سرد قاتل

بنگلے میں شفٹ ہوۓ آج تیسرا دن تھا- تین دن سے وہ اور اس کی ماما گھر کی سیٹنگ میں لگی ہوئی تهیں- آج کہیں جا کر گھر کی ساری سیٹنگ مکمل ہوئی تھی وہ شاور لے کر اپنا چاۓ کا مگ تھامے ٹیرس پر چلی آئی – نومبر کا مہینہ تھا اس لئے بھی شام ہوتے ہی خنکی بڑھ جاتی تھی اس نے شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹا وہیں کین کی کرسی پر بیٹھ کر چاۓ کی چسکیاں لیتے ،آنے جانے والوں کو دیکھنے لگی …..
یہ ٹائم لوگوں کے آفس سے آنے کا تھا اکا دکا لوگ نظر آرہے تھے … اس کی نظر دائیں طرف پڑی .،…ایک گاڑی عین اس کے بنگلے کے سامنے آکر رکی وہ غیر ارادی طور پر دیکھنے لگی کوئی گاڑی سے اترا تھا ہاتھ میں کوئی فائل وغیرہ تھی بلیک ڈنر سوٹ ..جوتوں پر مٹی کی گرد ..بال بھی کچھ الجھے الجھے سے اور انگلیوں میں دبا سگریٹ … ایک کش لگاتے اس نے گاڑی لاک کی اور سامنے والے بنگلے میں داخل ہوگیا – دھواں پھیلنے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی مغرب کے بعد کا وقت تھا اندھیرا بڑھنے لگا تھا … وہ سر جھٹک کر روم میں چلی آئی….
کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی کھڑکی بند کرنے کی نیت سے آگے بڑھی پردے ہٹا کر کھڑکی بند کرتے ایک پل کو رکی …وہی شخص اسی حلیے میں سگریٹ کا کش لگاتے ٹیرس پر ٹہلتا نظر آیا چند سیکنڈ تک اسے دیکھتی رہی پھر کھڑکی بند کر کے اپنی کتابیں لے کر بیٹھ گئی …سمسٹر قریب تھے اور گھر کی شفٹنگ کی وجہ سے پڑھائی کا کافی حرج ہوچکا تھا …
اس اجنبی کو روز رات دیکھنا روشنی کا معمول بن چکا تھا رات مغرب کی نماز پڑھ کر چاے کا مگ لے کر ٹیرس پر آجاتی اور روز غیر معمولی طور پر اس شخص کو دیکھتی ..شاید وہ اکیلا رہتا تھا ..کبھی کبھی اس کے گھر کچھ ہلچل بھی ہوتی تھی جب اس کے دوست وغیرہ آتے تھے …

دن اسی طرح گزر رہے تھے مما آفس میں ہوتی اور وہ یونورستی سے آ کر سارا دن گھر میں بور ہوتی اور شام ہوتے ہی ٹیرس پر آجاتی
بی بی جی آپ کی کافی…
کل ہی ملازمہ رکھی تھی عمر یہی کوئی 25، سال ہوگی ..
باجی جی مجھے آج جلدی چھٹی دے دیں مجھے آذر بھائی کے گھر جانا ہے کام کرنے …
آذر بھائی ؟ اس نے سوالیہ انداز میں اسکی طرف دیکھا ..
بی بی جی آپ کے سامنے والا بنگلہ .. بڑے ہی اچھے ہیں اور بہت شریف لوگ ہیں نسرین کے علم کے مطابق آذر کی فیملی اسلام آباد میں تھی اور آذر لاہور جاب کے سلسلے میں آیا ہوا تھا – آذر باہر ملک سے ڈگری ہولڈر تھا –
آذر بھائی کے گھر ہفتے میں دو بار صفائی کے لئے جاتی ہوں آذر بھائی نے کہا ہے انکے انے سے پہلے میں اپنا کام کر کے چلی جایا کروں ..
جاؤں بی بی ….؟
ہاں…ٹھیک ہے جاؤ
وہ بھی کافی کا مگ لئے ٹیرس پر چلی آئی تھوڑی ہی دیر بعد اس نے نسرین کو بنگلے میں جاتے دیکھا
تقریبا گھنٹے بعد ہی اس نے گاڑی سے آذر کو اترتے دیکھا – وہی ایک ہی ڈنر سوٹ …بکھرے بال ..مٹی میں اٹے جوتے اور انگلیوں میں دبا سگریٹ …
روشنی کو وہ بندہ تھوڑا پر اسرار سا لگتا تھا جیسے کسی مافیا کا سر غنہ ہو … اسے بہت کوفت ہوئی …
ہر وقت یہ بندہ دھوئیں میں ہی رہتا ہے …
نسرین نے ٹھیک کہا تھا وہ شخص اندر جانے کے بجاۓ وہی کھڑا مالی سے بات کرتا رہا جب نسرین باہر آئی تب وہ اندر گیا …
روشنی.بھی اندر کی طرف مڑ گئی ..
—————————–
اف .. یہ گاڑی کو بھی ابھی خراب ہونا تھا .کافی دن ہوگئے تھے آنی کی طرف چکر نہیں لگایا تھا وہیں سے گھر کی طرف آرہی تھی کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر گاڑی بند ہوگئی- .روشنی باہر نکل آئی بونٹ اٹھا کر آئل چیک کیا
کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں ..
بہت شائستہ اور گمبھیر لہجہ … روشنی نے بونٹ سے سر اٹھا کر شائستہ لہجے والے کو دیکھا تو ایک جھٹکا سا لگا
اس کے سامنے آذر کھڑا تھا-
“جی ضرور”
کہ کر روشنی سائیڈ پر ہو گئی کچھ منٹ تک وہ جھکا رہا جب تک وہ اس کا جائزہ لیتی رہی …
اس بندے کو الجھن نہی ہوتی ایک ہی لباس روز پہن لیتا ہے اور حلیہ ایسا ہوتا ہے جیسے آفس سے نہی گلیوں کی خاک چھان کر آرہا ہو .
.سوری مس ..روشنی ..اس نے فورا اپنا نام بتایا
مس روشنی اندھیرے کی وجہ سے خرابی کا پتا نہیں چل رہا اگر آپ مناسب سمجھیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں …
نہیں…وہ جھجھکی ..ایٹس اوکے ..میرا گھر قریب ہی ہے دس منٹ میں واک کرتی پہنچ جاؤں گی …
ایک منٹ .. وہ رکی ..آذر نے اپنی ہونڈا اس کی گاڑی کے پیچھےکھڑی کی …میں بھی اسی طرف جارہا ہوں ساتھ چلتے ہیں ….
اگر برا نہ مانیں، کیا میں سگریٹ پی لوں ..
شیور…..
شکریہ
سگریٹ سلگا کر روشنی کے ساتھ قدم بڑھاے …
آپ کو کبھی دیکھا نہیں اس علاقے میں- منہ سے دھواں چھوڑتے آذر نے پوچھا ..
کچھ ہی دن ہوے ہیں شفٹ ہوے ہیں …
گھر میں کون کون ہے ..
میں..مما اور ایک چھوٹا بھائی وہ ہوسٹل ہوتا ہے ..
اور آپ ؟، روشنی نے اسے دیکھتے پوچھا اس کا چہرہ پھر سگریٹ کے دھوئیں میں چھپ چکا تھا …
کیا کرتی ہیں آپ ؟ اس نے روشنی کے سوال کو یکسر نظر ابداز کرتے پوچھا ….
پری انجینیرنگ کر رہی ہوں ..
گڈ.. اسوقت کوچنگ سے …سوال ادھورا چھوڑ دیا
جی نہیں …میں اپنی آنی کے گھر گئی تھی بس لیٹ ہوگئی اور یہاں آکر گاڑی خراب ہو گئی ..
سگریٹ ختم ہوچکی تھی وہ دوسری سلگا چکا تھا …
آپ اتنی سگریٹ کیوں پیتے ہیں … اس نے دل مچلتے سوال کو زبان دی …
اسکے دھوئیں میں اپنا اور سامنے والے کا عکس نظر نہیں آتا، اس لئے ….اسے آذر کا لہجہ بہت سرد لگا ..
پانچ منٹ کا فاصلہ طے ہو چکا تھا پانچ منٹ کا رہتا تھا ..
اپ کو ایک ہی لباس میں گهبراہٹ نہیں ہوتی؟ اور فورا ہی روشنی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ..وہ تو آذر کے لئے بلکل اجنبی تھی وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اسے دیکھتی رہی تھی اس کے بارے میں سنتی رہی تھی مگر آذر کے لئے تو وہ آج پہلی بار ملی تھی .
غریب ملنگی بندہ ہوں اب سوٹ ایک ہو تو بندہ کیا کرے … روشنی کو ایسے لگا جیسے آذر زیر لب مسکرایا ہو .روشنی کو یقین ہوگیا کے یہ بندہ ٹھیک سے جواب دینے والا نہیں .
ایکدم ہی سامنے سے کتے کے بھونکنے کی آواز آئی
روشنی نے غیر ارادی طور پر فورا آذر کا بازو زور سے تھام لیا ..مجھے کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے ..
دوسرے ہی پل آذر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا
انسانوں سے ڈر نہیں لگتا ؟ اس نے آذر کی آنکھوں میں دیکھا .. اس کی آنکھیں ، جیسے کوئی نشہ کر کے آیا ہو اور اس کا لہجہ اسقدر سرد کہ اسے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوے. پہلی بار روشنی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا. اس نے کیسے ایک اجنبی پر بھروسہ کر لیا اور تو اور اس نے تو یہ دھیان بھی نہیں دیا کے اس اجنبی کو اس کے گھر کا راستہ بھی معلوم ہے..اس نے گھبرا کر آذر کا بازو چھوڑا اور ایک قدم پیچھے ہٹی
آپ کو جس سے ڈر لگ رہا تھا، وہ دیکھیں، چلا گیا، روشنی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اس کا مطلب آذر نے اس کا دھیان ہٹایا تھا. مگر یہ کیا طریقہ ہوا. وہ جھنجھلائی ..
آذر ایک قدم آگے بڑھ چکا تھا .
.آپ نے جواب نہیں دیا انسانوں سے ڈر نہیں لگتا آپ کو؟
انسان کاٹتے تھوڑی ہیں کتا کاٹ لے تو درد زیادہ ہوتا ہے
ہاہاہاہا…. بیساختہ آذر کی ہنسی نے فضا کے سناٹے کو کو توڑا؟،
آذر نے اک پل کو روک کر روشنی کو دیکھا. جانور تو صرف کاٹتا ہے مگر انسان تو انسان کا ہی دشمن ہے کب مار ڈالے پتا ہی نہیں  چلتا اسکا لہجہ دوبارہ سرد ہوچکا تھا، وہ تیسری سگریت سلگا چکا تھا یہ لیجئے .. آگیا آپ کا گھر
آپ کو کیسے پتا یہ میرا گھر ہے …؟
جیسے آپ کو میرے چین سموکر ہونے اور ایک ہی لباس کا پتا ہے …
اسپر جیسے کسی نے گھڑوں پانی ڈال دیا…وہ ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی ..کیا اسے سب خبر تھی …
سنو.. روشنی کے بڑھتے قدم رکے ..آج میں دوست کے ساتھ ڈنر پر جاؤں گا میرا انتظار مت کرنا …کہتا مڑ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے گھر کی طرف چل دیا
وہ سن سی ہو گئی…ایکدم بھاگتی اپنے کمرے میں آگئی ..چادر اتار کر دور پھینکی موسم خنک تھا مگر پھر بھی اسے شدید گرمی محسوس ہوئی  اے سی فل کر کے بیڈ پر گر گئی…..ایسا کیسے ہوسکتا ہے ..میں نے تو نسرین سے سرسری سا پوچھا تھا اور اسے بھی نہیں پتا کے میں اس بندے کی حرکات سکنات کا بغور مطالع کرتی ہوں ..
اوه شٹ…. اسے خود پر غصہ آنے لگا …کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ آنے کی …بڑا آیا راجہ اندر جو اس کا انتظار کروں گی …
اب میری توبہ جو ٹیرس پر یا کھڑکی سے اس پر نظر رکھی ..
عجیب بندہ ہے کبھی لہجہ اتنا مہربان اور کبھی برف جیسا سرد …اس کی آنکھوں کا تصور کرتے ہی جھرجھری سی آگئی…
ایک ہفتہ گزر گیا مگر وہ خود سے کئے وعدے پر قائم رہی ..نہ ٹیرس پر گئی اور نہ کھڑکی پر …
—————————————————
روشنی… سونے سے پہلے پنجرے کا تالا چک کرلینا ..مما اسے ہدایت دے کر سونے چلی گئیں…اور وہ لان میں آگئی
برڈ فلو اور چکن گونیا بیماری پھیلنے کی وجہ سے مما نے گھر میں ہی کچھ مرغیاں پالی تھیں اور بڑا پنجرہ لان میں رکھا تھا .. اس ہفتے دو مرغیاں غائب تھیں اور مما کو نسرین پر شک تھا جب کہ نسرین نے قسم کھا کر یقین دلایا تھا کہ اس نے یہ چوری نہی کی… روشنی کو نسرین کی ایمانداری پر کوئی شبہ نہیں  تھا …
اس نے مرغیوں کو دانا ڈالا اور اور تالا لگا کر کمرے میں آگئی …وہ جاگ ہی رہی تھی کے اسے کچھ کھڑکنے کی آواز آئی … اسےسمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ مرغی چور مرغی چرانے آیا تھا وہ تیزی سے اٹھی اور سیڑھیاں پھلانگتی دائیں طرف لان میں بھاگی …چاند کی مدھم سی روشنی تھی ..کون ہے..
سشششش
دوسرے ہی پل اسے اپنے قدم روکنے پڑے اگر پیچھے دیوار نہ ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی وہ دیوار سے لگ چکی تھی
چہرے پر رومال لپیٹے اور دوسرے ہاتھ میں چھرا تھامے … چور نے چھرے کی نوک اس کی گردن پر رکھی ..روشنی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی … چور کے چہرے پر صرف اسکی سرخ آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں خوف اور ڈر سے روشنی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں کچھ ہی لمحوں کی بات تھی چور ایک جست میں باؤنڈری پھلانگ چکا تھا …اور روشنی کے جسم سے جیسے جان ختم ہوچکی تھی ابھی تک چھرے کی نوک اسے اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھی حلق خشک ہوچکا تھا وہ وہیں بے دم ہوکر سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اگر مما آجاتی تو ….مما تو ویسے ہی ہارٹ پیشنٹ ہیں ….اس نے ماتھے پر آے پسینے کو اپنے پلو سی صاف کیا …آنکھیں کچھ دیکھی دیکھی سی لگی…کہاں دیکھی تھی … وہ سوچتی اپنی جگہ سے اٹھی ایک سیڑھی چڑھی دوسرے پل اس نے مڑ کر پنجرے کی طرف دیکھا وہاں کچھ پڑا تھا جھک کر اس نے اٹھایا تو وہ گھڑی تھی …
وہ یہ گھڑی کیسے بھول سکتی تھی اسے یاد آیا ، جب آذر اس کی گاڑی کا بونٹ بند کر رہا تھا تب یہ اس کے ہاتھ سے گری تھی اور روشنی نے ہی اسے اٹھا کر دی تھی .. اس میں ایک دل والا سفید چمکتا نگ تھا اور وہی نگ اس گھڑی کو منفرد بناتا تھا …
تو کیا آذر؟
وہ سیڑھیوں پر بھاگتی ٹیرس پر آئی تو وہ سامنے ہی دھواں اڑاتا اسی طرف دیکھتا نظر آیا ..
روشنی کا دل چاہا ابھی کے ابھی اس کے گھر جائے اور اسے کھری کھری سنا کر آے .
وہ غم اور غصے سے اپنے کمرے میں میں آگئی….
یہ شخص بظاہر کتنا مہذب لگتا ہے …کیسے لوگ اس سے عزت سے بات کرتے ہیں اور یہ رات کے اندھیرے میں ان ہی لوگوں کے گھر ڈاکے مارتا ہے ….
خود کو بہت سمارٹ سمجھتا ہے سمجھ رہا ہوگا میں اسے پہچانی نہیں …کل اس کے گھر جاکر بتاؤں گی اس کا اصل روپ
مگر اس سے پہلے بھی دو بار مرغیاں چوری ہوئی ہیں تب تو کوئی  آہٹ نہیں ہوئی تھی اور آج تو زور سے آواز آئی  تو کیا آذر نے جان کر وہ آہٹ پیدا کی ؟ مگر کیوں؟

جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں