کپاس سندھ کا سونا

تاریخ کے حساب سے سندھو ماتھری کی تہذیب اس فصل کا اصلی مرکز رہی ہے اور ایسے ثبوت موئن جودڑو کی کُھدائی کہ وقت پائے گئے ہیں. ہندو مذہب کی پرانے کتاب رگ وید میں واضح ثبوت ملتے ہیں کہ سندھی کپاس کو (Indus cotton) کرپاسا یا کپاس کہا جاتا تھا. سندھ میں کپاس ململ کے کپڑے تیار کرنے کے لیئے اُگائی جاتی تھی. ایک دوسری مذہبی کتاب توریت میں لکھا ہوا ہے کہ کپاس کے ملائم اور عمدہ کپڑے کا نام سندھو ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کپاس کی اصل نسل سندھو ماتھری سے ہی وابستہ ہے.

سندھ کی زرعی آسودگی کہ بارے میں یہاں ایک عرب سیاح کا ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ جب حضرت عمر( رض) نے اس سے پوچھا کہ سندھ کہ بارے میں آپکی کیا رائے ہے تو اُس کا جواب عرب سیاح نے تین جملوں میں دیا کہ اسکے دریا موتی ہیں، اسکے جبل یاقوت ہیں اور اسکے پیڑ عطر ہیں.
تاریخی میں یہ بات بھی مرقوم ہے کہ حضرت عیسیٰ کو جب صلیب پر چاڑھایا گیا تو اس وقت بھی ان کے بدن پر سندھ کا کپڑا زیب تن تھا. غرض یہ کہ قدیم تاریخوں میں سے یہ بات صاف نمودار ہے کہ کپاس کا قدیم مرکز سندھو ماتھری ہی ہے.
تیرہویں صدی کے مشہور سیاح مارکو پولو( Marco Polo-1254-1324) کی تحریروں میں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کا کپڑا ایسا نفیس اور ملائم تھا کہ مخمل کی نرمی بھی اس کے سامنے کم گداز لگتی. اس کپڑے میں خاص بات یہ تھی کہ وہ اگر دھو کر کہیں سُکھایا جاتا تو گویا یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی کپڑا ہے ہی نہیں وہ دکھنے میں بہت باریک مگر اتنا ہی پائیداراور مظبوط تھا.
اٹھارویں صدی کے ابتدائی دور میں سندھ کا دورہ کرتے وقت ایک انگریز فوجی افسر ‘پاٹنجر’ نے یہ بتایا تھا کہ سندھ میں کپاس کی فصل سب سے اہم تھی جو مرکزی چین اور جنوبی سندھ کے علاقوں میں بڑے پیمانے پہ اُگائی جاتی تھی۔ آگے چل کر بتاتے ہیں کہ کپاس دو اقسام کی اُگائی جاتی تھی. ایک دائمی پیڑوں جیسی اور دوسری موسمی یا یک سال والی.

قبائلی اور جدید ادوار میں سندھ کی کپاس کا بیوپاری اور صنعتی سفر جاری رہتا آیا. سندھ کا کپڑا ایران اور ترکی میں مشہور ہوا کرتا تھا. یہاں کا کپڑا بصری اور کانگو کے بندرگاہوں پہ بھی جاتا تھا. ستروہیں اور اٹھارہویں صدی میں ٹھٹو, نصرپور, دربیلو اور کنڈیارو کپڑے کی صنعت کے اہم مرکز رہے. ١٤۰۲ع میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کہ چھ ہزار بافتے کے تھانوں کا آرڈر دیا. ١٤٣٦ع میں فریملن ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کہ کپڑے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘پورے ہندوستان کا کپڑا سندھ کے کپڑے جیسا نہیں اور نا ہی بیوپار کہ لیئے اتنا خورد مال (کپاس) دوسری کسی جگہ سے مل سکے گا’
وہ کپڑا رنگ اور مضبوطی میں سب سے اعلیٰ اور اپنا مثال آپ تھا.

شیئرکریں
mm
مجاھد سومرو بی ایس سی ایگریکلچر (آنرس) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے طالبعلم ہیں تعلق شکارپور سے ہے اور سماج میں جبر کے خلاف آواز اٹھانے اور امن کی امید پر جینے والے ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر اندھیری رات کہ بعد ایک نیا سویرا ضرور ہوتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں