ایک جادوگر کی داستان۔۔۔۔ بازی گر (پہلی قسط)

میری ہمیشہ سے  خواہش رہی تھی کہ میں جادو سیکھوں ۔۔ جادو سے انسان کیا کچھ نہیں کر سکتا؟
انسان اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے اور جب خواہشات بغیر کسی مشقت کے حاصل ہونے لگیں تب ہی یہ دنیا جنت بنتی ہے.
ہرعام انسان کی طرح میری خواہشات بھی یہی تھیں کہ پیسہ، گاڑی، بنگلہ نوکر چاکر ہوں اور میں شہنشاہ اعظم بن کر حکم چلاؤں، لیکن اس سب کے لیے طویل محنت اور لگن درکار ہوتی ہے.جبکہ مجھے شارٹ کٹ طریقے سے سب چاہیے تھااور شارٹ طریقوں میں ایک طریقہ جادو ہوتا ہے اور دوسرا غیرقانونی طریقے۔ اور غیر قانونی طریقوں میں کامیابی سے زیادہ موت کا یقین مستحکم ہوتا ہے
جبکہ مجھے موت نہیں چاہئیے تھی ایک لمبی زندگی اور  پیسہ چاہئیے تھا. میرے لیے بہترین طریقہ یہی تھا کہ کہیں سے جادو سیکھ لوں.
اس مقصد کے لیے میں نے جنگل سے بیاباں تک، مسجد سے خانقاہ تک، عامل سے تانترک تک ہر جگہ چھان ماری۔ کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جو میں نے چھوڑی ہو.لیکن ہربار  دھوکہ یا ڈھکوسلہ ملا اور ٹھگ بازی کے نت نئے طریقوں سے آشنائی.
ان چکروں میں الجھتے ہوئے مجھے تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے والا تھا مگرحاصل وصول صفر ۔ ابھی تک میرا جادو سیکھنے کا شوق وہیں تھا اور میرا اندر بھی جادو سے ویسے ہی خالی تھا جیسے تین سال پہلے مگر ہاں ان چکروں میں پڑ کر میں نے اپنی گاؤں کی زمین جس سے میرا سال بھر کا خرچہ نکل جاتا تھا اس میں سے میں  تین ایکڑ بیچ چکا تھا۔
آج بھی میں ایک عامل کے دعوے جاننے کی کوشش میں اس کے آستانے پر گیا ۔ اس عامل کے پاس جاتے ہوئےمجھے ایک ہفتے سے اوپر ہونا والا تھا۔اس کا نام بے حد عجیب تھا “شُق”لیکن ابھی تک نہ اس نے مجھے کچھ سکھایا تھا اور نہ ہی کوئی پیسے وصول کیے.
وہ مجھے بلاتا تھا اور ساتھ بٹھا کر آنکھیں بند کرنے کو کہتا اور خود بھی آنکھیں بند کر لیتا. میں کئی بار چپکے سے آنکھوں کو تھوڑا سا کھول کر دیکھ لیتا تھا مگر اسکی آنکھیں بند ہوتی تھیں.
مگر آج جیسے ہی میں اندر داخل ہوا تو “شُق” کہنے لگا. آج تک میں نے تیرے اندر چھپی ہوئی جادو سیکھنے کی یوجنا دیکھی،اب میں تمھیں جادو سکھاؤں گا لیکن اسکے بدلے تمھیں مجھے رقم دینی ہوگی. یہ بات سنتے ہی میرے اندر اسکی عظمت کے جو بت کھڑے تھے وہ فوراً ڈھے گئے۔ اور میں نے شدید غم اور غصے سے اسکا گریبان پکڑ کر اسکے چہرے پر ایک تھپڑ جڑ دیا.
اسکا چہرہ لال بھبوکا ہوچکا تھا اور اسکی آنکھوں میں جیسے بجلی کوندنے لگی تھی. اسی دوران اسکے پالتو غنڈے اندر داخل ہوئے اور مجھے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا.میرے ہوش گم ہورہے تھے جب میں نے “شُق” کی للکارتی ہوئی دھمکی سنی!
حرامزادے تو نے ایک “شُق” پر انگلی کھڑی کی ہے.میں تیرا جینا حرام کردونگا.تو پل پل موت کے دروازے پر آواز دے گا اور موت تجھے میرے پاس بھیجے گی. لے جاؤ اسے اور پھینک دو کہیں اب یہ خود چل کر میرے پاس آئے گا اور بھیک مانگے گا.اسکے غنڈوں نے مجھے ایک سڑک پر پھینک دیا.اپنی ساری طاقتوں کو مجتمع کر کے میں نے ایک پارک کے بینچ تک رسائی حاصل کی.اور بیٹھ کر اسکی دھمکیوں پر غور کرنے لگا.
اسی دوران میری جھولی میں ایک اشتہار نما پرچہ گرا. میں نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا ایک فقیر مجھے گھور دہا تھا.
اور پھر اسکی سرگوشی نما آواز سنائی دی۔ “تمھاری منزل تمھاری جھولی میں ہے اور ہاں جتنی جلدی کرو گے تمھارا بھلا ہوگا ”
میں نے حیران ہو کر وہ پرچہ اٹھایا، اسکے اوپر ایک پوش علاقے کی کوٹھی کا پتا تھا.میں نے اس علاقے میں ایک لڑکی کے چکر میں ٹیوشن پڑھائی تھی.اسلئے مجھے سارے علاقے کا علم تھا.
میں نے اس فقیر سے پوچھنا چاہا کہ وہاں کون ہے اور تم کون ہو؟
لیکن جب سر اٹھا کر دیکھا  تو کوئی نہیں تھا۔ وہ مدقوق نما شخص گدھے کے سرسے سینگ کی مانند غائب ہو چکا تھا. میں نے حیران و پریشان اس پرچے کو دوبارہ پڑھنا چاہا اور مجھ پرحیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے.۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
….

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں