سرد قاتل

دوسرے دن وہ شام کو ٹیرس پر آگئی تاکہ آذر کے گھر جا کر اس کو جی بھر کر شرمندہ کر سکے . مگر آج آذر نہیں آیا تھا دوسرے دن نسرین سے پتا چلا کے وہ اپنے گھر اسلام آباد گیا ہے … ہنہہ ..ڈرپوک .. کبھی تو ائیگا نا
سنو نسرین آج بریانی بناتے ہیں روشنی نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے کہا .. ..مگر لیموں ختم ہیں
بی بی جی ..آذر بھائی کے لان میں بڑے رس بھرے لیمو لگے ہیں …نسرین نے چٹخارے بھرتے کہا …
پلیز نسرین بھاگ کر جاؤ مالی بابا سے آٹھ ، یا دس لیمو لے آؤ …
بی بی جی توبہ کریں ،میں تو کبھی نا جاؤں ..آذر بھائی کو پتا چلا تو بہت غصہ کریں گے ..
وہ مرغی چور …دوسروں کی مرغیاں چراتے خیال نہیں آتا اپنے لیموں کا بڑا خیال ہے .. روشنی بڑبڑئی
بی بی جی اپ نے کچھ کہا ؟
کچھ نہیں ….میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں وہ چادر اوڑھ کر نسرین کا ہاتھ پکڑے باہر آگئی
.. نہ کریں بی بی جی ..نسرین منمنائی ..
چپ کرو ..دن کے تین بجے تھے باہر ہر سو سناتا تھا بنگلے کی بیل بجانے لگی تھی کے نسرین کی آواز آئی ..بی بی جی دروازہ کھلا ہے .
یہ دروازہ اس ٹائم کیوں کھلا ہوا ہے اس نے نسرین کی طرف دیکھا …
پتا نہیں بی بی جی واپس چلیں مجھے تو ڈر لگ رہا ہے ..
ایک منٹ دیکھنے تو دو .. روشنی نے دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا دروازہ کھلتا چلا گیا
اندر سناٹا تھا ، مالی بابا پتا نہیں کہاں تھے .. روشنی نے نسرین کو انگلی کے اشارے سے چپ کا اشارہ کیا اور اسے وہیں کھڑے رہنے کے لئے کہا تاکہ کوئی بھی آئے تو نسرین اسے خبردار کر سکے وہ دبے پاؤں لان کے اس حصے کی طرف بڑھی جہاں لیموں لگے ہوۓ تھے .. اوہ شٹ .. لیموں کس میں ڈالوں ….اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی  کوئی شاپر نظر آجاے مگر ..اس نے آٹھ ، لیموں اپنی چادر کے ایک کونے میں ایک پوٹلی کی طرح باندھ لئے …اب پتا چلے گا نہ جب لیموں کا پودا خالی دیکھے گا سرد انسان ..وہ اٹھ کھڑی ہوئی کے کچھ آوازیں اسے سنائی  دیں ..اس نے نسرین کو اشارے سے آنے کے لئے کہا …بی بی جی چلیں کوئی آجائے گا
نسرین تم نے تو کہا تھا آذر اپنے گھر گئے ہیں ..پھر یہ آوازیں …
تمہیں کچھ آوازیں سنائی  دیں ..؟
نہیں جی ..
رکو شاید اندر کوئی ہے …وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر لان کی پچھلی سائیڈ ،جہاں کامن روم کی کھڑکی تھی اس طرف چلی آئی کھڑکی اونچی تھی ، سنو نسرین وہ ڈرم لے کر آنا …اس نے سرگوشی میں نسرین سے کہا … بی بی جی واپس چلیں ..روشنی نے نسرین کو آنکھیں دکھائیں ..نسرین نے ڈرم کھڑکی کے نیچے رکھا
…تم میرے پیچھے ہی کھڑی ہو جیسے ہی کوئی آئے ہلکا سا کھانس دینا ..وہ ڈرم پر کھڑی ہوئی ابھی بھی کھڑکی تھوڑی اونچی تھی وہ پنجوں کے بل کھڑی ہو کر کھڑکی پردونوں بازو رکھ کر لٹک کر اندر جھانکنے لگی ..
باجی جی ..نسرین کی منمناتی آواز آئی ..چپ کرو کتنا ڈرتی ہو یار مجھے تو لگتا ہے وہ تمہارا ایجنٹ بھیا ادھر ہی ہے مجھے تو پہلے ہی شک تھا کوئی بڑا سمگلر ہے اور تم بڑی تعریفیں کر رہی تھیں شرافت کی…. اندر لڑکیاں بھی ہیں ..کھڑکی کے پردے کو ہلکا سا ہٹا کر اندھیرے میں دیکھنے کی ناکام کوشش کرتے وہ سرگوشی میں نسرین سے بولی …
باجی جی آذر بھائی ..نسرین کی کپکپاتی آواز آئی …کیا آذر بھائی ..ایک نمبر کا فراڈیا ہے ..تمہیں کہہ رہی تھی نا کوئی ہے وہ ہٹلر اندر کہیں سگریٹ پھونک رہا ہے کتنی سمیل. آرہی ہے …یہ کہتے اس نے پیر ڈرم پر رکھنے چاہے مگر ڈرم شاید اس کے لٹکنے کی وجہ سے کھسک چکا تھا …نسرین ڈرم رکھو کہاں گئی ..
کھڑکی کی چھوٹی منڈیر پر کب تک بازو کا سہارا رہتا دھڑام سے نیچے گری …آوچ… گرنے سے اس کے بازو پر زور کی کی رگڑ لگی اور نیچے گرنے سے چادر کے کونے میں اس نے جو لیموں باندھے تھ وہ بھی بکھر چکے تھے …وہ تکلیف بھول کر لیموں اٹھانے لگی کہ رک گئی ..یہ پاؤں نسرین کے تو …خیال آتے ہی جھٹکے سے سر اٹھایا آذر دانتوں میں سگریٹ دبائے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا …اس نے گھبرا کر اس پاس دیکھا نسرین کہیں نہیں  تھی .. تکلیف اور ڈر …خوف اور سبکی کے احساس سے روشنی کی انکھوں میں آنسو آگئے …

آذر پنجوں کے بل بیٹھ گیا .. اس وقت آپ میرے گھر میں کیا کر رہی ہیں ؟ اس نے اس کی آنسو بھری آنکھوں میں جھانکتے ہوے پوچھا ..اسے لگا وہ دیکھ نہیں  رہا اندر تک پڑھ رہا ہے
وہ…میں ..لیموں …نہیں  وہ آپ کا دروازہ کھلا تھا میں سمجھی شاید کوئی چور بے ربط بولتی تھوڑی پیچھے ہوئی … اسے لگا ابھی جلتا سگریٹ وہ اس کے بازو پر داغ دے گا ..
اس کے بازو پر رگڑ کی وجہ سے خون کی بوندیں نمودار ہونا شروع ہوگئی تھیں .. آذر نے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر رومال نکالا ..وہ سمجھی شاید اس کے ہاتھ پر باندھے گا مگر یہ کیا وہ سرد قاتل اپنے لیموں رومال میں اکھٹے کر رہا تھا . اس وقت روشنی کو اپنی تکلیف بھول گئی ..
کتنی فکر ہیں نہ آپ کو لیموں کی کبھی کسی کی مرغی چوری کرتے فکر کی ہے …؟؟?
آذر کے ہاتھ رکے ..اس کی طرف دیکھا … کیا مطلب ہے آپ کا ..
وہ کپڑے جھاڑتے اٹھ کھڑی ہوئی .جو خوف تھا وہ غصے میں کہیں  جا سویا تھا .اب مطلب بھی میں بتاؤں ؟
اس رات آپ ہی آئے تھے نا ڈھاٹا چہرے پر باندھ کر اور چھرا لے کر کیا سوچا تھا آپ نے ..میں آپ کو پہچانوں گی  نہیں؟
کیا ثبوت ہے آپ کے پاس وہ اس کے مقابل کھڑا ہوگیا .. اس کی آنکھیں روشنی کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں …
آپکی یہ آنکھیں… اور وہ گھڑی ..
اور ثبوت آپ کو کیوں دوں …؟ پولیس کو دوں گی .. یہ کہتی وہ آذر کی سائیڈ سے نکل گئی
کہیں وہ ثبوت یہ تو نہیں؟
وہ پلٹی اور حیرت سے اپنی جگہ جم سی گئی ..وہ گھڑی آذر کے ہاتھ میں تھی …یہ. گھڑی …. آذر کو دیکھا .. اسی وقت آذر نے سگریٹ کا دھواں چھوڑ دیا اس کا چہرہ چھپ چکا تھا ..وہ بھاگتی ہوئی گیٹ عبور کر گئی ..
بھاگتی ہوئی وہ اپنے کمرے میں آئی ..دراز کھولی تو گھڑی غائب. تھی ..یہ .. اسی جگہ تو رکھی تھی میں نے .. اس کے پاس کیسے کیا میں اور نسرین جب وہاں تھے تو کیا آذر یہاں تھا ..اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی  دی…اسے یاد آیا جلدی میں گیٹ بند کرنا بھول گئی تھی .خوف سے .اس کا حلق خشک ہوچکا تھا ڈرتے ڈرتے باہر دیکھا تو ایک بچہ ایک چھوٹے باؤل میں وہی لیموں لئے کھڑا تھا .
آپی یہ آذر بھائی نے بھجوائے ہیں انہوں نے کہا ہے بریانی بن جائے تو بھجوادینا …
یااللّه یہ بندہ انسان ہے یا جن ..روشنی نے اوپر کی طرف دیکھتے ہوے کہا ..
کوئی بریانی نہیں  ہے… جا کر کہہ دو اپنے آذر بھائی سے ..اس نے لیموں کا باؤل تقریبا جھپٹتے ہوے کہا….
بچہ الٹے قدموں دوڑ گیا تھا ..
وہ باؤل لئے دھیرے دھیرے چلتی کچن میں آگئی سلپ پر باؤل رکھا اور کرسی پر بیٹھ گئی ..
آذر کو کیسے پتا میں بریانی بنا رہی ہوں کہیں نسرین تو …نہیں ..وہ تو بہت ڈرپوک سی ہے اور وہ عورتوں کی آوازیں .. گھڑی کیسے لی اس نے … ایک دم اسے اپنے بازو پر تکلیف کا احساس ہوا وہ اٹھی بازو جہاں خراشیں آئی تھیں وہاں ویزلین لگائ… کتنا برف انسان ہے ذرا رحم نہیں ٹائم دیکھا چار بج چکے تھے .. نسرین کا کیا حشر کرے گا اب وہ ..خیر …کچھ کر کے تو دیکھے میں بھی پولیس بلالوں گی .. مما کے آنے میں دو گھنٹے تھے جلدی سے بریانی بنانے اٹھی ..
رات بریانی کھاتے مما کی نظر اس کے بازو پر پڑی ..روشنی یہ کیسے ہوا .؟.مما کچھ نہیں کچن میں گر گئی تھی .. اس نے بہانہ بنایا … بریانی بناتے بھاپ لگنے سے بازو سرخ ہوچکا تھا اور جلن بھی کافی تھی.
کچن میں رات برتن سمیٹتی اس کی نظر باؤل پر پڑی …کتنا چالاک انسان ہے .. اتنے بڑے باول میں اتنے سے لیموں ..ندیدہ کہیں کا .. اس نے باول میں بریانی بھری… اسے کچھ تو مزہ چکھانا چاہیے اس نے 5 ہری مرچیں باریک پیس کر بریانی میں مکس کردیں ..اب کھالے بریانی تصور میں ہی آذر کی حالت سے حظ اٹھایا المونیم فائل سے اسے کور کیا اور چپکے سے باہر آگئی …آذر کے گھر کی بیل بجائی ..آذر نے دروازہ کھولا ..یہ بریانی..میں مالی بابا کے لئے لائی ہوں وہ ایک دم گھبرا گئی ..
کون ہے آذر میاں … ہم آ ہی رہے تھے آپ کیوں دروازے پر آے
وہ آذر کو باؤل دے کر پلٹ آئی
مالی بابا جلدی پانی لائیں .. آذر نے شاید وہیں کھڑے کھڑے بریانی کھائی تھی آواز اس کے کانوں میں پڑی اسے شاید مرچ لگی تھی ..
اسکا بدلہ پورا ہو چکا تھا …
————————
حسب معمول وہ فجر کی نماز کے بعد جاگنگ کرنے نکل گئی .. صبح جاگنگ ٹریک پر بہت چہل پہل ہوتی تھی جوان ، بوڑھے ..کوئی جاگنگ کرتا نظر آتا تو کوئی گپیں ہانکتا .. وہ تھک کر بینچ پر بیٹھ گئی . .پانی کی بوتل منہ سے لگائی ہی تھی کے آواز ایی  ..
بدلہ پورا پورا لیتی ہیں آپ
وہ پانی پیتے چونکی .. آذر جاگنگ سوٹ پہنے اسی بنچ پر تھوڑے فاصلے بیٹھا تھا ..ادھار میں کسی کا نہیں  رکھتی ..بوتل کو ڈھکن سے بند کرتے روشنی نے آذر کو دیکھتے ہوے کہا
ویسے….کیسی لگی بریانی …روشنی کا انداز میں شرارت تھی
بہت سپائیسی اور کبھی آلو بخارے کی کھٹی میٹھی چٹنی جیسی ..
آذر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہا ..
وہ بچی نہیں  تھی جو آذر کا لہجہ اور الفاظ کے اتار چڑھاؤ کو نا پہچان سکتی ..
وہ گھر جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی .. آذر بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا
بازو کی تکلیف کیسی ہے .. اس کی نظر شاید اس کے بازو پر پڑی تھی رات ہی تکلیف کی وجہ سے اس نے بازو پر پٹی باندھی تھی …. روشنی نے اپنے بازو کو دیکھا.. آپ کو احساس بھی ہوتا ہے کسی کی تکلیف کا ..روشنی کے لہجے میں  واضح طنز تھا …
کیوں..؟ میں انسان نہیں ہوں ..آذر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
کل میرے پاؤں کے نیچے سے ڈرم ہٹا کر کون سا انسانیت کا ثبوت دیا تھا آپ نے … ؟ اور تو اور میرے بازو پر خون کی لکیر تھی مرہم لگانے کے بجاے آپ رومال سے ان لیموں کو اٹھا رہے تھے …
بریانی بناتے بھاپ لگنے سے کس قدر جلن ہوئی ہے ..اور رات بھر جلن ہوتی رہی ہے …
کچھ زخموں پر مرہم بھی اثر نہیں  کرتے کچھ زخم ایسے ہی جلتے رہنا چاہیے .. اس کے لہجے میں کچھ تھا …جیسے رات بار بار ٹھنڈا پانی بھی میرے سینے کی جلن کو مٹا نہیں  سکا
آپ کو بھی تو بریانی میں مرچ بھرتے مجھ پر ترس نہیں آیا …رات بھر سینہ جلتا رہا .. ٹھنڈا پانی بھی بے اثر رہا…
وہ اس کے لفظوں میں الجھ گئی تھی اور اسی الجھن میں راستے میں رکھے پتھر سے اسے زور سے ٹھوکر لگی اس سے پہلے کے وہ لڑکھڑاتی آذر نے اسے تھام لیا ….
آرام سے …کہاں دھیان ہے آپ کا ..اور جھک کر پتھر کو ہٹایا …ابھی گرجاتیں آپ …اور وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کل خود اسے گرانے والا آج پتھر کی ٹھوکر لگنے سے فکر مند ہورہا تھا..
ٹھوکر لگنے کی وجہ سے اس کا پاؤں تھوڑا مڑ گیا تھا جس کی وجہ سے اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی ..
آپ ٹھیک تو ہیں ..وہ بہت فکرمندی سے پوچھ رہا تھا …
وہ ساتھ ہی رکھی بنچ پر بیٹھ کر اپنا پاؤں دبانے لگی …
دکھائیں…میں دیکھتا ہوں زیادہ چوٹ تو نہیں  آئ
نہیں …کچھ زیادہ نہیں  پاؤں مڑا ہے تو تھوڑی تکلیف ہے ..روشنی نے اپنا پاؤں کھینچتے ہوۓ کہا …
کل گھر میں کچھ فرینڈز آئے ہوے تھے جن کو آپ سمگلر سمجھیں … وہ مسکراتے ہوئے بتا رہا تھا …
وہ ایکدم جھینپ گئی …میرے کچھ عزیزساتھی ہیں جو کبھی بھی مجھ سے ملنے آجاتے ہیں تو اچھا وقت گزر جاتا ہے …
اور اسی وجہ سے آپ لوگوں کے گھروں میں ڈاکے ڈالتے ہیں تاکہ اپنے دوستوں کی خاطر مدارت کرسکیں ..
ہاہاہاہا …. آذر بیساختہ ہنسا ….
اگر پڑوسی اتنے بے مروت ہوں خود تو مزے مزے کے کھانے کھاتے ہوں غریب پڑوسی کا نہ سوچیں تو ایسے ڈاکے مارنے ہی پڑتے ہیں ..
اسے حیرت ہوئی ..کتنی ڈھٹائی سے اعتراف کر رہا تھا
آذر کی نظریں کہیں  دور افق پر تھیں اور وہ اس کے دھوئیں سے پاک چہرے کو دیکھ رہی تھی …وہ بہت ہی عام سا تھا اگر کچھ خاص تھا تو چہرے پر اس کی آنکھیں .. جو پل پل روپ بدلتی تھیں …کبھی بےتحاشا بولتی ہوئی اور کبھی سمندر جیسی گہری اور خاموش …کبھی بیحد سرد اور کبھی جذب بھری
اگر میرا تفصیلی جائزہ لے چکی ہوں تو چلیں ؟
خفت اور شرمندگی سے روشنی کا چہرہ تمتما اٹھا ..اس کے اٹھنے سے پہلے ہی آذر اٹھ چکا تھا ..وہ بھی ساتھ چلنے کے لئے کھڑی ہوگئی .. چلتے چلتے آذر سگریٹ سلگا چکا تھا ..
لڑکیوں کو تو بہت الرجی ہوتی ہے سگریٹ کے دھوئیں سے … آپ کو نہیں ہوتی ؟ وہ کش لگاتے ہوے پوچھ رہا تھا ..
بد قسمتی سے مجھے سگریٹ اور اسکا دھواں بہت پسند ہے …اب حیران ہونے کی باری آذر کی تھی ..
رئیلی؟
کیوں کیا مجھے پسند نہیں ہوسکتی ؟
تو کیا آپ پیتی بھی ہیں ؟
نہیں…. یہ ایسی چیز ہے جو مرد کے ہاتھ میں ہی سجتی اور اچھی لگتی ہے اور مجھے مردوں کے ہاتھ میں ہی اچھی لگتی ہے ..
بہت مختلف سی ہیں آپ ؟
اس میں مختلف کیا ہے .. اکثر مردوں کو چوڑیوں کی کھنک اور مہندی کی خوشبو بہت پسند ہوتی ہے مگر کیا وہ اسے پہنتے یا لگاتے ہیں ..؟
آپ مختلف ہونے کے ساتھ زہین بھی ہیں ..
اچانک..آذر نے سگریٹ کو پاؤں تلے مسلا ..وہ سامنے دیکھ رہا تھا ..
مجھے جانا ہوگا سامنے کچھ دوست ہیں وہ اسی طرف آرہے ہیں ..آپ سیدھی اپنے گھر جائیں ..یکدم اس کے لہجے میں سرد مہری در آئی  تھی …
روشنی نے سامنے کی طرف دیکھا کچھ لوگ اسی طرف آرہے تھے جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں تھے . آذر اس سے الگ ہوا آگے بڑھا اور رکا ..اسے سامنے دیکھ وہ بھی رک گئی …
میں اس دن مرغی چرانے نہیں  آیا تھا .. آپ کو دیکھنے آیا تھا .. پورا ہفتہ آپ کا دھانی آنچل کھڑکی پر لہراتا نظر جو نہیں  آیا … اتنا کہہ کر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف بڑھ گیا اور روشنی کو ایک بار بار پھر حیران کر گیا….

تیسرا اور آخری حصہ ان شاءاللہ کل

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں