خیبرپختون خواہ حکومت کا احسن اقدام

خیبر پختونخوا میں سرکاری اسکولوں کو نجی اسکولوں کے برابر لانے کیلئے گزشتہ تین سالوں کے دوران غیر حاضر اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران سے تقریباً 20 کروڑ کے جرمانے وصول کرنا جبکہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو 15 کروڑ روپے کے انعامات دیے جانا قابل ستائش و قابل تقلید اقدام ہے.
.
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق یکم جولائی 2013 سے 27 فروری 2017 کے درمیانی عرصے میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے 11 ہزار سے زائد اساتذہ اور افسران کے خلاف کارروائیاں کر کے 20 کروڑ کے قریب جرمانے وصول کئے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد اساتذہ کو ملازمت سے برخاست یا جبری ریٹائرڈ کیا گیا ہے یا ان کی ملازمت میں تنزلی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر حاضر رہنے والے اساتذہ میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے جنہیں 11 کروڑ روپے سے زیادہ جرمانے دینے پڑے ہیں جبکہ مرد اساتذہ نے آٹھ کروڑ روپے سے زیادہ کے جرمانے دیے۔
.
ضلع ایبٹ آباد میں غیر حاضر اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ رہنے کی وجہ سے اس ضلعے سے ریکارڈ چار کروڑ روپے کے جرمانے وصول کیے گئے جبکہ ضلع صوابی میں اساتذہ کی غیر حاضری کا تناسب سب سے کم رہا جہاں صرف دو لاکھ روپے تک جرمانے وصول کیے گئے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں مانیٹرز تعینات کیے گئے ہیں جو سمارٹ فون کی خصوصی ایپس کے ذریعے ہر سکول میں جا کر اساتذہ طلبہ و طالبات کی حاضری کی مانیٹرنگ کرتے ہیں۔
.
میرے خیال میں پنجاب سمیت دیگر صوبے خیبر پختون خوا کے اس احسن اقدام کی تقلید کر کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ و طلبہ کی حاضری بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں. خصوصاً سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو اس اقدام کی تقلید ضرور کرنی چاہیے جہاں تعلیمی صورتحال بہت خراب ہے. خیبر پختون خوا میں تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نجی اسکولوں کو خیر باد کہہ کر سرکاری اسکولوں میں داخل ہوئے ہیں
آپ کیا کہتے ہیں؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں