ایک جادوگر کی داستان۔۔۔ بازی گر (دوسری قسط)

اس فقیر نے جو اشتہار نما پرچہ پھینکا تھا۔ اب اس پر کوٹھی کے پتے کی بجائے ایک مشہور پیزا کمپنی کا اشتہار میرا منہ چڑا رہا تھا.
حالانکہ کوٹھی کا پتا مجھے ازبر یاد ہوچکا تھا.میرے دماغ میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے خیالات گھوڑے کی طرح  دوڑ رہے تھے. یوں لگ رہا تھا جیسے میری تین سال کی محنت رنگ لا چکی ہے.
خیالی گھوڑوں کی سواری کے دوران میرے ذہن میں اس پتے پر پہنچنے کی شدید لہر اٹھی.اس لہر کے سامنے “شُق” کے غنڈوں کی لگائی گئی چوٹیں بے اثر ثابت ہو رہی تھیں.میرے دل و دماغ جیسے کسی کے ٹرانس کے زیر اثر تھے.مجھے نہیں یاد میں پارک سے کیسے نکلا۔ ٹیکسی کیسے پکڑی اور اس پتے پر کیسے پہنچے،میں ٹرانس کی کیفیت سے اس وقت باہر نکلا جب میری انگلیاں ڈور بل کے بٹن پر تھیں.چاہتے ہوئے بھی میں انگلیاں ہٹا نا سکا.اسی دوران دروازا کھل گیا.اور حیرت کا ایک اور نظارہ مجھے دیکھنے کو ملا .دروازہ کھولنے والا وہی فقیر تھا جس نے پارک میں میری جھولی میں پرچی ڈالی تھی.مگر اب تو اسکا حلیہ ہی بدل چکا تھا.
کشادہ پیشانی، چوڑا سینہ, فوجی کٹ بالوں میں وہ بالکل کسی داستان کا  شہزادہ لگ رہا تھا.میں بھی کوئی عام شکل و صورت کا بندہ نہیں تھا۔ مگر اسکی وجاہت و حسن کے آگے میں ایسا تھا جیسے چاند کی چمک کے آگے تارے ہیچ ہوتے ہیں.
پھر ایک اور حیرت نے میرا استقبال کیا جب وہ شخص قدیم درباری جس طرح بادشاہوں کو جھک کر سلام کرتے تھے اس طرح جھکا اور بولا۔۔” غلام کو غلام کا غلامانہ سلام”مجھے “کُر” کہتے ہیں.۔۔ اس نے اپنا تعارف دیا ۔

اور میرا نام آفتاب ہے.میں نے کہا
میں جانتا ہوں۔ اس نے مسکرا کر کہا میں لفظوں پر غور کرنے کی بجائے اس کے ظاہری حلئے میں کھویا ہوا تھا.پھر اس نے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور ایک محل نما مکان کی طرف بڑھنے لگا.پھر وہ سیدھا مجھے ڈرائنگ روم میں لے گیا.
ڈرائنگ روم کی بناوٹ اور سب سے خاص بات سجاؤٹ دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں.وہاں پر ایک ایک چیز لاکھوں روپے کی مالیت کی تھی. پھر میری نظریں ادھر ادھر گھومتی ہوئی ایک پینٹنگ پر جا کر اٹک گئیں.میں کھڑا ہو کر اسکے قریب پہنچ گیا.پینٹنگ میں ایک اپسرا تھی جو جھیل میں نہانے کے بعد باہر نکل رہی تھی. ایک پاؤں جھیل کے اندر اور ایک پاؤں خشکی پر تھا.
گیلا لباس بدن پر چپکا ہوا تھا۔جو اسکے جسمانی نشیب و فراز کو ظاہر کر کے اسکے حسن کو دو آتشہ بنا رہا تھا.
جھیل، تنہائی، ویرانی میں وہ لڑکی ایک پری لگ رہی تھی.
اور پینٹنگ بنانے والے کے ہاتھ سب سے باکمال تھے.
اسنے جس طرح اس لڑکی کی تصویر کو جھیل سے نکلتے ہوئے دکھایا تھا اور پینٹنگ بنائی تھی،کوئی بڑا سے بڑا مصور بھی  ہوتا تو اسکے ہاتھ چوم لیتا۔میں خود بھی کسی حد تک مصوری سے آشنا تھا تھا.مگر جس طرح وہ پینٹنگ بنائی گئی تھی،وہ بہت ہی باکمال ہاتھوں کی لگتی تھی.میری نظریں ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد دوبارہ پینٹنگ میں موجود لڑکی پر پڑیں.اس لڑکی میں ایک کشش تھی جو مجھے اپنی جانب بلا رہی تھی.اسی دوران دروازہ کھلا اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں .

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا .اس کا نام آفتاب تھا. ان دنوں میں ایک کہانی لکھنے کی کوشش میں  تھا. مجھے اپنا دماغ منجمد لگتا . سارا دن مختلف کہانیوں کے پلاٹ بنانے میں گزر جاتی۔ کوئی بھی پلاٹ اس قدر مکمل نہیں لگا کہ میں اسے کہانی کے روپ میں ڈھالتا. پھر تنگ آکر شام کو ایک پارک میں آ بیٹھا میری عادت تھی جہاں بیٹھتاوہیں آنکھیں بند کر کے کوئی نیا پلاٹ سوچنا شروع کر دیتا.اس وقت بھی میں نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں.جب ایک نوجوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور بولا
کہانی چاہیے؟
میں جو اپنے خیالوں میں مگن تھا چونک پڑا۔۔ ہاں مگر تم کون ہو؟ تمھیں کیسے پتا میں کہانیاں لکھتا ہوں؟ اور کہانی کیا ہے؟
اب میں نے غور سے اسکی طرف دیکھا.اچھا خاصا خوبصورت نوجوان تھا.مجھے لگا کوئی عشقیہ کہانی ہوگی.وہ ہنس پڑا اتنے سوال عامر صاحب۔میرا نام آفتاب ہے.مجھے پتا ہے آپ لکھاری ہیں.
آپ کو کیسے پتا چلا ؟میری آواز میں حیرت تھی

آپ میری کہانی سن کر جان لیں گے، میری داستان بہت عجیب ہے.مجھے نہیں معلوم آپکے معیار کی ہوگی یا نہیں.لیکن میں اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں.آپ کہانی سنیں گے نا؟ وہ امید بھرے لہجے میں بولامیں تو خود کہانی کی تلاش میں تھا
ہاں ہاں کیوں نہیں۔ میں نے مسکرا کر اسے اعتماد دیا
شکریہ عامر صاحب میری کہانی اسی بینچ سے شروع ہوئی تھی. یہی بینچ تھا جس پر میں “شُق” کے غنڈوں سے مار کھا کر بیٹھا تھا.
اور “کُر” نے میری جھولی میں ایک جادوئی پرچہ ڈالا تھا.
ایک منٹ آفتاب صاحب میں معافی چاہتا ہوں پر مجھے نہیں پتا یہ “شُق” اور “کُر” کون تھے.میں نے اسکی بات کاٹ ک معذرت خواہانہ لہجے میں کہاآپ کہانی کو تسلسل میں بیان کریں.آپ کہانی کو شروع سے کیوں نہیں بتاتے؟
اوہ اچھا میں شروع سے بتانا شروع کرتا ہوں. اس نے ابتداء سے تفصیل بتائی اور اب خاموش ہوگیا .
آفتاب صاحب آگے کیا ہوا تھا؟آگے کی کہانی کل اسی وقت جس وقت آج ملے!یہ کہہ کر وہ ایک طرف چل پڑا.
آج میں مقررہ وقت سے پہلے وہاں پہنچ گیا .میں اپنے خیالات میں کھویا ہوا تھا.جب مجھے آفتاب کی آواز سنائی دی.مجھے نہیں پتا تھا وہ کب آیا.میں چونک کر اسکی طرف دیکھنے لگا.
وہ بول رہا تھا.بہت خوبصورت تھی وہ نہاتی ہوئی لڑکی. میں نے سوچ لیا تھا جو بھی اس پینٹنگ کا مالک ہوگا اس سے یہ پینٹنگ مانگ لونگا.اس لیے نہیں کہ وہ پینٹنگ مہنگی تھیبلکہ اس لیے کہ مجھے اس تصویر والی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی.ہاں پہلی نظر میں محبت کر بیٹھا تھا.کئی لڑکیوں کے ساتھ میں نے موج مستی کی تھی پر اس جیسی کبھی سوچی بھی نا تھی.دروازہ کھلا تو میری سانسیں ہی رک گئیں. وہی لڑکی میرے سامنے آچکی تھیجسے مصور نے نہاتے ہوئے دکھایا تھا.میں نے تو تصویر دیکھ کرہی دل دے دیا تھا.
اور میرے سامنے وہ اپسرا جیتی جاگتی حالت میں آگئی۔ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ.میری تو زبان ہی گنگ ہوگئی.
اس نے مجھے پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا.اب میں اسے یک ٹک گھور رہا تھا.
تو آفتاب صاحب کیسی لگی آپکو میری پینٹنگ،اسکی آواز تھی کہ کوئی مدھر بانسری۔ میرے کانوں میں جلترنگ سے بج اٹھے تھے.
میں سوچ رہا تھا کہ پینٹنگ میں کسی مصور کا کمال ہے.پر آپ کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ وہ مصور کا کمال نہیں تھا.
آپ ہیں ہی ایسی کہ جس تصویر میں آپ ہونگی وہ تصویر خوبصورتی کا معیار بن جائے گی.مجھے اپنی آواز نشے میں ڈوبی ہوئی محسوس ہو رہی تھی.ایسے لگتا تھا میرے اندر کوئی عاشق چھپا بیٹھا ہے.اور جب سے میں اس مکان میں داخل ہوا تھا “شُق” کے غنڈوں کی لگائی گئی چوٹیں بھول چکا تھا.
اوہ آپکو تو کافی بڑی چوٹ لگی ہے.آپ کے ماتھے سے تو خون نکل رہا ہے.
مجھے تو اب یاد آیا کہ مجھے چوٹ لگی ہے ورنہ پہلے تو مجھے سب بھول چکا تھا.میں نے ماتھے پر انگلیاں پھیریں تو میری انگلیاں خون سے بھر گئیں.
آپ کچھ نہ کریں.اس نے “کُر” کو آواز دی.وہ جیسے باہر اسی آواز کا انتظار کر رہا تھا.فوراً اندر داخل ہوا،
جی میڈم۔۔
اسکے زخم ٹھیک کرو.
جی میڈم۔اس نے کہا اور میرے قریب آگیا.پھر کچھ منہ میں بربڑایا اور پھر میرے اوپر پھونک مار دی.اور مجھے ایسے لگا جیسے مجھے کبھی کوئی چوٹ لگی ہی نہیں تھی.میں نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا وہاں پر اب کچھ بھی نہیں تھا.
اب وہ لڑکی دوبارہ بولی،کھانا لاؤ ہمارا خاص مہمان آیا ہے آج! یہ سن کر “کُر” نے مجھے گھورا اور ایک انگلی کو گول گھمایا.
میں نے سامنے دیکھا تو میز مختلف انواع کے کھانوں سے بھر چکی تھی.
اب تم جاؤ۔اس نے “کُر” سے کہا.وہ چلا گیا.
وہ میرے سامنے ایک صوفے پر بیٹھ گئی.
آپ کھانا کھائیں،اور میرے لیے اسکا یہ حکم جیسے اپنے سب کاموں سے پیارا تھا.میں کھانے پر ٹوٹ پڑا.
تب وہ بولی میرا نام۔ماہ نور ہےارے ہاں میں تو بھول ہی گئی تھی.”شُق” سے پنگا لے کر تم نے اچھا نہیں کیا.وہ بہت ہی طاقتور جادوگر ہے.اگر “کُر” نہ ہوتا تم مر چکے ہوتے.اس نے تمھیں تین خطرناک جادو کے حملوں سے بچایا ہے.اس حویلی میں داخل ہونے کے بعد وہ تم پر حملے نہیں کر سکتا.پر تم جیسے ہی باہر جاؤ گے اسکے حملے سے بچ نہیں سکو گے.مگر ایک صورت ہے اگر “شُق” کو مار دیا جائے تو تب تم بچ سکتے ہو.اور اسے تمھیں اپنے ہاتھوں سے مارنا پڑے گا.
میں کیسے مار سکتا ہوں میں تو باہر نکلوں گا اور وہ مجھے مار دے گا.یہ کام “کُر” کیوں نہیں کرتا؟اسکے حسین چہرے پر برہمی کے آثار نظر آنے لگے.
اس نے کہا تمھیں کیا پتا جادوئی دنیا کا.جادوئی دنیا کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں.اور جادوئی دنیا میں مختلف جادو کوتے ہیں.
جادو چار قسم کا ہوتا ہے.کالا، پیلا، نیلا اور سفید جادو.ان میں سے سب سے خطرناک جادو سفید ہوتا ہے.پہلے مرحلے میں کالے جادو پر عبور حاصل کرنا پڑتا ہے.کالے جادو کے آٹھ مرحلے ہیں.ہر اگلہ مرحلہ پہلے سے بہت سخت اور بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے.کالے جادو کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے والا “کُر” کہلاتا ہے.اور دوسرا مرحلے والا “شُق” کہلاتا ہے.جس سے تم نے لڑائی کی ہے وہ “شُق” ہے.
اور جو تمھیں ہمارے پاس لایا ہے وہ درجے میں “کُر” کہلاتا ہے.”کُر” ، “شُق” سے کافی کمزور ہوتا ہے.مگر ہمارے “کُر” کو اسکے استاد نے کچھ طاقتیں دان کی تھیں.یہی وجہ ہے کہ وہ تمھیں بچانے میں کامیاب رہا ہے.
اور جادوئی دنیا کے کچھ اصول ہوتے ہیں.جس جگہ ایک جادوگر اپنا گھر یا ٹھکانا بنا لیتا ہے اس پر دوسرا جادوگر حملہ نہیں کر سکتا.
یہی وجہ ہے کہ ہم اس پر حملہ نہیں کر سکتے اور نہ وہ ہم پر.اس لیے اگر زندہ رہنا ہے تو تمھیں خود اسے مارنا پڑے گا.
لیکن میں تو جیسے ہی باہر جاؤں گا.وہ مجھے اپنے جادو کے ڈر سے مار ڈالے گا.
نہیں وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار چکا ہے.تمھیں اس نے ایک ہفتہ اپنے سامنے بٹھا کر پھونکیں ماریں تھیں.
ہاں تو؟

تو اس کی اس پھونکوں نے تمھارے دماغ کا راستہ بند کر دیا ہے.
کیا مطلب؟
مطلب اب کوئی جادوگر تمھارے دماغ میں نہیں جھانک سکتا.
اس لیے تم “شُق” کے پاس جاؤ گے۔ اسکے غنڈوں کو بولو گے کہ تم معافی مانگنے آئے ہو اور جتنے پیسے وہ جادو سکھانے کے لیے مانگے گا وہ دینے کو تیار ہو. اور اپنے پاس ایک خنجر چھپا کر جاؤ گے. اور جیسے ہی تمھیں موقع ملے گا تم نے اسکی گردن کاٹ دینی ہے.یاد رہے وار صرف گردن پر کرنا ہے. پیٹ میں یا کہیں بھی وار کرو گے تو وہ منتر پڑھنے کے قابل رہے گا اور پھر وہ خود کو بھی بچا لے گا اور تمھیں بھی مار ڈالے گا.اور یہ سب کام آج ہی کرنے ہیں.میں اسکے چہرے میں کھویا ہوا تھا.
چلو اٹھو تیاری کرو،وہاں جا کر یہی کہنا ہے کہ تم کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہو گئے تھے.ہوش میں آکر سیدھا اسی کے پاس پہنچے ہو.اسکے بعد “کُر” نے مجھے ایک خنجر دیا اور بہت ساری چیزیں سکھائیں.پھر اسنے مجھے آنکھیں بند کرنے کو کہا.
میں پل پل بدلتے حالات پر حیران تو تھا ہی پر “کُر” کی آواز پر میں نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں.میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی.
کیونکہ میں “شُق” کے اڈے کے باہر موجود تھا.خنجر پر میری گرفت مضبوط ہو چکی تھی.
جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں