خدا نخواستہ، قسط نمبر چار

گھر میں ٹی وی نہیں ہے ؟ میں نے شبراتی سے پوچھا ۔

ارے یہ موا کیا ہوتا ہے ؟ شبراتی نے جواب دیا ۔

یار ٹی وی !!! میں نے ہاتھ کے اشارے سے بنا کر دکھایا ۔
وہ ہونقوں کی طرح مجھے دیکھنے لگا ۔

” ٹی وی کا نہیں پتا ؟ وہ ڈبہ سا یار جس پہ سوہنی سوہنی لڑکیاں خبریں پڑھتی ہیں ؟؟
یار وہ جس پہ مورننگ شوز میں چار بار طلاق شدہ لڑکی کی شادی ہو رہی ہوتی ہے اور پیچھے گانا بج رہا ہوتا ہے
” بابل سے دوائیں لیتی جا
جا تجھ کو سکھی سسرال ملے ”

دوائیں ؟ شبراتی آنکھیں پھاڑ کر بولا ۔۔۔۔

تو اور کیا بھئی آج کل کے دور میں دعا سے زیادہ دوا کام آتی ہے ۔ میں نے آنکھ مارتے ہوۓ کہا مگر سامنے کسی قسم کا رسپانس موجود نہیں تھا ۔ لگتا تھا نازکستان کے لوگوں کی حس مزاح اپنی موت آپ مر چکی تھی ۔

حیرت تھی کہ اس دنیا میں نہ ٹی وی ہے نہ فون نہ موبائل نہ انٹرنیٹ نہ ہی کسی گھر میں کسی قسم کا میوزک بجتا ہے ۔ اور تو اور یہاں دل پشوری کے لئے کوئی انٹرنیٹ کیفے بھی نہیں ہے ۔

میں بے حد رنجیدہ ہو چکا تھا ۔ مسلہ سارا دن کام کاج کرنے کے بعد تھکن کا ہونا نہیں تھا ۔ مسلہ اس تھکن کو ایک لطیف سی تفریح سے ختم کرنا تھا جؤ کہ فی الوقت میسر نہیں تھی ۔ مجبور ہو کر میں نے ہتھیار ڈال دئے اور سوچا کہ اب تھکن کو ہتھیاروں سے نہیں اوزاروں سے ختم کرنا ہے ۔ اور بیگم کے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔

رات نو بجے سے کچھ پہلے ایک کار گھر کے دروازے کے باہر آ کر رکی اور بیگم کو چھوڑ گئی ۔ بیگم اندر آئیں ۔ شبراتی نے جلدی سے بھاگ کر اپنے سر پر  گھونگھٹ اوڑھ لیا اور ہمیں بھی اشارہ کیا ۔
مرتا کیا نہ کرتا جلدی سے بھاگا اور الماری سے دوپٹہ اٹھا کر سر پہ اچھی طرف لپیٹ لیا ۔
بیگم کچھ دیر باہر زنانہ میں رکیں ملازماؤں کو ضروری ہدایات دیں اور پھر اندر آ گیں ۔ اندر آ کر وہ سیدھا غسل خانے گیں جہاں شبراتی نے ان کے لئے نہانے کا بندوبست کر دیا تھا ۔
نہانے کے بعد وہ کمرے میں آئیں اور لباس تبدیل کیا اس کے بعد کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھ گیں ۔
میں دل ہی دل میں حیرت زدہ تھا کہ بیگم نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی نہ ہی میرا حال پوچھا ۔ ستم خدا کا اتنا کچھ بدل گیا مگر بیگم کی آج بھی ” چوں ” تک کرنے کی عادت نہیں گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھا کر ہم اپنے کمرے میں آ گئے میں نے چادر اتاری اور الماری سے اپنا کرتہ نکال کر پہنا ۔ اور مسکین سی صورت بنا کر بیگم کے آگے بیٹھ گیا ۔

سمینہ یار یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟

” مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا میرا آج ٹریننگ کا پہلا دن تھا مجھ سے وہ وہ کام کروایا گیا جؤ میں نے زندگی میں دیکھنا تک پسند نہیں کیا ۔ ”

اس بات پہ میرا دل اور دیگر کچھ عضو حلق تک آ گئے ۔۔۔ مگر بیگم نے بات جاری رکھی

” اب دیکھیں نا ۔۔۔ مجھے گاڑی چلانا سکھایا جا رہا ہے ۔ گھوڑا چلانا سکھا رہے ہیں ۔
اور تو اور ایسے ایسے مردانہ کهیل کھلوا رہے ہیں کہ بس ۔ ایک ہفتہ یہی کچھ کرنا ہے اس کے بعد گن چلانا اور تلوار بازی بھی شاید سکھائی جاۓ ؟

میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیں ۔
یا اللّه اے کون سا ملک ہے۔؟ اچھی خاصی میری شریف النفس قسم کی بیوی تھی ۔ اس کو کنگ فو ماسٹر بنا رہے ہیں ۔

” تم کو یہ سب کیوں سکھا رہے ہیں ؟ میں نے پوچھا ؟

” علی ! آپ سے ایک بات کرنی تھی ۔۔۔۔ بیگم بولی ۔

بولو ۔۔۔۔۔

” علی یاد ہے آپ کہا کرتے تھے جیسا دیس ہو ویسا بھیس ہو ۔

ہاں کہا کرتا تھا ۔۔

” اور آپ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جیسا زمانہ اور وقت ہو ویسا ہی چلنا چاہیے ؟؟؟

ہاں ہاں کہا تھا مگر تم اس وقت کیسی باتیں لئے بیٹھی ہو ۔۔۔

میں کسی اور ہی موڈ میں تھا سو یہ فلسفہ کی کلاس ہضم نہیں کر پا رہا تھا ۔

” تو علی اب بات سیدھی اور صاف ہے ۔۔۔ نازکستان میں عورت راج ہے ۔ یہاں عورت کو ہر وہ آزادی میسر ہے جؤ پاکستان میں مردوں کو تھی ۔ فکر مت کریں ۔ میرا خمیر یہاں کا نہیں ہے ۔ میں ایسا کچھ نہیں کروں گی جس سے آپ کی عزت پہ داغ آئے ۔ مگر آپ کو اب یہاں کے رسم و رواج کے مطابق رہنا ہو گا ۔
اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ خوشی سے رہیں یا مجبوری سے !!!

میں بیگم کے کچھ قریب ہو کر بولا ۔ ڈارلنگ تم ٹھیک کہہ رہی ہو یہ باتیں صبح کر لیں گے نا !!

بیگم نے بڑی سہولت سے میری پیش قدمی کو روکا اور کہا ۔

” علی یہاں کے رواج کے مطابق مجھے آپ کو خود سے کمتر سمجھنا ہے سو میں آئندہ سے آپ کو تم ہی کہوں گی ۔

تم بھی تم نہیں ۔۔۔” آپ “کہا کرو گے
ہر کام سے پہلے میری اجازت لو گے
میری اجازت کے بنا باہر نہیں نکلو گے کسی کے سامنے نہیں آؤ گے اور ۔۔۔

مجھے ہاتھ نہیں لگاؤ گے ۔

سو میں آج بہت تھکی ہوئی ہوں ۔ ذرا اچھے سے میری ٹانگیں اور پاؤں دبا دو ۔ بہت درد ہو رہا ہے ۔

پاؤں دباتے ہوۓ مجھے اپنی شادی کے ابتدائی دن یاد آ رہے تھے جب میں دو دو گھنٹے اسی بیگم سے لتڑویا کرتا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

دن گزرتے گئے اور میں گھر کے کاموں میں کافی طاق ہوتا گیا ۔ اب میں کم از کم روٹی جلاتا نہیں تھا اور شبراتی کے بقول پورے دو گھنٹے میں ایک کلو مٹر چھیل لیتا تھا ۔
بیگم کی حکمرانی جاری تھی ۔ اس کی ٹریننگ ساری کی ساری مجھ پہ اثر انداز ہو رہی تھی ۔
کہ ایک شام بیگم نے بتایا کہ کل ہمارے گھر ان کی سہیلی اور علاقہ کی ایس ایچ اؤ بیگم جمال آ رہی ہیں اور ان کے ساتھ ان کے شوہر قدوسی صاحب بھی ہوں گے ۔
یہ پہلا موقع تھا جب میں نازکستان کا کوئی گھریلو مرد دیکھنے والا تھا ۔
اگلی شام تک شبراتی تمام انتظامات مکمل کر چکا تھا ۔
اندھیرا ہوتے ہی بیگم کی واپسی ہوئی اور باہر زنانے میں شور اٹھا ۔ آوازوں سے معلوم پڑا کہ ساتھ کوئی اور خاتون بھی ہیں ۔ شبراتی کو آواز دی گئی اس نے جلدی سے دوپٹہ لیا اور باہر چلا گیا ۔
تھوڑی ہی دیر بعد اندر مردانے کا دروازہ کھلا اور ایک برقع پوش لہراتا شرماتا ہوا اندر داخل ہوا پیچھے پیچھے شبراتی بھی تھا ۔
آئیں بیٹھیں قدوسی صاحب !!
شبراتی نے حق میزبانی نبھایا ۔

برقع پوش نے  شبراتی کے کان میں کچھ کہا ۔۔۔ جس کے جواب میں شبراتی نے کہا کہ فکر مت کریں مردانہ میں کوئی عورت نہیں ہے ۔

قدوسی صاحب چلتے چلتے اندر میرے کمرے تک آ گئے اور اپنا برقع اتار کر سائیڈ پہ رکھ دیا ۔

میں قدرت کی کاری گری اور اس کے بعد اسی قدرت کی ستم ظریفی کو دیکھ اور محسوس کر رہا تھا ۔ ایک چھے فٹ کر مرد ، لمبے بال جسے بنا مانگ بناۓ پیچھے کی طرف کیا ہوا ۔۔سڈول بازو ۔ چوڑا سینا ، رعب دار مونچھیں اور پینٹ کوٹ ٹائی لگاۓ میرے سامنے اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ موجود تھا ۔
اگر یہ انسان پاکستان میں ہوتا تو یقین کریں میں اس کو کسی صورت اپنے گھر یا کم از کم اپنی بیوی کے سامنے نہ آنے دیتا مگر یہاں میری کہاں چلنے والی تھی ۔

خیر میں نے انھیں بیٹھنے کو کہا تو وہ ایک بار پھر لہرا کر بیٹھ گئے ۔

اسلام علیکم ! میں نے پہل کی

وعلیکم اسلام
آواز کسی حد تک باریک تھی

کیسے ہیں آپ قدوسی صاحب ؟

شکر ہے اللّه کا جب سے آپ لوگ یہاں تشریف لاۓ یقین کریں میں نے بیگم صاحبہ سے کتنی بار کہا کہ آپ سے ملوا دیں مگر وہ ہماری کہاں سنتی ہیں ۔ اوپر سے ایسی مصروفیت کہ الاماں الحفیظ !؛!!!

قدوسی صاحب بولے اور میرا تقریباً ہاسا چھوٹ گیا ۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں بہت سے کھسرے دیکھے تھے مگر یہ پہلا مرد دیکھا جؤ اتنا لہرا کر خاص گھریلو شکوہ کناں بیویوں کی طرح ہاتھ نچانچا کر بات کر رہا تھا ۔ خدا کی پناہ یہ انسان مجھے اس ملک میں مردوں کی حالت کا سبب معلوم ہوا ۔

خیر میں نے کچھ کنٹرول کیا اور آرام سے صوفہ پہ بیٹھے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے انھیں چاۓ کا پوچھا ۔
میرے ٹانگ پہ ٹانگ رکھنے سے قدوسی صاحب کو مزید شرم آ گئی اور ان کی اپنی ٹانگیں بیٹھے بیٹھے پیچھے کو مڑ گیں اور ان کے ہاتھ ٹائی سے کھیلتے کھیلتے ٹانگوں کے درمیان گھس گئے ۔۔

میں نے مزید سوال کیا ۔

آپ کہاں مصروف ہوتے ہیں ؟

بس جی کیا بتاؤں ! گھر کا اتنا کام ہے اوپر سے تین تین شیطان بچے ہیں ۔
شکر ہے آپ کو ابھی یہ ذمہ داری نہیں ملی ۔۔۔

” کیا مطلب ؟ قدوسی صاحب یہاں بچے کیسے ؟ مطلب کون ؟؟؟؟

قدوسی صاحب میری بات نہیں سمجھے اور صرف ” کیسے ” پہ ہی شرما گئے ۔
اگلے پندرہ منٹ تک وہ شرماتے رہے اور میں چاۓ پیتا رہا اس کے بعد میں نے دوبارہ اپنا سوال ذرا کلیر کر کے پوچھا تو بولے ۔

بھلا ظاہر ہے بچے تو عورتیں ہی پیدا کرتی ہیں نا ! مرد تو صرف ملازم ہے ۔ عورت پیدا کر کے اسے مرد کے حوالے کر دیتی ہے ۔ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسے دودھ پلا دیتی ہے اور جب تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو میاں کو سب کچھ خود ہی کرنا پڑتا ہے ۔

کیا مطلب ؟؟؟؟

مطلب دودھ بنا کر پلانا اور اس کے کھانے پینے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے دوا دارو کا خیال ۔۔۔
کیا بتاؤں اب آپ کو ! ایسے ہی نہیں بچے جوان ہوتے ۔۔ ماں تو پیدا کر کے چھوڑ دیتی ہے یہ باپ ہی ہے جؤ اپنا خون سینچ سینچ کر اس چمن کی آبیاری کرتا ہے پالتا ہے اور جیسے ہی بچہ سولہ کا ہوتا ہے اسے اسی شفیق باپ سے چھین لیا جاتا ہے ۔
اس کی جنت سے دور کر دیا جاتا ہے ۔ اس کے متعلق ماں کا ہر فیصلہ مانا جاتا ہے ۔

جنت سے ؟؟؟؟؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔

ہاں تو اور کیا ۔۔۔
باپ کے قدموں تلے ہی تو جنت ہوتی ہے ۔

” مجھے اپنی کریم ماں اور ابا کے قدموں میں موجود بڑے بڑے چھتر یاد آ رہے تھے ”

جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں