حسد کا اژدھا – چھٹا حصہ

مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سا ن ور کون سا وقت تھا۔  اسلئے وہ ایک وقت کہہ کر میں اسکی اک نظر کے اثر کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کررہا ہوں
پہر اس نے مجھ پر ایک نظر ڈالی ایک زخمی سی نظر جو زمانے کے تلزﺫات سے پر تھی اور صرف اتنا ہی کہا کہ پہر کب ملیںں گے،؟
میں جواب میں خاموش بت بنا اس سنگ مرمر سے بنے حسین مجسمے کے لبوں سے لفظوں کے موتی گرتا دیکھ رھا تھا لیکن چن پہرر بھی نہ سکا۔ آج کا بسم اللہ

سوچ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک سوچ تو وہ ہوتی ہے جو بندے پر حاوی ہوجائے تو بندہ اسکے نشے میں مست ہوتا ھے۔ خوش ہوتا ھے کہ میں اسی رو میں ٹھیک ہوںمجھے کسی کی ھمدردی کی ضرورت نھیں۔ بس میری یہ سوچ میری سب سے اچھی سھیلی ھے جبکھ دوسری قسم کی وہ سوچ ہوتی ھے کہ بندہ اس سے جان چھڑانے کی ہزار کوشش کررھا ہوتا ھے لیکن اسکو جھٹکنے میں کامیاب نھیں ہوتا
اس  سوچ کے زمانے میں بندے کی چاہت یوتی ہے کہ  مجھ سے کوئ ملے،کوئ بیٹھے میرے ساتھ، ڈھیر ساری باتیں کرے لیکن کوئئ نہیں آتا نہ ہی کوئ اس طرف دھیان دیتا ھے۔
لیکن جب بندہ ان دو کے درمیان لٹکا ہو تو؟؟

بس اسکی حالت پہر اس جسم سی ہوتی ھے جسکا آدھا حصھ فالج کے قبضے میں اور باقی آدھا ٹھیک ہو اب نیم زدھ فالج والی صورت کس حالت میں ہوتی ھے یھ ہر ایک جانتا بھی اور پہچانتا بھی ھے

میری حالت بھی  بہرحال

میں اسی وادی کا باشندھ تھا۔ مجھے اس نازنین کی ایک با حیا سی مسڈ کال نے درد میں مدد سی کی تھی

میں حیران تھا اس نے مجھے اتنے دن بعد یاد کیا؟ آخر کیوں؟ شاید یادیں بوڑھا کرنے کا فن جانتی ہو وہ پہر سوچتا نھیں وہ مصروف ہوگی بھت پہر سوچتا نھیں شاید بیمار رہی ہو؟ وغیرھ وغیرھ
خیر چند لمحوں کیلئے میں ماہ پارہ کی مسڈ کال سے محظوظ ہوتا رہا یہ کال جب بھی ہوتی تو نجانے میں کہاں ہوتا عالم بالا پہنچناا لازمی سی بات ھے

ماہ پارہ میرے خوابوں کی تراشی ہوئ ایک نازک اندام سی پری صفت لڑکی تھی ۔ میرے خواب میں جو تصویر بچپن ہی سے پلی بڑھی تھی اسکو عملی جامہ میری ماں جی نے میری زندگی کے انیسویں بہار میں پہنادیا تھا یہ قسمت کے میدان میں میری پہلی فتح اور قسمت کی پہلی اور آخری شکست تھی اسکے بعد میں قسمت کے ھاتہوں ایسا دربدر ہوا کہ یہ بات میں تاریخی دستاویز میں رقم کرنا چاھتا ہوں کہ عقل کی جیت اور اچھائ کی دعا کبھی نہ مانگو بلکہ قسمت اور تقدیر سنہری مانگو
اگر آپکی قسمت اور تقدیر آپکے دوست بن جائیں تو بڑے بڑے عقلمند آپکے حضور سر جھکائے آپکے حکم کے منتظر رھیں گے اگرر چھ آپ ایک نمبر کے نالائق ہی کیوں نا ہوں۔

میرا پردیس جانے سے دس دن قبل ماہ پارہ سے میری ملاقات ہوئ تھی لیکن مجھے جانا لازم  تھا اس بنا میں سفر کے کاندھے سوار ہوکر یھاں سردار مستان کے حکم کو اپنے لئے سعادت سمجھنے لگا تھا

مجھے تو صرف محبوب کی مسڈ کال نے اتنا پر مزھ رکھا نھ جانے ان لوگوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی جنہیں دیار غیر میں محبوب کے ھاتھ کا لکھا کوئ رقعھ موصول ہو؟ وہ تو اس خط اس رقعے کی ہر لکیر کو باربار پڑھتے ہون گے ہر بار ایک امید کے سہارے کہ شاید اس سے کوئ لفظ چہوٹ گیا ہو۔
لیکن لفظ  وہی ہوتے ھیں  میں انھی سوچوں میں گم تھا کھ عبداللھ بھائ کی آواز نے میرے کانوں پر دستک دی

اوئے جبران میاں
جی عبداللھ بھائ میں چونک سا گیا

آجائیں۔۔ سردار صاب آنے والے ھیں
جی میں آیا میں مگر بوجھل قدموں کے ساتھ عبداللھ بھائ کی جانب بڑھا

اس خوشنما کمرے میں داخل ہونے کے بعد میں اپنی کرسی پر آبیٹھا امجد اور سجاول خوش گپیوں میں مصروف تھے جبکھ عبداللھ بھائ نے اس سفر میں مجھے اپنا رفیق بنانا چاھا لیکن میرا موڈ دیکھ کر وہ سمجھ گئے اور خاموش ہورھے کیا اعلی قسم کے آدمی تھے عبداللھ بھائ

سجاول اور امجد ایک دوسرے کے ساتھ الفاظ کا تبادلہ کررھے تھے جبکھ میں اور عبداللھ بھائ انکے تماشائ تھےاسی اثنا امجد کے جسم جنبش سی ہوئ اور وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اس آواز کے ساتھ کھ سردار صاجب آگئے
سو ھم سب تعظیماً اپنی نشستوں سے اٹھ گئے چند لمحے بعد ایک معزز قسم کا باوقار آدمی  جس کی نوک دار مونچھیں کسی حرف کیی طرح، کشادھ پیشانی کسی وسیع ظرف کی طرح، سرخ وسپید چہرھ جیسے دودھ میں روح افزا کی چند قطریں ٹپکادیئے ہوں۔۔ اندر داخل ہوا۔
ھم نے سرادر مستان کو آداب کیا میں سوچا کہ اب میں اور مستان ایک ہی طرح کے انسان ھیں لیکن تقدیر نے ایک کی تعظیمم کیلئے دوسرے کو اپنی آرام دھ کرسی سے سیدھا کھڑا کر دیا ھے
علیک سلیک کے بعد مستان صاحب میری طرف متوجہ ہوئے۔
ھاں میاں ھمارے ساتھ اپنا تعارف کروگے یا نھیں؟ انکے ہونٹوں پر نرم سی مسکراھٹ تھی
میں ایک بار پہر کھڑا ہوا انہوں نے مجھے کہا، بیٹھ کر بات کرو کھڑے ہونے کی ضرورت نھیں میاں
نہیں حضور، اس کمرے کی دیواریں مجھے پیغام دے رہی ہیں کہ میں کھڑے ہوکر بات کرونگا تو ہی اصولی کہلاؤنگا میں نےے دھیمے سے لھجے میں کہا انکا انداز اس جملے کو سن کر بدل گیا  جوباً انہوں نے صرف اچھاا کہا
جی حضور نام میں نے جبران عالم پایا ھے ایک چہوٹے سے گاؤں کے ایک چہوٹے سے گہرانے سے میرا تعلق ہے اور اب سردارر مستان کے بالاخانوں میں اپنی وہ دانش بانٹنے کی کوشش کرنے پھنچاہوں، جو دانش لفظ دانش کی بھی توہین ھے لیکن چند مہربانوں کی محبت اور تقدیر کے رحم کرم نے یہاں لا کھینچا ھے۔ بس حضور یہی میرا تعارف ھے

میری بات کے اختتام پر سردار مستان کا چہرے کا رنگ  کافی حد تک بدلا ہوا تھا نجانے ایسا کیوں اور عبداللھ بھائ بھی بڑے خوش نظر آرھے تھے  قدرے خاموشی کے بعد سردار مستان نے پہر مجھ سے پوچھا کہ جبران میاں اس سے قبل کہاں تھے؟ کیا کررھے تھے؟
حضور کچھ نھیں بس فارغ ہی تھا اور کچھ زیادھ ہی فارغ تھا
اچھا چلو اب میں یہ سمجہونگا کہ تمہیں خدا نے میرے لئے خصوصی بھیجا ھے بس مجلس برخاست کردو

یہ کہہ کر  سردار صاحب اٹھ گئے امجد کی طرف جب میری نظر گئ تو وہ مجھے انتہائ کالا نظر آیا لیکن میں نے اسے فریب نظر سمجھ کر نظر انداز کردیا
سردار اور امجد نکل چکے تھے عبداللھ بھائ نے میرے قریب آکر کان میں کہا میرے پیارے جبران میں تو آپکا شروع دن سے عاشقق ہوں اور اب آپکے منھ سے آپکا تعارف سن کر زیادھ انسیت ہوگئ آپ سے لیکن بڑی مشکلات کھڑی کردی ہیں  آپ نے اپنے لیئے میری جان!

میں چونک سا گیا مطلب عبداللھ بھیا؟ مطلب یھ کھ سردار صاحب بزات خود ایک بھترین انسان ھے لیکن امجد بھی اسکا چھیتا ھے نا تو کیا ہوا بھائ امجد کا میں نے کیا بگاڑا ھے؟
آپ نے تو کچھ نھیں بگاڑا لیکن بعض دفعہ بندے کا تعارف ہی اسکا وبال جان بن جاتا ھے
یقین نھیں آرھا تو اگلی مجلس میں سردار صاب کو ملاحظہ کرنا
خیر ہوتا کچھ نھیں ھے بس پریشان نہ ہو یھ دنیا کی باتیں ھیں چلتی رھیں گی وہ میرا کندھا تھپکا کر جانے کی اجازت لیکر نکل گیئے
لیکن میرے لئے سوچ کی ایک لمبی لکیر چہوڑ گیئے۔

میں بھی بادل نا خواستھ اٹھ کر اوپر چھت کی جانب سیڑھیاں چڑھنے لگا چھت پھ جاکر اس شہر کے کاندہوں پر سورار سورج کے غروب ہونے والے منظر کو زھن میں محفوظ کرنے لگا
کیونکھ دل کے بھلانے کو غالب یھ خیال اچھا ھے والا مصرع مجھے آج تشریح سمیت سمجھ آنے لگا

جاری ھے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں