سعودی عرب اور برونائی کا ’’ٹھوس اور منفرد‘‘ تعلقات جاری رکھنے کا عزم

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز برونائی دارالسلام کے ایک روزہ دورے کے بعد واپس انڈونیشیا چلے گئے ہیں۔ان کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو منفرد اور ٹھوس قرار دیتے ہوئے انھیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

شاہ سلمان نے اپنے قیام کے دوران میں برونائی دارالسلام کے حکمراں سلطان حسن البلقیہ سے دوطرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت کی ہے اور انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں اور خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

دونوں رہ نماؤں کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ یہ اہم اور تاریخی دورہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان دوستانہ اور منفرد دوطرفہ تعلقات کا عکاس ہے۔شاہ سلمان نے یہ دورہ سعودی عرب اور برونائی دارالسلام کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر کیا ہے‘‘۔

شاہ سلمان اور سلطان حسن البلقیہ نے ملاقات میں سعودی عرب اور برونائی دارالسلام کے درمیان معیشت ،سرمایہ کاری ،تعلیم ،ثقافت ،نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے متعلق طے شدہ سمجھوتے کو فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاست ،دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں اور اسلامی امور میں بھی دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

یادرہے کہ سعودی عرب نے 1995ء میں برونائی دارالسلام میں اپنا سفارت خانہ کھولا تھا اور ایک ناظم الامور کا تقرر کیا تھا۔سنہ 2001ء میں اس چھوٹے اسلامی ملک میں پہلے سعودی سفیر کا تقرر کیا گیا تھا اور اسی سال جولائی میں دونوں ملکوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔

اس سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک نے معیشت ،سیاحت ،مشترکہ سرمایہ کاری ،صنعت ،پیٹرولیم ،دھاتوں ،پیٹرو کیمیکلز ،زراعت ،مویشی بانی ،صحت ،،ثقافت ،نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے سے اتفاق کیا تھا۔دونوں ملکوں کی حکومتوں نے 2007ء میں اس سمجھوتے کی توثیق کی تھی۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں