سرد قاتل

لکھاری کا فرمائشی نوٹ:
یہ تحریر ایک سچی کہانی ہے، جسے افسانوی انداز میں لکھا گیا ہے ــ

آذر اور اس کے درمیاں ایک بے نام سا رشتہ بن گیا تھا … جسے محبت کا نام بھی نہیں  دیا جاسکتا تھا کیوں کے دونوں کے درمیاں کوئی عہد و پیمان نہیں تھے .. نا ٹیلیفونک گفتگو، لیکن ایک عجیب سا احساس کا رشتہ دونوں طرف تھا – رات وہ ٹیرس پر اس کا انتظار کرتی اس کا صرف سایہ نظر آتا تھا اور اذر کو اس کا دہانی آنچل …. ان دونوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے کی چاہ بھی نہیں تھی نہ ہی ایک دوسرے کو سننے کی.. اپنے اپنے دائرے میں دونوں من مستم تھے.. صرف سایہ اور دھانی آنچل
کچھ ہی عرصے میں آذر اور روشنی غیرمحسوس انداز میں ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے تھے روشنی کو جو بھی مسلہ ہوتا کوئی بھی ٹینشن ہوتی وہ آذر سے کہہ دیتی اور آذر بنا اسے کچھ کہے اس
مسلے، اسکی ٹینشن ایسے سلجھاتا اور روشنی کو حیران کردیتا تھا
وہ جب آذر کو بلاتی ..آذر چاہے کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہوتا روشنی کے بلانے پر ضرور اتا .روشنی کو کئی بار ایسا بھی محسوس ہوتا تھا جب بھی وہ کسی اور لڑکے سے بات کرتی تو اسے اچھا نہیں لگتا تھا مگر وہ کبھی کھل کر ظاہر نہیں کرتا تھا اور اگر کبھی روشنی کچھ دن اسے نظر نا آتی تو بس اتنا شکوہ ضرور کرتا تھا کہ جانا اگر ضروری تھا تھا تو بتا کر جایا کرو …
روشنی کی زندگی اس کی والدہ اور اسکا بھائی تھے …ہمیشہ تنہا رہی ، محتاط طبیعت کی بنا پر اس کی کوئی قریبی دوست بھی نہیں تھی اور اب آذر کے روپ میں اسے سچا مخلص دوست مل گیا تھا ….
اسے اپنا پتا تھا کے وہ اس کی عادی ہوچکی ہے مگر آذر بہت کم اظہار کرتا تھا اور جب بھی ایسے کسی احساس کا اظہار کرتا وہ اس کو تبرک کی طرح من مندر میں سمولیتی تھی ..
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کو اس کی خوبیوں کا پتا چلتا جارہا تھا – آذر اپنی خوش اخلاقی شائستگی ، میٹھا بولنے کی وجہ سے کافی مشہور تھا …کوئی بڑا مسلہ جب بڑھ جائے تو اس علاقے کے لوگ آذر کے پاس ہی آتے تھے ..
کبھی کبھی اسے اپنے اور آذر کے اس بے نام سے رشتے پر فخر ہوتا تھا …
——————————————–
آذر کچھ دنوں سے کچھ الجھا ، پریشان سا تھا روشنی جب بھی پوچھتی آذر خوبصورتی سے اس کا دھیان بٹا دیا کرتا تھا
رات اسے آذر کے گھر سے کچھ تیز آوازیں سنائی دین جیسے کوئی جھگڑا ہورہا ہو – صبح روشنی نے آذر سے رات والے جھگڑے کا پوچھا تو آذر ٹال گیا ….مگر روشنی نے اس بار تہییہ کیا کہ جان کر رہے گی ..
آذر آخر آپ مجھے بتاتے کیوں نہیں بات کیا ہے ٹھیک ہے ..مجھے بھی آپ سے اب کوئی بات نہیں کرنی ..وہ اٹھ کھڑی ہوئی رکو روشنی …آذر اس کے سامنے آگیا ہم دوستوں کے بیچ کچھ جھگڑا ہوگیا تھا رات ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا بس اس میں لوس ہوگیا …
یہ کیا بات ہوئی ..اپ کے دوستوں کو سمجھنا چاہیے لوس اور پرافٹ تو بزنس کا حصہ ہیں …
دراصل وہ جو چاہتے ہیں میں وہ کر نہیں سکتا ….
آذر..اس طرح تو آپ کے دوست آپ کو چھوڑ جائیں گے ….آذر نے چند سیکنڈ تک روشنی کو دیکھا … بس آپ ساتھ رہیے گا …
کہتے ساتھ آذر رکا نہیں ..چلتا ہوں کہہ کر آگے بڑھ گیا
وہ سرشار سی وہیں بینچ پر بیٹھ گئی …بہت کم مگر ہر بار وہ روشنی کے آنچل میں کچھ جگنو جیسے خواب ٹانک دیا کرتا تھا جو اسکی غیر موجودگی میں اسے تنہا ہونے نہیں دیتے تھے …
———————————–
وہ اپنے اسائنمنٹ کیوجہ سے بہت بیزی تھی …نسرین نے بتایا کے آذر کو دو دن سے بہت تیز بخار ہے …
روشنی نسرین پر بگڑ پڑی کے وہ اب بتا رہی ہے …اس نے دیسی مرغی کا سوپ بنایا اور آذر کےگھر آگئی …. .. کامن روم میں آذر کے تین دوست بیٹھے تھے مگر آذر کہیں نہیں تھا ..وہ تھوڑی پزل سی ہوئی میں یہ آذر کے لئے لائی تھی کہاں ہیں وہ …
اوہو…آئیے آئیے …. آذر کا ایک دوست اپنی جگہ سے اٹھا .. دیکھیں تو کیا بنا کر لائی ہیں ..
لڑکے نے اس کے ہاتھ سے باؤل لے کر تھوڑا سوپ پیا ..روشنی کو شدید غصہ آیا …
یہ کیا حرکت ہے …میں یہ آذر کے لئے لائی ہوں دیں ادھر مجھے ….
روشنی کی نظر اوپر سیڑھیوں کی طرف اٹھی جہاں آذر کھڑا تھا …
آؤ آذر … تمہارے گھر رنگین بہار اتری ہے …
آذر اپنے مخصوص انداز میں سیڑھیاں اترتا نیچے آیا اور لاتعلقی کا مظاھرہ کرتے ہوۓ سامنے صوفے پر بیٹھ گیا ..بیٹھے بیٹھے اس نے سگریٹ سلگائی اور کش بھرنے لگا …
آپ جاسکتی ہیں …وہ جو حیرت سے آذر کو دیکھ رہی تھی اس جملے پر سناٹے میں رہ گئی ..آذر. آپ کی طبیعت …
آذر ..یار ہمارا تعارف نہیں کرواؤ گے …
آذر کے دوسرے دوست نے کہا …یار سب چھوڑو …یہ سوپ پیتے ہیں
یہ میں آذر کے لئے لائی ہوں آپ کے لئے نہیں …روشنی نے شدید غصے میں کہا
اوبی بی ..ہم آذر کی ہر چیز کے حصے دار ہیں تو سوپ میں بھی ہمارا حصہ ہوا اور …وہ دو قدم آگے آیا اور روشنی کو سر سے پاؤں تک ا وباش نظروں سے دیکھا اور کہا …آپ میں بھی …
الفاظ نہیں گرم سیسہ تھا جو اس کے کان میں پڑا …
چٹاخ…… اس نے سامنے والے کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا … اپنی حد میں رہو … میں کوئی آذر کی پراپرٹی کا حصہ نہیں ہوں جس میں حصہ لگے .
یو بچ … میں چھوڑونگا نہیں اس کو ..وہ جیسے ہی روشنی کی طرف بڑھا آذر ان دونوں کے درمیاں آگیا …
رکو فراز..اسے میں دیکھتا ہوں ..
آذر نے سوپ کا باؤل لیا اور زور سے باہر لان کی سائیڈ پر پھینکا …. گیٹ لاسٹ ..
وہ حیرت اور بے یقینی سے آذر کو دیکھ رہی تھی …آذر. اس نے جو کہا آپ نے سنا نہیں..
آئ سیڈ گیٹ آؤٹ فرام مائی ہاؤس ..
.وہ دھاڑا…. ڈیڑھ سال میں پہلی بار اس نے آذر کا یہ روپ دیکھاتھا …مالی بابا … کہاں ہیں آپ …آذر چیخا
جی آذر میاں …
اس لڑکی کو یہاں سے نکالیں اور اگر یہ دوبارہ یہاں نظر آئی تو میں آپکو پہلے نوکری سے فارغ کروں گا ..
چلو بٹیا …
روشنی نے ڈبڈبائی نظروں سے آذر اور اس کے دوستوں کو ایک نظر دیکھا اور تیزی سے باہر آئی..
وہ جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر روپڑتی تھی آج اس کے آنسو خشک تھے … اس کا ذہن خالی تھا …گھر آکر اس نے مما کو فون کیا …مما ..مجھے کراچی جانا ہے ماموں کی طرف ٹکٹ کنفرم کروادیں میں تو پہلے سے ہی کہہ رہی تھی ہو آؤ ثمن بہت بلارہی ہے …ٹھیک ہے جو پہلی فلائٹ ہوئی اوکے کراتی ہوں …
اس نے ضروری سامان پیک کیا اور رات ہونے سے پہلے لاہور چھوڑ دیا ————————————-
روشنی بٹیا آپ ؟
وہ شام کو قریبی پارک میں بیٹھی تھی مالی بابا کی آواز نے چونکایا
اسلام علیکم مالی بابا …کیسے ہیں آپ میں ٹھیک ہوں بٹیا آپ کیسی ہو ؟ اور کراچی سے کب آئیں؟
میں بھی ٹھیک … اور دو دن ہوۓ ہیں اتنا کہ کر وہ خاموش ہوگی
آذر میاں کے بارے میں نہیں پوچھو گی ؟
کیا پوچھوں مالی بابا ؟ اس رات مجھے میرا مقام ، میری اوقات آذر نے بتا تو دی تھی مجھے کوئی بات نہیں کرنی مالی بابا .. وہ سب سوچ کر ایک بار پھر اس کی روح ٹرپ اٹھی تھی … وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی …
بٹیا اس دن اگر آذر میاں آپ کے ساتھ وہ سب نا کرتے تو آج آپ عزت سے یہاں نا ہوتیں …
اسکے بڑھتے قدم رکے ..گردن موڑ کر اس نے بابا کی طرف دیکھا .
ہاں بٹیا ..ہم سچ بول رہے ہیں …وہ دوبارہ بیٹھ چکی تھ ..آپ کیا کہنا چاہتے ہیں بابا ؟
دو بار آپ کا مسلہ حل کرنے آذر میاں جب ائے تب ان کو بڑے پراجیکٹ پر نقصان اٹھانا پڑا جس کا الزام آذر میاں کے دوستوں نے آپ کے سر رکھا اپس میں جھگڑا ہوا .. آذر میاں کے دوست آپ کے دشمن ہوگئے تھے آپ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے تھے وہ صرف موقع کی تلاش میں تھے کے کوئی بات ملے اور آپ بدنام ہوں اسی لئے آذر میاں آپکو اپنے سرکل میں شامل نہیں کرتے تھےاس دن آپ نے بابر کو جو تھپڑ مارا اس کی قیمت بہت بھاری پڑتی آپ کو ..وہ بہت بڑے باپ کا بگڑا ہوا بیٹا ہے .. آذر میاں نے اس وقت جو بھی کیا آپ کی عزت بچانےکے لئے کیا ….
وہ یک ٹک بابا کو دیکھے جارہی تھی آنسووں کی دھار اس کے چہرے کو تر کر رہی تھی …
آپ سمجھتی ہو آپکی کوئی اہمیت نہیں … ہر ہر پل کی خبر رکھتے تھے آپکی مگر آپ کو ظاہر نہیں کرتے تھے
مالی بابا …پھر آذر چلے کیوں گئے میرا انتظار بھی نہیں کیا ..میں ہر بدنامی سہ لیتی صرف ایک بار وہ مجھ سے شئرر تو کرتے …
روشنی کی آواز بھیگتی جارہی تھی …
وہ اسی دن بکھر گیا تھا جس دن اس نے سب کے سامنے آپ کو گھر سے نکالا تھا بٹیا تم تو چلی گئی اسی رات اور وہ ساری رات ٹیرس پر ٹھنڈ میں کھڑا رہا اس نے خود کو ایسے سزا دی کہ وہ اپنے سب دوستوں کو چھوڑ گیا ..مالی بابا کی آواز میں دکھ ہلکورے لے رہا تھا چلتا ہوں بٹیا ..مالی بابا اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر چل دیے
روشنی جس بینچ پر بیٹھی تھی آذر بھی اسی بینچ پر بیٹھتا تھا …اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں آذر بیٹھا کرتا تھا اتنے دن تک جو اس نے اپنی سوچ پر اس کی یاد کے پہرے بٹھاے تھے وہ ٹوٹ چکے تھے …اسے کچھ ہوش نہیں تھا کے وہ کہاں ہے.. لوگ آتے جاتے اسے دیکھ رہے تھے اور وہ بےتحاشا رو رہی تھی ..وہ ہر بار اسے حیران کرتا آیا تھا اور آج تو اس نے روشنی کی رگوں کو کاٹ ڈالا تھا …
” بس آپ ساتھ رہے گا ” کی بازگشت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی ….
—————————————————
آج پورے دو سال ہوچکے تھے آذر کو اس سے الگ ہوے …ان دو سالوں میں آج بھی روشنی کا وہی معمول تھا مغرب کے بعد ٹیرس پر آجاتی تھی اور آذر کے خالی مکان کو تکا کرتی تھی …پہلا سال تو بہت کڑا تھا اس کے لئے … وہ تڑپ تڑپ کر روتی تھی ..آذر کو پکارتی تھی ..مالی بابا سے التجا کرتی تھی اسے لے آئیں مگر آذر نے اپنا کوئی نام نشان نہیں چھوڑا تھا … وہ جو اس کے مسلوں کو حل کرنے ایک بار کے بلانے پر آجاتا اب ہزار بار بلانے پر بھی خاموش تھا .. آذر کی موت جیسی خاموشی روشنی کی رگوں میں اتر رہی تھی ….
مگر دوسرے سال وہ اس کے ساۓ کو خود میں سمو چکی تھی اب اسے آذر کا سایہ ٹیرس پر نظر آنے لگا تھا آذر کا سایا اس پر حاوی ہوچکا تھا …
” سرد قاتل ” کے نام سے آج اس کی طرف سے کہانی مکمل تھی لیکن ابھی اس کا آدھا حصہ باقی تھا جو آذر کو پورا کرنا تھا ….
اتنا لکھ کر اس نے ڈائری بند کردی …
روشنی… سب سامان گاڑی میں رکھ دیا ہے چلنا نہیں ہے کیا ؟
ثمن ، اسکی کزن نے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ چونکی .. ہاں.. تم چلو میں آتی ہوں ..اس نے الوداعی نظر آذر کے بنگلے پر ڈالی اور نیچے چلی آئ … آپ لوگ گاڑی میں بیٹھیں میں آتی ہوں … اس نے ثمن کو کہا اور خود آذر کے بنگلے کی طرف بڑھی
مالی بابا نے دروازے کی دستک پر دروازہ کھولا …
بٹیا آپ ؟ یہ آپ کا سامان کہاں جا رہا ہے …
مما کے پیرالایز ہونے کے بعد ماموں کا خیال ہے ہمیں کراچی ان کے ساتھ رہنا چاہیے …
مالی بابا … آذر. ایک نا ایک دن ضرور آییں گے …انکو یہ ڈائری دے دیجئے گا … اور کہئے گا … میں اپنے حصے کی خوشی ، دکھ لکھ چکی … اسے کہئے گا اسے مکمل کردے …
اتنا کہہ کر پلٹ گئی ..بٹیا اپنا کوئی اڈریس ..فون نمبر دے جاؤ آذر میاں آے تو دے دوں گا ..
اس نے پلٹ کر مالی بابا کو دیکھا اور کرب سے مسکرائی …
کچھ سفر بنا منزل کے ہی خوبصورت ہوتے ہیں مالی بابا … اور مجھے یہ سفر بہت عزیز ہے …اتنا کہہ کر پلٹ آئ
———————————–
تم اپنی سب چیزیں لے آئ ہو نا روشنی …کچھ بھولیں تو نہیں …
ہاں…میں سب لے آئ ہوں بس میرا من وہیں آذر کی گلیوں میں چھوڑ آئ ہوں اور ساتھ اس کا یہ خوبصورت دل ..اس نے اپنے گلے میں پہنی گولڈ کی باریک چین میں پڑے سفید نگ والے دل کو ہاتھ لگایا … اسے وہ دن یاد آگیا جب وہ لیموں چرانے آذر کے لان میں تھی اور وہ اس کے گھر سے اپنی گھڑی لینے گیا تھا اور گھڑی اٹھاتے وقت یہ دل شکل کا نگ وہیں چھوڑ آیا تھا
اس نے نگ کو انگلیوں سے چھوتے آنکھیں بند کی اور اس وقت دو موتی اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر اس نگ میں ضم ہوگئے تھے

ختم شد

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں