجمان نےاحمد خاتمی نے انکشاف کیا ہے کہ رہ برانقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کےانتخاب کے لیے ایک خفیہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ خفیہ کمیٹی کی تشکیل نے ایک بار پھر ایرانی سپریم لیڈر کی کینسر کے باعث خرابی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائیوں اور خبروں کے شکوک و شبہات میں اضافہ کردیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ایلنا‘ کے مطابق خبر گان کونسل کے چیئرمین محمد خاتمی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ سپریم لیڈر کے جانشین کے انتخاب کے لیے قائم کردہ خفیہ کمیٹی ایران کے متعدد مذہبی رہ نماؤں کی پروفائلز پر غور کررہی ہے کہ آیا خامنہ ای کی وفات کی صورت میں ان میں سے کون ان کا جانشین بن سکتا ہے۔

محمد خاتمی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے نام تجویز کرلیے گئے ہیں مگر اس کے بارے میں مرشد اعلیٰ کے سوا کسی کوخبر نہیں دی گئیْ۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے دستور کی دفعہ 107 اور 109 میں طے کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے جانشین کا انتخاب صرف اسی کونسل کے پاس ہے۔

اس کے علاوہ دستورکی دفعہ پانچ میں سپریم لیڈر کی خصوصیات بیان کرتے کہا گیا ہے کہ ایسا شخص جو عادل، فقیہ، متقی، اپنے زمانے کےامور کا ماہر، بہادر، انتظامی معاملات پر گہری بصیرت رکھنے والا، قوت فیصلہ رکھنے والا، سیاسی ویژن رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر متحرک اور جسمانی طور پر تندرست ہو ولایت فقیہ کا اہل ہوسکتا ہے۔

اگرچہ سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ خبر گان کونسل کو کرنا ہوتا ہے مگر سیاسی نقشہ راہ کے مطابق ایران کے بنیاد پرست اور پاسداران انقلاب بھی نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مداخلت کرتے ہیں۔

درجن بھر امیدوار

محمد خاتمی کے بیان کے مطابق موجودہ سپریم لیڈر نے کچھ عرصہ قبل تجویز دی کہ خبر گان کونسل ان کی جانشینی کے لیے 10 نام تجویز کرے۔ یہ کمیٹی بھی سپریم لیڈر ہی کے حکم پر قائم کی گئی ہے اور ان کی فراہم کردہ ہدایات کی روشنی میں مصروف عمل ہے۔

حالیہ ایام میں ایرانی ذرائع ابلاغ میں ذرائع کےحوالے سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ رواں سال مئی میں ہونے والے انتخابات کے لیے مذہبی رہ نما ابراہیم رئیسی کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں انہیں ہی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر تیار کیا جائے گا۔

مرشد اعلیٰ کے حکم پر رئیسی کے پاس اس وقت تین اہم عہدے موجود ہیں۔ وہ خبر گان کونسل کے رکن ہیں، خصوصی مذہبی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر ہیں اور ساتھ ہی مشہد شہر میں مذہبی امور کے نگران بھی ہیں۔

رفسنجانی کی وفات کے اثرات

ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی 8 جنوری کو اچانک وفات نے سپریم لیڈر کے جانشین کی بحث ایک بار پھر تازہ کردی۔ یہ بحث ایک بار پھر ایرانی حلقوں میں شروع ہوگئی ہے کہ آیا خامنہ ای کا جانشین کون ہوگا؟

اگرچہ ان رفسنجانی کے اصلاح پسندوں کی طرف میلان کی وجہ سے ان کے سیاسی اثرو نفوذ میں آخری برسوں میں کمی آئی تھی مگر وہ ایک موثر سیاسی قوت کے طوپر پھر بھی ایران میں ایک موثر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔

ایران کے سیاسی رہ نماؤں کا خیال ہے کہ سنہ 2014ء کو سپریم لیڈر کے پروٹیسٹ کینسر کی سرجری کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب ضروری ہے مگر اس کے لیے کسی اعتدال پسند شخصیت کا نام تجویز کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے نئے سپریم لیڈر کی وفات کی صورت میں کسی ایک شخص کو رہبر اعلیٰ کے طور پر منتخب کرنے کے بجائے’انقلابی کونسل‘ کی تجویز پیش کی تھی مگر یہ تجویز ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ اب ایران میں ایک بار پھر خامنہ ای کی جانشینی کے لیےشخصیات کے درمیان مقابلے کا اکھاڑا گرم ہوچکا ہے۔

دیگر امیدوار

آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشینوں میں کئی اور نام بھی لیے جا رہے ہیں۔ ان میں بعض اصلاح پسند اور بعض بنیاد پرست ہیں۔ دیگر امیدوارں میں خامنہ ای کا صاحبزادہ مجبتٰی خامنہ ای، سابق چیف جسٹس آیت اللہ علی ہاشمی شاہرودی، جوڈیشل کونسل کے موجودہ چیئرمین صادق لاری جانی اور موجودہ صدر حسن روحانی کے نام بھی گردش میں ہیں۔

مگر بعض امیدواروں کے انتخاب کا زیادہ امکان ہے جن میں آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی، اور احمد جنتی کے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں

کُل شیئرز