خدا نخواستہ

عدالت فیصلہ سنا چکی تھی میری سانس میں وقتی طور پہ سانس آ گئی مگر یہاں رہنا ؟ یہاں کے طور طریقے سیکھنا !!!!!
یہاں کے طور طریقے کیسے ہوں گے یہ مجھے یہاں سب دیکھ کر کسی حد تک اندازہ ہو چکا تھا مگر ! اندازے سو فیصد کہاں ٹھیک ہوتے ہیں ۔

ہمیں ایک بڑی سی گاڑی میں بٹھا کر ایک نامعلوم منزل پر بھیج دیا گیا ۔ دو پولیسنییاں ہمارے ساتھ تھیں ۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ایک سے پوچھا : ایکسکیوز می ؟؟؟

ایک پولیس والی نے خون خوار نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا : تمہاری ٹریننگ شروع نہ ہوئی ہوتی تو تجھے بتاتی ۔ بول کیا بات ہے ؟

” وہ جس ہال میں ہمیں بٹھایا گیا تھا وہاں کون سی خواتین کی تصویریں لگی تھیں !

” وہ ہماری بزرگ ہیں آج ان کی وجہ سے ہم یہاں زندہ ہیں ۔ انہوں نے اس ملک کو قائم کیا اور اس مقام تک پہنچایا ” وہ دیکھے بنا بڑی عقیدت سے بولی

” ان کی تصویروں کے ساتھ صرف تاریخ وفات درج تھی ، تاریخ پیدائش کیوں نہیں تھی ؟ میں نے ہچکچاتے ہوۓ اگلا سوال پوچھا

” ابے گھامڑ ! تو کیا عمر لکھ دیں ! نازکستان میں کسی عورت کی عمر پوچھنا قانوناً جرم ہے اور اس کی سزا دس سال قید ہے ”

” میری آنکھوں میں چمک ابھری ! چلو کچھ تو پاکستان جیسا سننے کو ملا ۔

گاڑی کافی دیر چلنے کے بعد ایک بڑی سی عمارت کے سامنے آ کر رک گئی ۔ ہمیں اندر لے جایا گیا ۔ اندر ایک دراز قد خوب صورت خاتون تھیں جنہوں نے نیلی وردی پہن رکھی تھی ۔ میں اس وقت برقعہ میں تھا سو انہوں نے آگے بڑھ کے میری بیگم کو سلام کیا اور کہا :
ثمینہ بیگم ! آپ یہاں سرکاری مہمان ہیں ۔ میرا نام جمال آرا ہے اور میں اس علاقہ کی ایس ایچ اؤ ہوں ۔ آپ اگلے چھے مہینے تک اس گھر میں رہیں گے ۔ آپ کو دو ملازمہ اور ایک ملازم دیا گیا ہے ۔ آپ کا مہینے کا وظیفہ سرکار ادا کرے گی آپ اسی میں گزارا کریں گے ۔ میں اور میرے میاں یہاں آتے جاتے رہیں گے ۔

اس کے بعد ہمیں اس مکان میں ٹھہرا دیا گیا ۔ ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود تھی ۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ شہر اور اس کی چیزیں کچھ پرانے سٹائل کی ہیں ۔ جیسے میں پچاس ساٹھ سال پیچھے آ گیا ہوں ۔ میں نے راستے میں کسی لڑکی کے ہاتھ میں موبائل نہیں دیکھا ۔ کوئی بھی لڑکی جینز پہنے ہوۓ نہیں تھی ۔ کسی بھی گھر کے اوپر ڈش نہیں تھی حتیٰ کہ کسی گلی میں کیبل کا آفس تک نہیں تھا ۔

خیر وہ دن ہم دونوں میاں بیوی نے ساتھ گزارا ۔ بیگم کا ڈر اتر چکا تھا ۔ اترتا بھی کیسے نہ ۔۔ تمام حالات اس کے حق میں تھے ۔ اصل پریشانی تو مجھے تھی ۔

رات جمال آرا کے گھر سے کھانا آ گیا ۔ ہم دونوں نے کھانا کھایا ۔۔ بیگم نے میرے پاؤں دبائے اور ہم دونوں سو گئے ۔

اگلی صبح حیرتوں کے پہاڑ میرے سامنے تھے ۔ آٹھ بجے ہی بیگم کو لے جانے سرکاری گاڑی آ گئی جس کو بہت ہی خوب صورت باوردی ڈرائیورنی چلا رہی تھی ۔ معلوم پڑا کہ بیگم کی ٹریننگ شروع ہو چکی ہے ۔ یعنی کہ اب گھر میں مجھے رہنا تھا ۔

میں بیگم کے جانے کے بعد کسمساتا ہوا دوبارہ بستر کی جانب گیا کہ چلو گھڑی دو گھڑی مزید سو جاؤں مگر جیسے ہی لیٹا مجھے ایسے لگا کوئی میرے سینے پہ چڑھا ہوا ہے ۔ گھبرا کر میں نے آنکھیں کھولیں تو نظروں کے سامنے عجیب الخلقت مرد موجود تھا ۔

ارے کون ہو تم ؟ میں نے پوچھا

ہم شبراتی ہیں حضور ! اس نے انتہائی نزاکت بھرے انداز میں کہا ۔ ایسی نزاکت دیکھ کر مجھے موت کے کنؤیں کا کھسرا پروین سٹپنی یاد آ گیا جؤ منہ سے دس کا نوٹ پکڑا کرتا تھا ۔

” ہاں مگر تم ہو کون ؟

صاحب ہم آپ کے نوکر ہیں ۔ شبراتی نے اپنے داتن سے صاف کئے دانت نکال کر جواب دیا ۔

اگلے ایک گھنٹے کے بعد میں اور وہ گھر کے اندر مردانہ حصہ میں بیٹھے پھلیاں چھیل رہے تھے ۔

شبراتی یہ کیسی دنیا ہے ؟

صاحب کیا مطلب ؟

مطلب کہ تم یہیں پیدا ہوۓ ؟

جی صاحب ۔ ہم سلمیٰ لوہارن کے گھر میں پیدا ہوۓ ہمارے والد مسکین افضل نے ہمیں پالا تھا ۔

نہیں یار ! مطلب یہ کہ یہاں مرد نہیں ہیں کیا ؟

لو صاحب کیوں نہیں ہیں ۔ اتنے مرد ہیں ۔ مگر سب پردے میں رہتے ہیں نا ۔۔
مشرقی مرد کی یہی تو خاصیت ہے کہ جان چلی جاۓ مگر پردہ نہ جاۓ !

تو کیا یہاں سب مرد پردہ کرتے ہیں ؟

جی صاحب ؛ پردہ نہ کریں تو کوتوالنی پکڑ لیتی ہے ۔ آٹھ سال قید ہے ۔ کبھی کبھی تو مار بھی دیتے ہیں ۔

تو کیا مرد اس کے خلاف نہیں بولتے ؟

شبراتی نے حیرانی سے میری طرف دیکھا جیسے میں نے کوئی انہونی بات کی ہو ۔

صاحب !!!! اللّه نے مرد ذات کو صبر اور برداشت کرنے کو ہی بنایا ہے ۔ پیدا ہوتا ہے تو کوئی خوشی نہیں مناتا ، اس کو تعلیم نہیں دی جاتی ۔ ابھی کھیلنے کے دن ہوتے ہیں کہ ماں رشتہ کر دیتی ہے ۔ بیچارا اپنی مرضی کے خلاف دلہنیا گھر سدھار جاتا ہے ۔ وہاں ساری زندگی اس کی خدمت کرتا ہے اور صلہ میں وہی لعنت پھٹکار ملتی ہے ۔ اللّه بخشے ہمارے ابا کو ۔ اماں جان نے تو ان پہ دو دو سوتنے بٹھا رکھے تھے ۔۔۔

سوتنے ؟؟؟؟

شبراتی نے اپنے نادیدہ آنسو پونچھتے ہوۓ کہا ۔

ہاں نا ۔۔۔اماں نے تین شادیاں کر ڈالیں تھیں ۔ ابا کے دل میں یہی دکھ رہا کہ میری سہاگن نے میری قدر نہیں کی ۔ انہوں نے چپ سادھ لی ۔ مجھے بیاہنے کے بعد قدرے سکون آیا مگر جوڑوں کے درد نے کہیں کا نہ رہنے دیا اسی حالت میں اللّه کو پیارے ہو گئے ۔

میری آنکھیں کان ناک گلا اور جو کچھ جسم کا حصہ تھا سب پھٹا کا پھٹا رہ گیا ۔

شبراتی یہ کون سی دنیا ہے ؟ میری گھگھی بندھ گئی ۔

بس صاحب دعا ہے مولا آپ کا سہاگ سلامت رکھے ۔ چلیں پھلیاں چھیلیں پھر چولہا چوکا بھی کرنا ہے ۔

جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں