خدا نخواستہ، پانچویں قسط

قدوسی صاحب آپ کے خیر سے کتنے بچے ہیں ؟

قدوسی صاحب نے ہاتھ کانوں کے قریب لے جا کر انھیں سر سے وارا اور کہا ماشاللہ اللّه نظر نہ لگے میری سہاگ کو،
اللّه میرے سر کی سائیں کا سایہ مجھ غلام کے سر پہ ہمیشہ قائم رکھے جس نے میرے آنگن کو اپنے تین پھولوں سے بھر دیا ۔ ورنہ میری کھوکھ تو سونی کی سونی رہ جاتی ۔

قدوسی صاحب کی آنکھوں میں تقریباً آنسو آ چکے تھے اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ مرد کے نام پہ اس کلنک کے ٹیکے کو دریا برد ہی کر دوں ۔

خیر میں قدوسی صاحب کی باتوں سے حلق تک بھر چکا تھا ۔ آخر میں کھانے کا وقت ہوا ۔ قدوسی صاحب نے ہمیں دال ماش بنانے کی ترکیب بتائی اس کے علاوہ گھر میں ” بڑیاں ” بنانے کا نادر نسخہ بھی بتایا ۔ مجھے خاص طور پہ کروشیے کے اوپر سلمیٰ ستارے کے کام اور بیگم کو وش میں کرنے کے ٹوٹکے بھی بتاۓ ۔
جاتے جاتے قدوسی صاحب روتے ہوۓ مجھ سے ملے اور میرے کان کے قریب اپنا منہ لاتے ہوۓ بولے ۔
دیکھیں علی بھائی یہ بیویاں بہت ظالم ہوتی ہیں ۔
مرد جب تک بیوی کے  دل میں اپنی جگہ نہیں بناتا تب تک بیوی کے نزدیک اس کی اہمیت نہیں ہوتی ۔ اور بیوی کے دل میں اترنے کا راستہ جھاڑو سے جاتا ہے ۔

کیا ؟؟؟؟؟؟ جھاڑو ؟؟؟؟

قدوسی صاحب پیٹ کا سنا تھا جھاڑو کا کیسے ؟ میں باقاعدہ احتجاج کرنے لگا ۔

اچانک باہر سے بیگم دروازے کے قریب آئی اور بولی :
” ہوش میں تو ہو ؟ اتنا اونچا کیوں بول رہے ہو ؟ باہر زنانے میں سب نے آواز سنی ۔ خود تو بے شرم ٹھہرے ہو میری عزت کا تو کم از کم خیال کرو ۔ کیا کہیں گی جمال بیگم !!!
سمینہ کا میاں اس قدر بے حیاء ہے ۔
سن لو !!! میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ میرے گھر والے کی آواز غیر عورتیں سنیں !

گو بیگم نے مجھے پاس بلا کر آھستہ آواز میں کہا مگر میری شرمندگی سے وہ حالت ہوئی جیسے کسی پارک میں ” پکڑے ” جانے کے بعد جوڑے کی ہوتی ہے ۔
کاش میں گھر ہوتا ۔ تو اس بد زبان عورت کی عقل ٹھکانے لگا دیتا مگر ہاۓ مجبوری !!!

سو پلٹا تو قدوسی صاحب کو کھسیانی ہنسی ہنستے ہوۓ دیکھا !
اس کی طرف منہ کر کے پوچھا ۔۔۔ قدوسی صاحب جھاڑو سے کیسے ؟؟؟؟ آپ نے بتایا نہیں ۔۔۔۔

بولے ، ” علی میاں یہ جؤ عورتیں ہوتی ہیں نا ! انہیں ہماری طرح کھانے پینے کا شوق نہیں ہوتا ۔ مرد تو کم ذات ہے ازل کا بھوکا ! جانور کی طرح صرف کھانے پینے سے مطلب ۔۔۔
مگر اللّه نے عورت کو بہت عقل مند زہین اور نفاست پسند پیدا کیا ہے ۔ اسے صفائی ستھرائی کا شوق ہوتا ہے ۔ علی میاں ! گھر صاف ستھرا رکھیں ، کپڑے صاف ستھرے رکھیں ۔ اور ہاں !
روز شیو کیا کریں ۔سر کے سہاگ کے ہوتے ہوۓ مرد کی ڈاڑھی بڑھی ہونا نحوست ہوتی ہے ۔

نحوست !! وہ کیسے ؟؟ میں تھوڑا حیران ہوا ۔

” علی میاں یہاں رواج ہے کہ جب تک مرد کی شادی نہیں ہوتی وہ ڈاڑھی مونچھیں نہیں رکھتا ۔ جیسے ہی اس کی شادی ہو جاتی ہے وہ مونچھیں رکھ لیتا ہے ۔ اب یہ بیوی پہ ہے اس کو بڑی مونچھیں پسند ہیں یا چھوٹی ۔
مگر اللّه نہ کرے اگر کسی مرد کے سر کی چادر چھن جاۓ یعنی اس کی بیوی مر جاۓ تو پھر اسے ساری زندگی ڈاڑھی رکھنی پڑ جاتی ہے ۔
بلکہ کبھی کبھی تو سر بھی منڈوا دیا جاتا ہے ۔

ہیں !!! مطلب یہ جو شبراتی گنجا ہے اس کی بیگم مر چکی ہے ؟ میں بولا

قدوسی بولا ؛ ہو سکتا ہے ۔
یہ شکر کرے یہ زندہ ہے ورنہ رنڈوے مرد کو دوسری شادی کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کبھی کبھی بیوی کے ہمراہ جلا یا دفنا بھی دیا جاتا ہے ۔

مجھ پہ حیرانیوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔

قدوسی بھائی ! ایک بات تو بتائیں ۔

جی پوچھو !

قدوسی بھائی یہاں کون سا مذہب ہے ہمارے مذہب میں تو عورت کو ایک وقت میں ایک ہی شادی ۔۔۔۔۔

علی میاں ! نازکستان کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔ یہاں کوئی عبادت گاہ نہیں ہے ۔ یہاں کسی سے نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کون ہے اور کیا ہے ۔ بس ہمارے ملک کی بانی خواتین نے جو دستور قانون کی صورت بنا دیا ہے ۔ وہ ہمارا مذھب ہے ۔

قدوسی بھائی کیا آپ جانتے ہیں کہ باہر کی دنیا کیسی ہے ؟

کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی وہاں گیا ہے اور نہ ہی کوئی وہاں سے تم دونوں کے سوا آیا ہے ۔ ہمیں تو یہی لگتا تھا کہ ہماری دنیا یہی ہے ۔

قدوسی سے بہت سی معلومات ملیں ۔ قدوسی ہوم اکنامکس میں ماسٹر تھا اور امور برائے خانہ جات میں اس جیسا کمال پورے خاتون آباد میں کسی نے پاس نہیں تھا ۔ میں نے اگلے کچھ مہینوں میں قدوسی سے بہت کچھ سیکھا ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میری یہاں سے جانے کی خواہش دم توڑتی گئی ۔
سرکاری طور پہ بھی ہم کہیں آ جا نہیں سکتے تھے بیگم کی الگ ٹریننگ تھی ۔ وہ اکثر گھر کے پچھواڑے میں اپنی دوستوں کے ساتھ نشانہ بازی کی پریکٹس کیا کرتی تھی اس کی ٹریننگ بہت اچھی جا رہی تھی ۔ گھڑ سواری میں وہ طلائی تمغہ لے چکی تھی ۔
اس کی بہت سی دوست بن چکی تھیں اور انہوں نے میری ” چوں ” تک نہ کرنے والی بیگم کو اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا ۔ چھٹی کے دن صبح صبح وہ اور اس کی دوستیں گھر کے زنان خانے میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتیں ۔۔ مجھے اپنا دور یاد آتا ۔۔۔ شبراتی ان کے کھانے پینے پان سگریٹ کا خیال رکھتا تھا ۔
بیگم کو صرف یہی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی بلکہ اس ٹریننگ میں اسے یہ احساس دلایا گیا تھا کہ وہ عورت ہے اور عورت ہر صورت افضل ہوتی ہے ۔ بیگم مجھ سے اب بھی پیار کرتی تھی مگر وہ والہانہ پن جؤ پہلے تھا اس میں کمی آ چکی تھی۔ پہلے اس کهیل میں میرا کردار محبوب کا ہوتا تھا اور اب عاشق کا ہونے لگ گیا تھا ۔ میری بیگم محبوب بن چکی تھی ۔ اس کے اندر کا بھگوان جاگ چکا تھا جس کو اپنی پوجا کروانی تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھے مہینے پلک جھپکتے ہوۓ گزر گئے ۔ اور خدا قسم یہ بیان بیگم کا رہا ۔ میرا تو ایک ایک پل یہاں قید سے کم نہیں تھا ۔ ہمارا امتحاں ہوا اور ہم دونوں اس میں پاس ہوگئے ۔ جس دن امتحان ہوا اس رات ہم باقاعدہ نازکستان کے شہری بن چکے تھے جس کی مہر رات بیگم کے تھپڑ نے میری گال پہ ثبت کر دی تھی ۔
بات کچھ خاص نہیں تھی بس بیٹھے بیٹھے بیگم کو عمرہ سے پہلے اس کا ناول کی کہانی سنانا یاد آ گیا تھا ۔ میں نے بہت معافی مانگی مگر اس کا غصہ عروج پہ تھا ۔ نازکستان میں آنے کے بعد یہ پہلی رات تھی جؤ میں نے صوفہ پہ سو کر گزاری تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے ہی دن بیگم کے نام وزارت کا خط آیا جس کے مطابق بیگم کو اس کی بچپن میں حاصل کی گئی تعلیم اور ٹریننگ میں بہتر نتیجہ دینے کی بنیاد پہ بیگم نگر کا ڈپٹی کمشنر بنا دیا گیا تھا ۔ ہمارے گھر میں رونق ہی رونق تھی ۔بیگم جمال بہت خوش تھیں مگر قدوسی کا رو رو کر برا حال تھا ۔
اس کے مطابق میرے جانے سے وہ دوبارہ اکیلا پڑ جانے والا تھا ۔

خیر ہمیں جانا پڑا ۔ وہاں ہمارے رہنے کا انتظام وزارت نے کر دیا تھا ۔ مجھے اب سامان پیک کرنا تھا جؤ میں اور شبراتی نے مل کر کر دیا ۔ میں نے بیگم سے درخواست کی کہ شبراتی کو ساتھ لے جائیں جؤ منظور کر لی گئی اور اس طرح ہم بیگم نگر آ گئے ۔

۔۔۔۔۔
خاتون آباد صدر مقام تھا مگر بیگم نگر نازکستان کا بہت اہم متمول تجارتی مرکز تھا ۔ یہاں شرفا رہتے تھے ۔ سو بیگم نے مجھے خاص طور پہ اپنے ” طور طریقے ” بدلنے کا حکم دیا ۔

یہاں سب نیا نیا تھا ۔ بیگم صبح کام پہ چلی جاتی اور رات گئے واپس آتی ۔ میں اور شبراتی سارا سارا دن کام کاج میں جتے رہتے ۔ نوکری بڑی تھی ذمہ داری زیادہ تھی سو روز ہی کئی کئی مہمان گھر آتے جن میں عام لوگوں سے لے کر کاروباری و حکومتی وزرا تک ہوتے ۔ بیگم ان کی مہمان نوازی میں کوئی بھی کمی برداشت نہیں کرتی تھیں ۔ سو مجھے ہر وقت کمر باندھے کام کاج کرنا پڑتا ۔ مسلسل کام کاج نے میرے حسن کو ماند کر دیا تھا چولہا چوکا کر کر کے میرا رنگ کالا پڑ گیا تھا ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ بیگم اور میری قربت میں کمی آتی گئی ۔
اور میں مرجھا گیا ۔
لگتا تھا جیسے ایک معصوم سی کلی زندگی کے آخری مراحل میں آ گئی ہے ۔ بیگم کی بے توجہی نے میرا سینہ غمؤں سے بھر دیا تھا ۔ میری حالت اس عاشق جیسی تھی جؤ اپنے محبوب کے ایک دیدار کے لئے اپنی عمر قربان کر سکتا تھا ۔ مجھے یہاں قدوسی صاحب کی بے حد یاد آئی ۔۔ اور معلوم ہوا کہ مرد ذات تو پیدا ہی ظلم سہنے کے لئے ہوئی ہے ۔ میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا ۔۔ دن بھر کام کاج کے دوران جب بھی موقع ملتا پھول ہاتھ میں لے کر ان کی پتیاں توڑ توڑ کر ” ثمینہ لووز می ” ثمینہ لووز می ناٹ ” کرتا رہتا ۔
اور تو اور کچھ ٹوٹے پھوٹے اشعار بھی لکھ ڈالے تھے ۔۔کئی مرتبہ اپنی جان لینے کی کوشش کی مگر ہمت نہیں ہوئی ۔ یہی سوچ کر رک گیا کہ اگر میں مر گیا تو بیگم کا خیال کون رکھے گا رہ رہ کر سوتنے کا خیال روح کو چھلنی کئے رہتا ۔
اور دوسری طرف بیگم تھی ۔ روز بروز نکھرتی ہی جا رہی تھی ۔
جس کی وجہ کچھ دن بعد سامنے بھی آ گئی ۔
جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں