حسد کا اژدھا… نواں حصہ.

اتنی صدیوں بعد اس نازک اندام کے نازک لب ہلے بھی تو ایک شکوے کیلئے.. جب اسکا چھرہ غصے سے سرخ تھا اور حسین پلکیں لرزرہی تھیں۔ آج کالے لباس میں اسکا گورا رنگ ایک الگ قسم کاغضب ڈھارہا تھا۔ میری نظر چند لمحوں کیلئے اسکی نظر سے ٹکرائی تو اس نے جھک کر شاداب پلکیں جھکا لیں…. ( آج کا بسم اللہ)

اصحاب دانش نے کہا تھا کہ جب بھی کوئی فیصلہ کرنا ہو کم ازکم ایک بار اس سے قبل سوچ لیا کرو. یقیناً یہ بڑے کام کا جملہ ہے. لیکن ہم جیسے لوگ اس کو اپنے جزبات کی ارتعاش کیوجہ سے آگ لگادیتے ہیں اور پھر بعد میں سارا الزام لفظ کاش کے سر توپدیتے ہیں کہ اے کاش ایسا ہوتا کاش ویسا ہوتا.اگر لفظ کاش نہ ہوتا تو نجانے ہم جیسے انسانوں کا کیا بنتا جو دن میں سو دفعہ اپنی بولی کا سہارا لفظ کاش کو بناتے ہیں…. ایک دن میں اور عبداللہ بھائی یوں ہی حویلی کا چکر کاٹ رہے تھے ایک تاریک کمرہ جو ہمیشہ بند ہی رہتا تھا پر ہمارا گزر ہوا عبد اللہ نے کھا جبران. جی عبداللہ بھائی یہ کمرہ دیکھ رہے ہو؟ جی یہ کبھی کبھی ہمارا مقدر بن جاتا ہے چلو آگے .. میں عبداللہ بھائی کی بات سے زرا متجسس سا ہوگیا کہ انکا مطلب آخر کیا ہے؟ لیکن پھر اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھا.

سردار مستان ٹکٹی باندھ کر اپنے جواب کا انتظار کررہاتھا . میں اپنی نشست سے اٹھا. سردار کو آداب کیا اور امید دلادی کہ جبران آپکے جواب کی مکمل استطاعت رکھتاہے میں گویا ہوا. جی حضور رب نے ایک پھول سے میرا رشتہ جوڑا ہے جو مجھ سے تو میلوں دور ہے لیکن اسکی سانسیں اپنی شہ رگ پر محسوس کررہاہوں. اسکی گھنی زلفوں کی مہک میلوں دور بھی میرے رگ رگ میں بسی ہے…. جبران میاں آپ کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ سردار مستان کے بارعب آواز نے میری سماعتیں تھام لیں. جی حضور آپکے سوال کا جواب ہے کہ میرے پاس ایک ایسی نازنین موجود ہے جو خوبصورت خوش آواز اور باپردہ ہے. جو ماہ پارہ کے نام سے موسوم ہے. میرے منہ سے جوں ہییہ الفاظ نکلےتوں ہی امجد کے جسم میں لمحہ بھر کے لئے جنبش ہوئی ایک اژدھا جسکی آنکھوں میں حسد کی لازوال چنگاریاں تھیں اپنی نشست پر سیدھا ہوکر بیٹھا اور مجھے مخاطب کرکے بولا. ارے اوے جبران میاں یہ تم کونسی ماہ پارہ کی داستان کمال بیان کرر ہے ہو؟؟ کیا میں اسے جانتا نھی؟ کیا اس سے امجد یعنی میری برسوں کی دوستی نھی قایم؟ خدارا جھوٹ بولنا ہے تو زرا ڈھنگ سے تو بولو.
میری سماعتیں مردہ ہوگئیں زمین کا پاوں تلے سرک جانے والے جملے کا معنی مجھے اس وقت سمجھ آیا میرے سارے جسم کاخون کن پٹھیوں کی طرف دوڑنے لگا. لمحہ بھر کے لئے مجھے یوں لگا جیسے میں اپنی قوت گویائی کھو بیٹھاہوں. میرے ذھن پر امجد کے کھے گئے الفاظ لوہے کی سلاخیں بن کر وارد ہورہے تھے میں اپنی جگہ ایسا کھڑارہا جیسے کسی نے مجھے ایلفی سے وہاں چپکایا ہو………………………. زھن میں دھماکے حلق میں کانٹے اگ آیے زبان پر کڑواہٹ بچ گئ.
ماحول پر سناٹے کی بولی زوروں پر تھی……. جبرااان……….. سردار مستان گرجے. میرا سر بے ساختہ انکی جانب اٹھ گیا. یہ میں کیا سن رہا ہوں؟؟؟ میں مستان کے جواب میں چپ کو اپنا ساتھی بناے سراپا سوال بنا کھڑا تھا. سامنے عبداللہ بھائی کی آنکھوں میں مجھے آنسووں کی ایک لمبی سی لکیر نظر آئی سجاول سر جھکائے بیٹھا یہ احساس دلارہا تھا کہ یہ کیاہوااا……………………

سردار نے امجد کو مخاطب کرکے کھا امجد کیا تم سچ بول رہے ہو کہ انکی بتائی ہوئی ماہ پارہ حقیقت میں ماہ پارہ نھی بلکہ وہ تمہیں بھی جانتی ہے؟ جی حضور میں بلکل سچ کہ رہاہوں امجد نے سردار مستان کو یقین دلایا. تو کیا تم کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہو ؟ جی حضور میں ثبوت دینے کو تیار ہوں.
مجھے اس تھوڑے سے وقت میں وہ ماہ پارہ جوجان سے بھی عزیز تھی کی شکل کو خیال میں لانا بھی گناہ کبیرہ لگنے لگا. . سردار مستان مجھے پھر مخاطب کرکے بولے جبراان.. جج جی ححضضو. الفاظ میرے منہ میں ہی ٹوٹ گئے. اور میں جی حضور نھی بول پایا. وہ بولے جب یہ بات تھی توآپ نے میرے سوال کا مذاق کیا سوچ کر اڑایا؟ کیا آپکو سردار مستان کے دربار کامزاج سمجھ نہ آیا؟جو یہ حرکت کردی ؟اب اپنی سزا خود تجویز کرلو. اور امجد تم ثبوت کب تک پیش کروگے؟ وہ امجد کی طرف متوجہ ہوگئے. حضور مجھے ایک مہینے کی چھٹی درکار ہے تاکہ میں گاوں جاسکوں اپنی ماہ پارہ سے بھی مل لونگا اور نشانی ثبوت کے طور پر لادونگا؟.امجد کی درخواست منظور ہوگئ. مستان نے امجد کوچھٹی دیدی. اور اسکو رخصت کرتے ہویے یہ کھا کہ ثبوت پیش نہ کیا تو امجد تیری سزا بھت بتر ہوگی… نھی حضور ایسا کیسے ہوسکتاہے…………. وہ یہ کہتے ہوئے میری موت کا بندوست کرنے نکل پڑا. اور میں تقدیر کے گنجان اندھیروں میں غوطہ زن رہا.
.
جبران میاں تم امجد کے آنے تک گرفتار رہوگے. یہ ہمارا اصول اور قاعدہ ہے اور اگر وہ ثبوت لے لوٹا تو اسکے تین دن بعد تم پھانسی ہوجاوگے. اور اگر وہ خالی ہاتھ آیا تو وہ پھانسی ہوگا…. اب دیکھ لو کہ وہ پھندہ کسکے گلے میں بندھا نظر آتا ہے. …. عبداللہ دلاور سے کھو جبران کو ہتکڑیاں پھنادے. عبداللہ بھائی انتھائی غم کی حالت میں اٹھا اور واپسی میں دلاور لوازماے قیدی ساتھ لیکر حاضر ہوا… میری حالت اس دوران اس مسافر کے سی تھی جو راہ زنو کی بربریت کا شکار ہوکر ریتھلی میدان بے سروسامن کھڑا کسی مسیحا کا منتظر ہو. جب دلاور نے مجھے ہتکڑیا پہنادیں تو مجھے یک دم یہ شعر بھت شدت سے زھن میں در آیا………

صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھرے
ہم نے پھل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا…
وہ جبران جو چند دن میں سردار مستان کا رازدان بنا تھا آج اسی مستان کے اسی دربار میں پابہ زنجیر کھڑا تھا وہ جبران جسکے لئے سردار مستان کے منہ سے اچھے کلمات نکلتے تھے آج اسی مستان کے اسی منہ سے نکلے ایک لفظ کی وجہ سے سراپا سوال بنا کھڑا تھا………. بس شکل ہے بھت بندہ جبران کے اوقات……………………..

مجھے قیدی بنا کر دلاور آگے بڑھا میں اسکے پیچھے چل دیا. ..

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں