حسد کا اژدھا – ساتواں حصہ

خواب ہار جائیں تو آنکھوں میں
دھیرے دھیرے کبھی نہ ختم ہونے
والی تھکن اُترنے لگتی ھے.!
محبت آپ بیتی ھے یا جگ بیتی؟ اس سوال نے مجھے ہمیشہ لاجواب کیا… کیونکہ… لیکن… مگر یہ تمام استفھامیہ الفاظ میرے سامنےے منہ کھولے کھڑے ہیں اور میں ھوں . میری تنہائی. میرے ریزھ ریزھ خواب میرا حجرھ، میرا تصور. اور ساتھ ہی میں اسکی فکر اسکا غم. اسکی چاہت، اسکی نظر. اور ساتھ ھی اپنا کمال در اسکے وصال. اور اپنا ملال در اسکے جلال. آج کا بسم اللھ

اس دن عبداللہ بھائی کی گفتگو سے میرے پیچھے سوچ کی ایک لمبی لکییر بن گئ تھی۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ آخر عبداللہ بھائی نے ایسا کیا دیکھا جو اتنی گہرائی سے مجھے سمجھانے پر مجبور ھوگئے.میں اس سوچ کو جھٹکنے کی کوشش کرتا لیکن ناکام ہوجاتا۔

دوسرے دن صبح ہی میں اپنے کمرے سے باھر آیا۔ سردار مستان کی عالی شان حویلی پر صبح اتر رھی تھی، میں نے باہر لان میں چند چکر لگائے۔ پھیپھڑوں میں تازہ ہوا بھرنے کے بعد دروازے کی طرف قدم بڑھا ہی رھا تھا کہ سامنے صبح کے ملگجے میں مجھے کامران بھائی کا خادم اسلم خان لمبے لمبے ڈگ بھرتا ھوا دکھائی دیا… اسلم نے دور ہی سے ھاتھ ہلا کر مجھے رکنے کا اشارھ کیا. سو میں اسلم کے خود تک پہنچنے تک تین چار انگڑایا لے چکا تھا….
اس نے آتے ہی سلام کیا اور کہا کہ جبران بھائی وہاں کمرے میں اپنا نام عادل بتاتے ھوئے ایک آدمی آپکو بلارھے ھیں..
اوھ خیر عادل بھائی آئے ھیں. ؟ جی اپنا نام عادل بتایا انہوں نے.. اسلم نے انگلیوں کو چٹختے ہوئے مجھے جواب دیا.
چلو اسلم۔ میں اسلم کے ساتھ ہو لیا. سر میں نے تو انہیں کہا بھی کہ آپ سورہے ھوں گے، لیکن انہوں نے مجھے کہا کہ سو رھے ھوںں تو اٹھا کر لے آنا. اگر غصہ ھوا تو عادل نام بتا کر اسکا غصہ ٹھنڈا کردینا.
زبردست یار اسلم! میں نے اپنے اس لفظ سے اسلم کی حوصلھ افزائی سی کی .عادل بھائی کے پاس پہنچا تو وھ بھت یی خلوص اورر گرمجوشی سے ملے۔ علیک سلیک کے دوران ہی کچھ گلے شکوے بھی کرڈالے کہ ارے جبران بڑے ہی بے وفا ھو تم. جانے کے بعد پلٹ کے ھمارا پوچھا تک نہیں. ؟ پیارے ایسا کیوں؟
بس عادل بھائی شرمندھ ھوں اور نکمہ بھی ورنہ پوچھنا چاھیئے تھا مجھے۔ میں نے ایک شرمیلی سی مسکراھٹ لبوں پر لاتے ھوئےے عادل بھائی سے معذرت کی ..انہوں نے بھی میری معذرت قبول کرلی. حال احول پوچھنے کے بعد عادل بھائی نے مجھے ایک چھوٹی سی تھیلی پکڑادی کھ یھ گھر سے نکلتے ھوئے آپکی بھابھی نے آپکے لئے ناشتھ دیا ھے کہ جبران کو آج ناشتہ دے جاؤں. سو آپ ناشتھ کرلو مجھے دیر یورہی ہے.. بچوں کو اسکول چھوڑنا ھوتا ھے تو زرا جلدی نکلتا ھوں آج کل گھر سے. کوشش کرونگا شاید شام کو واپسی پہ آپ سے ملتا گھر جاوں .
جی بھیا ضرور میں منتظر رھونگا. انشاءاللھ. اور ھاں اوئے اسلم انہوں نے رکتے ھوئے اسلم کو آوز دی.
جی سر؟. کامران بھائی کو سلام دینا ۔۔کہنا عادل آیاتھا….. جی جی بلکل…

عادل بھائی چلتے بنے. میں کمرے میں پہنچ کر بھابھی کے ھاتھ کے بھیجے ھوئے ناشتے سے لطف اندوز ھوا. اس احساس کے ساتھ کہ خلوص اور محبت کے شعلے انکے بھیجی ھوئ تھیلی سے نکل رھے تھے.
میں پہلے بھی یہ بات کھ چکا ھوں کہ یہ غریب لوگ جزبوں کے معاملے میں بے حد امیر ھوتے ھیں. اور عادل بھائی کا یھ مختصر ساا گھرانہ اس بات پر بدرجہ اتم پورا اتررہا تھا. ورنہ میں کیا اور میرا خلوص کیا. میں تو وھ بندھ تھا کھ وھاں سے پلٹنے کے بعد انکا پوچھا تک نہیں اور وھ لوگ؟ انکے لئے افففف اور اپنے لئے تفف کے سے بھتر الفاظ نہیں…………

میں اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی میں نے دیکھا تو سجاول کھڑا تھا.
جی سجاول اب کس جرم کیلئے میری تلاش ھے.

ارے نہیں جبران بھائی اصل میں وھ امحد بھیا آپکو طلب کررھے ھیں.

جی بس میں حاضر ھوتا ھوں .
جی شکریھ. وھ چلا گیا۔میں کچھ دیر بعد دار مشورھ پہنچا امجد بدستور چیں بجبیں تھا. میں نے سلام کیا مجھے سلام کا جواب عبداللہھ بھائی کی بلند اور شاطر آواز میں ملا جبکہ امجد چشمھ ناک کی نوک پر رکھ کر سر کے اشارے سے با انداز سلام کا جواب دیا. عبد اللھ بھائی نے مجھے خوش گپیوں میں مصروف رکھا.ایک سگریٹ بھی پیش کردی کہ صبح میں گلھ صاف رکھا کرو. میں نے ہنسی کے ساتھ عبداللہ بھائی کے خلوص کو سمیٹا…….. یوں ھم دونوں ھم نوش بھی ھوگئے.
لیکن امجد سے یہ منظر ہضم نہ ھوسکا. اس نے ایک آواز دی کہ جبران عالم صاحب .

جی امجد عالم صاحب. میرا اسکے نام میں یوں بے جا اضافھ دیکھ کر وھ ظاھری طور پر بھی طیش میں آگئے تو فوراً گرجے اپنے اوقات میں رھ زیادھ سر پھ چڑھنے مت آو.
اچھی طرح جانتا ھوں تمھیں تمھاری اوقات ہی کیا ھے جو میرے نام میں ترمیم کرنے کا سوچنے لگے……..

میں نے اسکے سارے غصے کی قیمت صرف ایک قہقہہ میں رکھ دی اور پھر ھوا میں اڑادی اسکے بعد ایک با ادب سا سوری کہا۔
اور یھ بھی کہ یہ تو میرے لیئے بھت خوشی کی بات ھے کہ آپ مجھے اور میری اوقات کو جانتے ھیں… ورنہ تو ماھ پارھ کا مجھ سےے اکثر یہ شکوھ رھا تھا کہ میں آپ کو آج تک جان نہیں سکی، جسکا مجھے افسوس ھے اور زندگی بے وفا ھے.

خیر آپ اپنی بات بتایئں کس لیئے بلایا مجھے ؟ اس نے جیب سے ایک لفافہ نکال کر میری طرف متنفر انداز میں اچھالا اور کہا یہ حاجی مستان نے دیا تھا اس دن.. جی شکریہ
میں نے لفافہ عبداللہ بھائی کو پکڑایا کہ کھول دیں آپ. انہوں نے کھولا تو اسمیں پیسے تھے جو تقریباً بیس ھزار تھے انہوں نے مجھےے لفافھ مبارکباد کے ساتھ واپس کیا.
میں لفافہ ھاتھ میں پکڑ کر سوچنے لگا کہ یارب یہ کونسا امتحان ھےے…. سردار مستان نے آخر مجھے کیوں انعام دیا ھے؟ میں کسس انعام کا مستحق ھوں؟ میں نے ایسا کیا کارنامھ کردکھایا ھے؟ وغیرھ جیسے خیالات کی آندھی میرے ﺫھن میں ہلچل مچا رھی تھی……..
اب یھ عقدھ سردار صاحب کے آنے پر کھلنا تھا. سو وھ آگئے.انکی تشریف آوری نے ماحول سے سناٹے کی چادر کھینچ دی. ھم نےے انہیں آداب کیا اور بیٹھ گئے..

چند امور پر بات چلی آخر میں سرادار صاجب نے مشورھ طلب کیا وھ یھ کہ! دیکھیں عزیز مشیران. مجھے الیکشن کے حوالے سے اس سال کافی مشکلات ھیں وھ اسطرح کہ میرے مد مقابل سردار اکبر خان مجھے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرر ھے. میں شکست کبھی بھی تسلیم  نہیں کرتااور نہ اکبر خان کسی بھی حوالے سے مال جائداد وغیرھ میں  مجھ سے بھتر ھے لیکن مجھے اپنی سرداری اور بادشاھت قائم رکھنی ھے اب حیران ھوں کیا کروں. ؟
ھاں امجد کیا رائے رکھتے ھو تم. امجد سیدھا ھوکر بیٹھ گیا..

جی حضور میرا مشورھ تو یہ ھیکھ آپ اسکا مقابلھ چھوڑدیں کیونکہ آپکے لیئے اور ھمارے لیئے آپکا یہ مرتبہ یعنی آپکی بادشاھت اور سرداری کئ درجھ اھم ھے……

ھممممم بلکل درست گڈ امجد. سردار صاحب نے امجد کے مشورھ کو پاس کرکے میری طرف توجہ کی……
اچھا جبران.! آپکا کیا مشورھ ھے؟ ……. میں نے دامن کی سرے کو گھٹنے کے سرے پر سے سیدھا کرتے ھوئے کہا. آپ پہلے مجھےے یھ بتایئں میں آپکو خیرخواھی والا مشورھ دوں یا کہ بزدلانہ؟
سردار مستان بولے اریے تمھارا حق تو یھ ھیکھ خیرخواھی والا ہی دو.

تو حضور میرا مشورھ یہ ھیکھ آپ ایک قدم بھی پیچھے نہ ھٹیں بلکھ مقابل کی آنکھوں میں خاک ڈالدیں کیونکہ اتنا اندازھ تو مجھے ہوگیا ھے کہ سردار اکبر آپکی سرداری آپ سے ھرگز نہیں لے سکتا اگر اسکے لئےاھم چیز ھے تو وھ الیکشن ہی ھے اور اسمیں وھ یھی چاھتا ھے کھ آپ میدان چھوڑکر بھاگ جائیں.. آپ ھمت ھار کر اسکو اپنے اردوں میں کامیاب دیکھنا کیوں چاھتے ھیں؟ نہیں بلکھ آگے بڑھیئے.!میری گفتگو سن کر حاجی سردار مستان کی پیشانی کے بل کشادگی میں بدل گئیے. اور مجھے اعلی ترین الفاظ میں داد دی. سجاول اور عبداللہ سے کہا آپکا مشورھ کیا ھونا چاھیئے؟ انہوں نے میری بات کی تایئد کردی……..
سردار صاب نے مجھے کہا جبران بڑے زیرک اور عقلمند ھو تم. میں آپکو آج ہی سے اپنا مشیر خصوصی مقرر کرتا ھوں . امجد کیاا خیال ھے؟ اچھا خیال ھے صاحب.. امجد نے دل پر پتھر رکھ کر انکو جواب دیا.
اچھا جبران امجد نے آپکو میرا دیا ھوا لفافھ دیا ھے ؟ جی حضور جسکا میں لائق نہیں وھ شے مجھے مل چکی!. جوابا انکے ھونٹوں پرر مسکراھٹ نکھر آئی. مجلس برخاست کا حکم نازل ھوگیا.

یھ میرا سردار مستان کو پہلا اور آخری مشور ثابت ھوا. کاش میں یھ مشورھ نہ دیتا تو اپنی زندگی کچھ سنوار سکتا لیکن یار عزیز شیراز نے مجھے جون کا یھ شعر.

جودیکھتا ھوں وہی بولنے کا عادی ھوں
میں اپنے شھر کا سب سے بڑا فسادی ھوں……… پکا کروادیا تھا.
میں نے امجد کو اپنے پیچھے ابھارا. اور پھر وھ کچھ ھو کھ جو کبھی نہیں ھونا چاھئے تھا. تقدیر کی جنگ اور امجد کے حسد کی آگگ ایسے بھڑکی کھ میرا پہلا مشورھ جو میں نے سردار مستان کے دربار میں دے آیا تھا آخری ثابت ھوا……

جاری ھے..

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں