حسد کا اژدھا ۔ دوسرا حصہ

کبھی کبھی ہم اتنے تنہا ہو جاتے ہیں کہ ہمارے پاس دکھ بانٹنے کے لئے اپنی ذات تک موجود نہیں ہوتی۔

نگاہیں بہت ہیں جہان میں, کچھ اچھی تو بعض اسکی ضد یعنی بری اور خونخوار۔۔۔ لیکن میرے دل کے جہاں میں جن نگاہوں کا بسیرا تھا اسکا میں لب لباب بھی بیان نہیں کرسکتا۔ کیونکہ بعض چیزیں  ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو الفاظ میں پرونا ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔

میں انہی نگاہوں کی خاطر پردیس پر جانے کو تیار ہوا۔ یہ ستمبر کے آخری ایام کی بات ہے جب میں نے گھر میں یہ مژدہ سنادیا کہ وہ وقت آگیا ہے کھ میں اب تم سے دور نکل جاؤں ۔ شاید دور کہیں کسی مقام پر میری قسمت،  میرااچھا وقت میرا منتظر ہے۔ یہ مغرب کے بعد کا وقت تھا پورے گھر میں صرف میری آواز تھی باقی ہر کونے میں سناٹے کا راج تھا۔ البتہ جب میری نظر ماں جی کی طرف اٹھی تو انکی آنکھوں کو تو آنسوؤں سے تر پایا۔ لیکن ان کے  ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ سو میں اول الذکر سے مغموم اور ثانی الزکر سے خوش سا ہوا۔ بخدا ماں خدا کے بعدوہ ہستی ہے جسکا کوئ نعم البدل نہیں۔۔

رات کے پہلے پہر شیراز سے آخری ملاقات رہی۔ کافی باتیں ہوئیں ،قہقہے بھی ایسے انداز میں لگے کہ گلے میں کڑوے گولے بنتے گئے۔علی الصبح میں پابہ رکاب ہونے والا تھا۔ سب سے رخصت لیکر آخر امی سے ملنے کیلئےآگے بڑھا۔ امی جو رات سے ضبط کئے ہوئے تھیں انکا دامن آخر کار انکے ید مقدس سے سرک گیا اوروہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ میرا دل کرلا رہا تھا ، رو رہا تھا لیکن میں نے آنسو ضبط کئے۔

میرا دوست شیراز مجھ سے اکثر پوچھتا تھا کہ جبران تمیں زندگی میں سب سے مشکل کام کونسا لگتا ہے یا لگا ہے۔

جواب تھا کہ میرے لئے سب سے مشکل کام زندگی گزارنا ہے ۔۔۔ بس۔۔۔۔ لیکن آج کے اس رخصت کے دن کے بعد اگروہ مجھ سے اپنے مخصوص انداز میں پوچھتا تو میرا جواب بلکل الگ ہوتا با اعتبار پہلے کے کیونکہ امی کی وہ آنکھیں بیٹے کیلئے ہمہ وقت روتی رہتی ہیں۔ اس میں پلےوہ مقدس آنسوں جب رخصت کے وقت بھی توشہ دان میں رکھ دیں تو بھلا اسکی برداشت اس سے مشکل گھڑی کونسی ہوسکتی ہے

میں شہر آیا۔ پہلے دن ہی مجھے ایک بندہ ملا ۔ اس نے اپنا نام عادل بتایااور مجھے اپنے گھر لے گیا۔ بڑا مہمان نواز تھا۔۔ اگر چہ مفلس تھا لیکن ہی غریب لوگ جزبات کے معاملے میں بڑے امیر ہوتے ہیں، سو عادل بھی بلا کا امیر تھا۔ اسکا چہرھ اسکے جزبات کی عکاسی کررہا تھا۔ یہاں رہ کر مجھے یہ احساس بڑی شدت  سے ہوا کہ مہمان کو میزبان کا کھلایا ہوا کھانا نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اسکا ماتھا دیکھنا چاہئے۔ اگروہ رشن ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ آپکا یہاں آنا ٹھیک ہے۔ لیکن اگر میزبان عبوساً قمطریرا ہو تو سمجھ لو کہ آپکی آمد یہاں نہ آمد ہی ہے۔ اگر چھ دسترخوان اسکا تکلفات سے پر ہے، عادل کا چہرہ میں نے اپنے لئے بہت روشن پایا۔ رات کی گپ شپ میں اسے میرے آنے کا مقصد پتہ چل گیا۔ تو کہنے لگے میں کوشش کرونگا آپکو کسی مناسب جگہ سیٹ کروا سکوں۔عادل کا شکریہ ادا کرکے میں سونے کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا کہ اچانک میرے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ دیکھا تو شیراز کا نمبر تھا۔ لیکن ریسو نہیں کر پارہاتھا۔ نہ جانے کیوں؟

صبح ہی سے شہر کی وسعت میں میں گم ہوگیا لیکن یہ شہر اجنبی شہر تھا نا آخر۔ سو مجھ پہ اسکی گلیاں راستے سب ہنس رہے تھے اور میں تھا کہ جواب میں صرف چپ کا سہارا لیئے ہوئے تھا۔دوسرے دن سے ہی میرا امتحان شروع ہونے والا تھا ،جو کہ پھر شروع ہو گیا۔ اور خوب شروع ہوا۔

جاری ہے۔۔۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں