خدا نخواستہ

( یہ مختصر ناول اردو کے بہت اچھے مزاح نگار جناب شوکت تھانوی کے ناول ” خدانخواستہ ” کے مرکزی خیال اور واقعیات سے متاثر ہو کر لکھا جا رہا ہے ۔ اس کو نہ پڑھا تو کچھ نہ پڑھا )

پہلی قسط

پاکستان میں شادی کرنا مرد کے لئے ایک خود ساختہ عذاب سے کم نہیں ہے ۔ میری ہی زندگی لے لیں ۔ کتنے ارمان سے میری ماں اور بہنیں سارا شہر چھان کر میرے لئے ایک عدد بیوی لے کر آئیں ۔
عجب بات تو یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی مجھے میری ماں نے اپنی ہونے والی بیوی کے دیدار سے محروم رکھا ۔ ان کا کہنا تھا ، ” چاند کا ٹکڑا ہے میری بہو !!! کیا تجھے ہماری پسند پہ یقین نہیں ؟؟ اور اس کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی بہنے لگتی اور مجھے اگلا ایک گھنٹہ لگا کر اپنا بچپن میں پیا گیا دودھ بخشوانا پڑتا ۔
بہنیں تو خیر ویسے ہی بہت خوش تھیں ۔ خوش کیوں نہ ہوتیں ۔۔۔ میں ان کا سب سے لاڈلا اور چھوٹا بھائی جؤ تھا ۔
اور رہا میرا سوال ؟؟؟؟؟

میری خوشی صرف وہ بچہ سمجھ سکتا ہے جس کو راہ چلتے اس کا باپ ہاتھ پکڑ کر بولے ” آ بیٹا تمہیں چجّی لے دوں ”
مجھے چجّی مل رہی تھی اورایسا کون کم بخت بچہ ہو گا جس کو چجّی پسند نہ ہو ۔

گھر کا چھوٹا ہونے کے سبب شادی کی تمام تیاریوں میں میری شمولیت بس اتنی ہی تھی جتنی شمولیت پارلیمانی نظام میں صدر کی ہوتی ہے ۔ خاص طور پہ جب 58:2b بھی میسر نہ ہو ۔ حد تو یہ کہ میری شیروانی سے لے کر میری بیڈ شیٹ کا رنگ تک میری بہنوں کی مرضی کا تھا ۔
میرے دوست میری شادی پہ خوش تھے ۔ ظاہر ہے کمینے لوگ ہی دوسروں کی مصیبت میں خوش ہوتے ہیں ۔ جس عذاب کو وہ کئی سالؤں سے سہہ رہے تھے اب میں اس میں شریک ہونے والا تھا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔
بھلا ہو منیر ٹنڈے کا جس سے کچھ دن پہلے پان کھاتے ہوۓ ایک نادر نسخہ ہاتھ لگ گیا کہ ” بیٹا یاد رکھنا !!!!
کمرے میں جاتے ہی بلی مار دینا ”
میں نے پوچھا چاچا منیر !!! بلی کہاں سے آئی ۔۔

چاچے نے اپنا منہ میرے کان کے قریب لاتے ہوۓ چند واہیات باتیں کیں جنہیں سن کر میں لال و لال ہو گیا ۔ اس کے بعد اس نے اپنا منہ ہٹایا اور اپنے تمباکو بھرے منہ پہ فٹ ہوئیں دو پیلی آنکھوں میں سے ایک آنکھ ماری اور ترسی ہوئی ہنسی ہنسنے لگا ۔
مجھے گیدڑ سنگھی مل چکی تھی ۔ میں اب مطمئن تھا ۔

شادی ہوئی ۔۔۔ گو مجھے اپنی شادی پہ پوری بوتل نہیں ملی مگر میں خوش تھا کہ میرے حجلہ عروسی میں ایک نئی رضائی میرا انتظار کر رہی ہے ۔
بچپن سے اب تک دو پرانے کمبل جوڑ کر سونے والے انسان کو بیوی سے زیادہ سرخ مخمل چڑھی رضائی فیسینیٹ کرے تو قوم کے حکمرانوں کو ویسے ہی خود کو گولی مار دینی چاہیے

اللّه بخشے میرے سسر کو ، میری بیوی لاکھوں میں ایک تھی ۔ ایسی بھلی مانس اور سادہ بیوی سچ میں لاکھوں میں ایک ہوتی ہے ۔ سہاگ رات سے اگلے ہفتے تک اس نے میری ایک بات پہ چوں تک نہیں کی ۔
گو میرے دوست کا کہنا تھا کہ بیوی کو ہلکا پھلکا ” چوں ” کرنا چاہیے تھا مگر میں خوش تھا ۔ میری زندگی میں وہ واحد انسان آ چکا تھا جس پہ کم از کم میں اپنا ” حکم ” چلا سکتا تھا ۔
میں اب کام سے آتا تو وہ میرے سامنے کھانا رکھتی ، میں کھانا کھا کر باہر چلا جاتا اور وہ میرا انتظار کرتی ۔ میں رات گئے واپس آتا اور وہ آدھی نیم اور آدھی نیند باز آنکھیں لئے میرا انتظار کرتی ۔۔۔ میرے مزے ہی مزے تھے ۔
میری ماں خوش تھی میری بہنیں اپنے اپنے گھروں میں جا چکی تھیں ۔
میری بیوی نے گھر سنبھال لیا تھا ۔ بلکہ گھر کہنا مناسب نہیں ۔۔ اس نے اصل میں کچن سنبھالا ہوا تھا ۔ گھر تو میری ماں کے زیر سایہ تھا ۔
بیوی کے ہاتھوں میں بے انتہا ذائقہ ہونے کی وجہ سے میں کئی بار اپنے دوستوں کو ان کی بیویوں سمیت بلا کر اچھے اچھے کھانے کھلا کر ان کے گھروں میں ” شرلی ” چھوڑ چکا تھا ۔ جس کا خاطر خواہ اثر بھی سامنے آ رہا تھا کہ دوستوں کی محفل میں ” بھابی بھابی ” ہونے لگ گئی تھی ۔
میرا سینہ فخر سے چوڑا اور گردن آسمان کو چھونے لگ گئی تھی ۔۔۔
سب کچھ اچھا جا رہا کہ ایک دن میری ماں نے ایک حکم صادر فرما دیا ۔
” علی بیٹا !!! دیکھو بیٹے عمر کا کوئی پتا نہیں ہوتا ۔ تمھارے باپ نے شادی کے بعد مجھے عمرہ و حج کروا دیا تھا ۔۔۔
آج میں اس عمر میں بیت اللّه کا حج بھی کر چکی ہوں ۔ میری مانو تو تم بھی بیگم کو لے کر عمرہ کر لو ۔ بوڑھے ہو کر جاؤ گے تو دھکے کھاتے رہو گے ۔ اللّه نے وسائل بھی دئے ہیں اور طاقت بھی ۔ اب ہمت تم دکھا دو ۔

” اماں جان آپ کی بات سر آنکھوں پہ ۔۔ مگر میں سوچ رہا تھا کہ ہنی مون پہ چلا جاؤں !! میں نے تھوڑا ڈھیٹ بن کر کہا ۔۔

اے لو ۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔ اب اسی کی کمی رہ گئی تھی ۔ ارے میاں اور کتنا ہنی مون منانا ہے ؟ آتے ہی کمرے میں گھس جاتے ہو ساری ساری رات بیوی کے چرنوں میں بیٹھے رہتے ہو ۔ اپنا رنگ دیکھو ! پیلا پڑتا جا رہا ہے اور بہو روزبروز نکھرتی جا رہی ہے ۔ ہاۓ اللّه اگر تم ہنی مون پہ چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو واپسی پہ بہو تم کو گود میں اٹھا کر لاۓ ۔ اماں نے میری کتے والی کر دی ۔
مگر اماں جان ۔۔۔ ہم کہیں بھی نہیں گئے 🙁
میں اب روہانسہ ہو گیا ۔

بس میں نے کہہ دیا ہے ۔ تم دونوں عمرہ پہ جاؤ گے ۔

میں اپنا سا منہ لے کر کمرے میں آ گیا اور بیگم کو یہ مژدہ سنایا

بیگم نے حسب معمول ” چوں ” تک نہیں کی ۔
اور آج مجھے اس کا ” چوں ” نہ کرنا اتنا کھٹکا کہ لگا کہ یہ میری ماں کے ساتھ اس سازش میں برابر کی شریک ہے ۔

مرتا کیا نہ کرتا ! آفس سے چھٹی لی اور عمرہ کے حوالے سے ضروری معلومات حاصل کرنا شروع کر دی ۔
اگلی رات سونے لیٹا تو زندگی میں پہلی بار بیگم نے ہاتھ سے ہلایا ۔۔

میں نے بند آنکھوں سے ” ہوں ” کہا ۔۔۔ تو وہ بولی ۔

” اماں جان صحیح کہتی ہیں ہمیں عمرہ کرنا چاہیے ۔ میری بچپن سے خواہش تھی کہ میں اپنے جیون ساتھی کے ساتھ عمرہ کروں ۔ ” پتا ہے میں نے ایک ناول پڑھا تھا جس میں ہیروئین بھی اپنے پہلے شوہر کے ساتھ عمرہ کرتی ہے ۔ آج مجھے لگ رہا ہے وہ ناول میرے لئے ہی لکھا گیا تھا ۔۔۔۔ بیگم روانی میں بول رہی تھی ۔۔
” پہلے شوہر ؟؟؟؟ میں چونکا ۔۔۔

ہاں جی وہ اس ناول میں ہیروئین کی تین بار شادی ہوتی ہے ۔ پہلے شکیل سے شادی ہوتی ہے اور دونوں عمرہ کرتے ہیں ۔۔۔پھر ایک غلط فہمی پہ شکیل اسے طلاق دیتا ہے تو وہ منور سے شادی کر لیتی ہے اور اس کے ساتھ عمرہ کرتی ہے ۔۔ پھر منور کا قتل ہو جاتا ہے اور شکیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ پھر اس سے شادی کر لیتا ہے ۔۔ بیگم نے ناول کی کہانی ڈسکلوز کر دی ۔

” تو وہ شکیل کے ساتھ دوبارہ عمرہ نہیں کرتی ؟؟ میں نے سوال پوچھا ۔۔

” نہیں تو ۔۔۔پہلے جؤ کر لیا ہوتا ہے ۔ بیگم بولی ۔

” تو پھر دوبارہ وہ کیا کرتی ہے ؟ اس بار شادی میں عمرہ پیکج نہیں تھا کیا ؟؟ میں نے پھر سوال پوچھا ۔

” نہیں بس وہ ہنسی خوشی رہنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔ وہ خوشی سے بولی ۔۔

” اور تم کو لگتا ہے کہ یہ کہانی تمھارے لئے لکھی گئی ہے ؟؟؟ میں اب مطلب کی بات پہ آیا

” ہاۓ نہیں نہیں ! اللّه معافی میں نے تو صرف عمرہ کے حوالے سے کہا ۔۔۔ بیگم کو غلطی کا احساس ہو گیا ۔۔

” اٹھ ۔۔۔۔ چل اٹھ ۔۔۔ صوفے پہ جا کر سو ۔۔ قسم سے میں پہلے ہی اپنے ارمانوں کو مٹی میں ملتا دیکھ رہا ہوں اور تم مجھے عمرہ ناولؤں کے عمرہ پیکج بتا رہی ہو ۔ میرا دماغ سٹک گیا ۔۔۔اور شادی کے بعد پہلی رات تھی جس میں بیگم کو صوفہ پہ سونا پڑا ۔
اگلی صبح ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے اس ساری صورت حال کا ایک بہتر سجھاؤ دیا جؤ میں نے گھر آتے ساتھ والدہ کے سامنے رکھ دیا ۔

” ہممم !!! دیکھ بیٹا وقت بھی لگ جاۓ گا ۔۔۔ تمہاری اتنی چھٹی بھی نہیں ہے اور میں کیسے گزارا کروں گی ؟

اماں ! میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا اصل میں کل ہی مجھے ایک نئی نوکری کی آفر آئی ہے اور میرا ارادہ وہاں جانے کا ہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہاں سے چھوڑ کر عمرہ پہ جاؤں اور واپس آ کر ان جؤ جوائن کروں ۔ ماں دیکھو نا ۔۔۔ پھر ساری زندگی ایسے ہی رہنا ہے ۔ ایک بار مجھے میری مرضی کرنے دو صرف ایک مہینہ کی ہی تو بات ہے ۔

ماں نے فورا واٹس ایپ اپنی تمام بیٹیوں کو میری تجویز کے بارے میں بتایا اور کوئی آدھے گھنٹے کی گفتگو اور اموجیز کے تبادلے کے بعد آخر کار مجھے عمرہ پہ جانے کی اجازت مل گئی جس کے مطابق مجھے عمرہ کر کے واپس بذریعہ شپ دوبئی سے واپس آنا تھا ۔ میرے لئے اتنا ہی بہت تھا ۔۔ میری آنکھوں کے سامنے ابھی سے دوبئی کا ساحل اور ۔۔۔۔ وہاں موجود مختلف چیزیں آ گیں ۔۔۔
اگلے پندرہ دن میں نے انتظار میں گزار دئے اور پھر ہم دونوں میاں بیوی عمرہ پہ چلے گئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمرہ بخیریت ادا ہوا اور اس کے بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے دوبئی گئے جہاں دو تین دن سیر کے بعد ہم ایک دوست کی مدد سے پرائیویٹ شپ میں واپسی کے لئے سوار ہو گئے جس نے ایران سے ہوتا ہوا ہمیں کراچی اتارنا تھا اور آگے ممبئی جانا تھا ۔
وہ میری زندگی کے یاد گار دن تھے !
میں اور میری بیگم اس جہاز میں اکیلے پاکستانی تھی باقی تمام لوگ ممبئی اور دوبئی کے تھے ۔
بیگم خوش تھی اور میں ڈبل خوش تھا ۔ سفر میں سستی تھی کہ سب کا مقصد تفریح تھا ۔ وہاں پارٹیز ہوتیں اور دل بہلانے کو بہت کچھ موجود رہتا ۔
تیسرا دن تھا آسمان صاف تھا اور سمندر پرسکون تھا ۔ دن کا وقت تھا ہمارا جہاز بہت آہستگی سے کھلے سمندر میں اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک جہاز میں عجیب سی ہلچل ہونے لگی ۔ میں اور بیگم اپنے سویٹ میں موجود تھے ۔ میں باہر عرشے کی طرف آیا تو حیران رہ گیا تھوڑی دیر پہلے جؤ۔سمندر پرسکون تھا وہ بپھر چکا تھا ۔ آسمان بھی زرد ہو رہا تھا ۔
اچانک سمندر میں بڑی بڑی لہریں اٹھنا شروع ہو گئی ۔
ہمارا ننھا سا جہاز ڈولنے لگا ۔ جہاز کے کپتان نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ۔ تمام لوگوں کو ایک ایک آکسیجن ماسک اور لائف جیکٹ تھما دی گئی ۔ جہاز میں۔ہڑبونگ مچی ہوئی تھی ۔
میں اپنی بیگم۔کا ہاتھ تھامے دعا کر رہا تھا ۔ کہ اچانک جہاز دائیں جانب ڈول گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری آنکھ کھلی تو آسمان پہ پرندوں کو اپنے اوپر اڑتا پایا ۔ ساتھ بیگم بے ہوش پڑی ہوئی تھی ۔
نیچے ایک لائف بوٹ تھی ۔۔۔
مجھے گزرا ہوا وقت یاد آنے لگا ۔۔جہاز ڈوبنے سے پہلے ہم دونوں نے ایک لائف بوٹ کو سمندر میں گرا دیا تھا اور اس پہ چڑھ گئے تھے ۔
مجھے تو لگا تھا کہ بس اب زندگی ختم ہو جاۓ گی مگر ۔۔۔۔
زندگی تو اب شروع ہوئی تھی ۔

تھوڑی ہی دیر بعد کنارہ نظر آ گیا اور وہاں میری زندگی کا سب سے حیران کن منظر تھا ۔۔۔
میں نے بیگم کو ہاتھ سے ہلا کر جگایا ۔۔ وہ آنکھیں ملتے ہوۓ اٹھ بیٹھی
اور قریب تھا کہ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ دوبارہ بے ہوش ہو جاتی ۔۔ میں نے اسے بازوں میں جکڑ لیا

جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں