حسد کا اژدھا – آٹھواں حصہ

مذھب کے بنیاد پرست یہ بھول رہے ہیں کہ سب سے اعلی مذھب انسانیت اور سب سے عظیم سجدہ محبت ہے.(آج کا بسم اللہ)

بعض شھر ایسے ہوا کرتے ہیں جہاں کی صبح بھت نازک اندام ہوتی ہے۔ وہ جب اس شہر میں اپنی پہلی کرن بکھیرنے کو توشہ دان کھولتی ہے تو بڑے ناز و نخروں سے کھولتی ہے .لیکن اسکے برعکس اس شہر کی شام بڑی غضبناک ہوا کرتی ہے. جبکہ بعض شھر ایسے ہوا کرتے ہیں جہاں کی صبح تو بڑی مردانہ ہوتی ہے مگر اسکی شام کمال کی نازک اور فرح دل ہوتی ہے…
جب وہ اپنی زلف ایک ایک کر کھولتی ہے تو شب ناتمام کی دلھن سے اسکا جلوہ کم نھیں ہوتا. میں جس شہر کا باشندہ بن رہا تھا اسکی سکونت میں نے اس شرط پہ اختیار کی تھی کہ یھاں کی شام مجھے اپنی گودی میں جگہ دے گی اور اس شھر, نے مجھے قبول بھی ایک شرط پہ کیا.. وہ یہ کہ
خوابوں کی لاش ایسی لاش ھے جسے نہ غسل دیا جاتا ھے,نہ کفن چڑھتا ھے اور نہ تدفین ہوتی ھے.,,,یہ تو زخموں سے گلتی اور سڑتی رہتی ھے. لیکن میں جب اپنی مرحوم یادوں کا تھیلہ کھولونگا تو ایک ایک یاد اس شام کی زلف میں نصب کرتا جاونگا میرا یہ معاھدہ اس شھر مستان سے شروع دن سے ہوا تھا .
اگر انسان کے پاس طاقت ہو تو اپنے ان معاہدوں اور ارادوں کو جنھیں وہ دل سے پسند کرتا ہے کو عمر نوح عطا کردے. مگر قدرت ہر چیزکو اسکی حد میں رکھنا جانتی ہے، میں بھی اپنے اس معاہدے کو زوال کی ہوا تک نہ لگانے کے موڈ میں تھا لیکن شاید تقدیر کو منظور کچھ اورہی تھا جو کہ ہو کر رہا.
میں شام کے قریب آراستہ مگر ویران چھت پر ایک کرسی ڈالے اس پر بیٹھا سامنے کے پہاڑ کی چوٹی پر نظریں گاڑ چکا تھا۔ سورج کسی راہ چلتے مسافر کی طرح اپنی بکھری کرنیں سمیٹنے میں سرعت سے کام لے رہاتھا۔
سرداد مستان کی جاگیر اس شہرکی شام کو اپنی کالی مگر حسین چادر میں سمو رہی تھی۔ ان سب کی بیچ ایک چھت پر ایک کرسی پر ایک بندہ بیٹھا ہوا اس منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا.
جسکا نام جبران عالم تھا، جو ہمیشہ یادوں اور خوابوں کے ریوڑ ہانک رہا ہوتا تھا. یاد اچھی ہو یابری دونوں حالتوں میں یاد ماضی عذاب ہی ہوتی ہے .
لوگ اکثر اپنے آپ کو یادوں سے باہر اور دور رکھ کر زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر میں یادوں کو شکست دینے میں ہمیشہ ناکام ہی رہا ہوں اور پھر شام کے ساتھ ایک انسیت یہ بھی بڑی شاندار تھی کہ میں نے جب بھی شام کی حسین زلفوں کو اپنے ھاتھ کی پشت سے اوپر کو اٹھائی ہے تو ہمیشہ میری یادوں نے بغل گیر ہوکر مجھ سے معانقہ کیا ہے………

میں سوچوں اور یادوں کے اس سمندر میں غوطہ زن تھا کہ میں نے کسی کے قدم کی آہٹ سنی مگر نظر انداز کرتے ہوئے میں نے اپنا یہ سفر جاری وساری رکھا. لیکن قدرے دیر گزرنے کے بعد میں نے اپنے کندھے پر ایک سچے ہاتھ کا وزن محسوس کیا
میں نے سر اوپر کو اٹھا یا تو عبداللہ بھائی کو کھڑا پایا.

ارے عبداللہ بھائی آپ اس, وقت؟ آئیے تشریف رکھیں۔ میں اٹھنے لگا لیکن عبداللہ بھائی نے مجھے نیچے کی طرف دباتے ہوئے کرسی پر بیٹھنے کی تاکید کی اور خود میرے سامنے آکر بیٹھ گئے۔
ارے جبران میاں یہ کہاں کا انصاف ہے بھلا اکیلے اکیلے شام کے حسن کے مزے لوٹے جارہے ہیں اگر ہم کو بھی شریک کردیتے تو کیا ہوجاتا.ان کے ہونٹوں پر ایک مسکراھٹ موجو تھی . ویسے عبداللہ بھائی تھے بھی ایسے آدمی کہ انکے ہونٹ ہرگھڑی مسکراہٹ کی میزبانی میں مصروف رہتے تھے. میں نے ایک بے بے بس سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے عبداللہ بھائی سے کہا۔

جی بلکل آئندہ اس سفر میں آپکی شرکت باعث سعادت سمجھونگا…وہ دھیمی سی ہنسی ہنسے اور مجھے کاندھے پر تھپکی سے بھی نوازا.
پھر کھنے لگے، ہاں جبران میں یہ بتانے آیا ہوں کہ کل کی مشاورت بڑی اہم ہے آپ کل کی مجلس میں سردار صاب کے قریب والی کرسی پر بیٹھنا
.جی ٹھیک ہے عبداللہ بھائی اور حکم کریں. بس یھی بتانا تھا باقی آپ اپنی مصروفیت میں مصروف رہے میں خامخوا آپکے بیچ مخل ہوگیا.
ارے نھیں عبداللہ بھائی ایسی کوئی بات نھیں آپ تو اپنے بھائی جیسے ہیں…

سلامت رہو جبران میاں. وہ جانے کیلئے کھڑیے ہوگئے.میں بھی انکے چلے جانے کے بعد نیچے اپنے کمرے میں آیا. تھوڑی دیر کتاب بینی کرنے کے بعد مجھے شیراز کی کال اور ماہ پارہ کی سوچ ایک ساتھ آئی اب یار بھی شیریں ہے مگر سوچ یار………؟ شاید کوئی بتاسکے.
خیر انجانے میں شیراز کی کال اٹھانا پڑی۔ کئ شکوے اور طعنے سننے پڑے اسکے بعد شیراز نے گاؤں کی کچھ نئ تازہ خبروں سے آگاہ کیا.
ویسے مسافرت کی زندگی میں اپنے گھر اور گاؤں کی ہر خبر شدید دلچسپ لگتی ہے چاہے وہ جس نوعیت کی ہو. شیراز سے بات کی فراغت کے بعد مجھے کوئی اور کام نہ تھا اس کے علاوہ کہ میں سوجاتا.
لیکن جب سونے کیلئے لیٹا تو پھر اس گوہر نایاب کی یاد اور سوچ نے دامن پکڑااور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، سو میں نے ماہ پارہ کی یاد کو گود میں بٹھا ہی لیا. میرا جگرا شیراز اکثر کھتا تھا یار جبران یادوں اور, سوچوں کی دنیا بھت حسین ہوتی ہے قسم سے میں تو سوچوں کی دنیا, میں بادشاہ بن جاتا ہوں مگر جب اس فریبی دنیا میں جھانکتا ہوں تو سب سے بڑامفلس اور ملنگ میں ہی ہوتا ہوں. آج ماہ پارہ کو اپنے سرہانے بٹھاکر اسکی مخروطی انگلیوں کو اپنے بالوں میں گھماتے ہویے اگر شیراز میرے سامنے ہوتا تو میں اسکی وہ چھوٹی سی ٹھوڑی اپنے ہاتھ سے اوپر کرکے کھتا کہ میرے یار تو, سچ کھتاہے سوچوں کی دنیا بھت حسین ہے بھت ہی. نجانے وہ نازنین کب تک میرے سرہانے بیٹھی رہی البتہ میری آنکھ دروازے کے بجنے پر کھلی میں ہڑبڑاتا ہوا خوابیدہ آنکھوں کے ساتھ دروزاے کی جانب لپکا دیکھا تو سجاول کھڑا تھا جی سجاول میں نے ایک بند دوسری کھول کر بھاری آواز میں اس سے پوچھا جی جبران بھائی وہ امجد بھائی آپکو بلارہے ہیں کہ آپ جلدی سے میرے پاس حاضر ہو…
میں کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا اچھا ٹھیک ہے آپ جاؤ میں آتا ہوں .
سجاول کو روانہ کرکے میں. کپڑے بدلنے میں مصروف ہوگیا۔ تیار ہوکر امجد کی طرف ہولیا. امجد سے ملاقات کے قبل میں نے کئ بار سوچا کہ آخر امجد کو میری کیا ضرورت پڑگئ؟؟
خیر میں مخصوص نشست گاہ میں داخل ہوگیا. جھاں امجد وغیرہ پہلے سے موجود تھے میں نے سلام کیا مگر ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا وہ اسطرح کہ وہ امجد جو کبھی میرے سلام کا جواب دینا گوارا نھیں کرتا تھا آج میرے سلام کے جواب میں اپنی نشست سے مجھے گلے لگانے اٹھ چکا تھا.
مجھے اس,وقت اپنی قسمت پر ایک زوردار ہنسی بھی آئی لیکن میں نے  اندر ہی اندر جزب کرلی میں بھی اسکے پھیلائی بانھوں میں جانے لگا لیکن جیسے ہی میری ٹھوڑی امجد کے کاندھے پر پہنچی تو عین سامنے عبداللہ بھائی کو میں نے دیکھا جو مجھے آنکھ کی اشارےے سے دور رہنے کا عندیہ دے رہے تھے سو میں امجد کے فریبی بانھوں سے لگتے ہی جدا ہوگیا جسے اس نے محسوس بھی کیا مگر کچھ کھا نھیں .
بیٹھنے پر میں امجد کو مخاطب کرکے کہنے لگا,ہاں امجد صاب تو آج کس جرم کیلئے میری تلاش تھی جو سویرے سویرے ہم غریبوں کو جگانا اور بلانا پڑا؟ ہاں یار اصل میں رات گئے مستان صاب کا پیغام ملا کہ وہ صبح جلدی آئنگے تو جبران وغیرہ کو تیار رکھو.. اچھا تو یہ بات ہے؟ جی بس یھی بات ہے .
میں عبداللہ بھائی کی جانب متوجہ ہوا ہاں بھائی کیسے گزری رات؟ وہ ہنستے ہوئے کھنے لگے جیسے آپکی گزری جواب میں میرا بھی قہقہہ چھوٹ,گیا.,اتنے میں سردار مستان کی شاہانہ آمد کی خبر ہوئی سو ہم اسکی تعظیم نشست سے اٹھ گئیے.

قدرے دیر میں وہ ہم پر داخل ہوگئے ہم نے انھیں آداب کیا اور بیٹھ گئے.
آج میں مستان کے بلکل قریب والی کرسی پر تھا, جھاں کبھی امجد ہوا کرتا تھا. امجد بلکل میرے سامنے عبداللہ بھائی کے قریب میں تھا.
ماحول پر اس, وقت سناٹے کاراج تھا جسکی چادر مجھے ہی چاک کرنی پڑی اور, میں نے سردار صاب سے حالت طبعیت دریافت کرنا بہتر جانی. لیکن جواب وہ مسکرانے لگے میں گھبرا گیا کی شاید مجھ سے کوئی غلطی ہوگئ جو کہ تھی ہی غلطی لیکن نیکی بن گئ.
سردار مستان اپنی گرجدار آواز میں بولے جبران میری ساٹھ سالہ زندگی میں میں جب بھی اس دربار میں داخل ہوا ہوں تو میرے سارے مشیر اور وزیر اس وقت تک چپ کا روزہ رکھے ہوتے تھے جب تک میں نہ بولتا اور پھر آخرمیں مجھے ہی یہ کفر خاموشی توڑنا پڑتا جو کہ مجھے کبھی اچھا نھیں لگا، لیکن آج آپ نے ایک اجھا قدم اٹھایا جس پر میں آپ سے خوش ہوں۔ اللہ آپکی زندگی لمبی کرے. میں نے سردار مستان کا یہ لمبا جواب سن کر انکو بطور, شکریہ آداب کیا.

اسکے بعد وہ کھنے لگے ہاں تو میں آج آپ لوگوں سے اپنی زندگی کا عمدہ ترین سوال کرنا چاہتا ہوں آپکی کیا رایے ہے اس نے امجد کی طرف دیکھا. امجد نے بزور کھا جی حضور آپ بلکل کریں سوال. ہاں جبران؟ جی حضور کریں سوال مجھے امجد کی تائید کرنی پڑی. لیکن اگر مجھے علم ہوتا, اس سوال کے خمیازے کا تو میں اس دن سردار مستان کے سامنے منت کرتا کہ خدارا آپ سوال نہ کرے لیکن میں لاعلم تھا. سرادار نے سوال کردیا کہ کیا ایسی عورت آپکی نظروں میں ہے جو ایک تو خوبصورت ہو دوسرے نمبر پر اس کی آواز بھی حسین ہو اور تیسرا, یہ کہ کسی غیر آدمی نے اسے دیکھا بھی نہ ہو؟؟؟. یہ سوال سنتے ہی ماہ پارہ میری آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوگئ امجد سجاول اور عبداللہ لاجواب سے ہوکر مسکرانے لگے سردار میری طرف متوجہ ہویے جی جبران شاید تم اس سوال کا جواب دے سکتے ہو؟ میں نے انھیں جواب والا تاثر دیا وہ بولے لیکن اتنا بتادوں میرا سوال بہت اہم ہے سوچ سمجھ کر جواب دینا ایسا نہ ہو تم خود ہی اپنی قدر کھو بیٹھو. میں اپنی نشست سے اٹھ کھڑا, ہوا اور کھنے لگا, دیکھیں حضور سوال تو کئے اسی لئے جاتے ہیں کی سایل کو اس کا جواب مل جایے اور, پھر میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ آپکے سوال کا جواب میرے پاس موجود ہے. سردار میری بات سن کر اپنی نشست پر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور مجھے جواب طلب نظروں سے گھورنے لگے. ….

جاری ھے….

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں