امریکا کی سفری پابندیاں کا شکار ممالک سے عراق کے اخراج کا فیصلہ

Fuad Sharif Suleman and his family show their US immigrant visas in Arbil, the capital of the Kurdish autonomous region in northern Iraq, on January 30, 2017 after returning to Iraq from Egypt, where they were prevented from boarding a plane to the US following US President Donald Trump's decision to temporarily bar travellers from seven countries, including Iraq. / AFP PHOTO / SAFIN HAMED

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کا نام سفری پابندیوں کا شکار ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔عراقی وزارت خارجہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس مجوزہ اقدام پر’’ گہرے اطمینان‘‘ کا اظہار کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ یہ فیصلہ درست سمت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔اس سے بغداد اور واشنگٹن کے درمیان مختلف شعبوں میں تزویراتی اتحاد کو پائیدار بنانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو مربوط بنانے میں مدد ملے گی‘‘۔

توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سلسلے میں انتظامی حکم پر آج دستخط کردیں گے۔اس کے تحت چھے مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی برقرار رکھی جائے گی۔انھوں نے قبل ازیں عراق سمیت سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی تھی لیکن امریکی عدالتوں نے ان کے اس اقدام کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدہ دار نے بتایا ہے کہ نئے انتظامی حکم کے تحت چھے مسلم اکثریتی ممالک شام ، ایران ،لیبیا ،یمن ،سوڈان اور صومالیہ کے شہریوں پر نوّے روز کے لیے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی ہوگی۔

اس عہدہ دار کے بہ قول عراق کا نام 27 جنوری کو جاری کردہ سات ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ اس نے امریکا جانے کے خواہاں اپنے شہریوں کی چھان بین کے لیے نئے قواعد وضوابط کا نفاذ کیا ہے اور ویزے کی سکریننگ کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے جبکہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ بھی لڑرہا ہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں

کُل شیئرز