جینوا: شامی حکومت اور اپوزیشن پہلی مرتبہ آمنے سامنے

جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام شام امن مذاکرات دس ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئے ہیں اور شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے گذشتہ تین سال میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے پرچم تلے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اسمبلی ہال میں مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا نے مندوبین سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ مجھ آپ سے یہ کہنا ہے کہ آپ مل جل کر کام کریں۔میں یہ بات جانتا ہوں کہ اس خوف ناک تنازعے کا خاتمہ اور ایک پُرامن ،خود مختار اور متحد ملک کی بنیاد رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے‘‘۔

ڈی میستورا نے ابتدائی کلمات کے بعد طرفین کے نمائندوں سے باری باری مصافحہ کیا اور پھر وہ مزید بات چیت کے لیے ہال سے چلے گئے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت ہوگی یا نہیں۔

عالمی ایلچی نے جمعرات کی صبح شامی حکومت اور حزب اختلاف کے مندوبین کے الگ الگ اجلاس طلب کیے تھے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ دن کے دوسرے حصے میں وہ ایک استقبالیہ تقریب اور دوطرفہ بات چیت منعقد کرنے جارہے ہیں۔

انھوں نے شامی خواتین کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی ہے۔ان خواتین نے ان پر زوردیا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کے دوران میں قیدیوں اور اغوا کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے بھی بات چیت کی جائے۔انھوں نے ان افراد کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے کچھ دیر تک علامتی خاموشی اختیار کی۔

ڈی میستورا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہزاروں لاکھوں مائیں ،بیویاں اور بیٹیاں ایسی ہیں جنھیں یہ توقع ہے کہ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس سے مذاکرات کے نتیجے میں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے‘‘۔

انھوں نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھیں جنیوا میں آغاز ہونے والے شام امن مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں ہے بلکہ یہ شامی تنازعے کے حل کی غرض سے ایک سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سلسلہ وار بات چیت کی ابتدا ہوں گے۔

ڈی میستورا نے بدھ کے روز جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ ہمیں کوئی بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں‘‘۔البتہ انھوں نے یہ توقع ظاہر کی کہ ’’ان مذاکرات سے ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا اور کوئی بھی فریق دوسرے فریق کو اشتعال دلا کر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔یہ ایک مفید موقع ہوگا اور ہم ایک سنجیدہ کوشش کریں گے‘‘۔

لیکن یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ گذشتہ سال اپریل میں جنیوا میں منعقدہ مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد سے صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں حال ہی میں مذاکرات کے دو دور ہوئے ہیں جس کے پیش نظر اب شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری تنازعے کے سیاسی حل کے لیے پیش رفت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

حزب اختلاف کے وفد کے ایک رکن عبدالاحد استیفو نے کہا ہے کہ ’’مذاکرات کے اس دور میں باغیوں کا ایک بڑا کردار ہوسکتا ہے کیونکہ شام میں صورت حال کافی تبدیل ہوچکی ہے اور باغی دھڑے حزب اختلاف کی جلا وطن قیادت سے ناتا توڑ کر اب احرارالشام اور القاعدہ سے وابستہ فتح الشام محاذ ایسے قدامت پسند گروپوں کے زیادہ قریب آگئے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ آستانہ میں روس ،ترکی اور ایران کی میزبانی میں حال ہی مذاکرات میں شام کے باغی دھڑے اور حکومت کے نمائندے پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھے تھے جبکہ جلا وطن حزب اختلاف کو سائیڈ لائن کردیا گیا تھا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں

کُل شیئرز