کرچیاں۔ دوسری قسط

یہ چھوٹا سا گاؤں آج بھی اپنی دیہی خوبصورتی کا پندار سنبھالے ہوئے تھا . ساتھ ساتھ جڑی اونچی نیچی چھتیں , کچھ کچے گھر کچھ پکے مکانات سچے دلوں والے لوگوں سے بسے ہوئے تھے. اردگرد کهیت تھے۔ حد نظر ہریالی شہر والوں کے لیے کسی نعمت متروکہ سے کم نہ تھی . وہ تین دن سے اپنی آبائی حویلی میں موجود تھا جہاں اسکے دادا اور دادی مقیم تھے. اسکے والد عبداللہ گاؤں سے پڑھنے کے لیے شہر میں منتقل ہوئے، مگر انکا رجحان پڑھائی سے زیادہ بزنس میں تھا۔ چنانچہ گریجویشن مکمل کرتے کرتے وہ لیدر امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کر چکے تھے. دادا جان جہاں عقل وفہم رکھنے والےانسان تھے اور عبداللہ سلجھے ہوئے فرماں بردار بیٹے تھے ۔ انکی نسبت اپنی تایا زاد سے طے تھی۔ جس پر دونوں گھرانے خوش تھے. دونوں کی باہمی رضا مندی سے شائستہ بیاہ کر حویلی آ گئی۔ چند دن حویلی میں رہیں اور پھر شہر اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگیں.
مگر دونوں میاں بیوی اپنی گاؤں کی حویلی کو نہ بهولتے تھے اور یہی حویلی سے محبت انکے بچوں کے خمیر میں بھی تھی، ہربار چھٹیوں میں دادا کی حویلی آتے اور خوب مزے کرتے. وقت کے ساتھ ساتھ فرصتیں کم ہونے لگیں اور اب تو عباد پانچ سال بعد حویلی آیا تھا. گزشتہ تین دن سے ہی اسکا معمول تها وہ واک سے واپس آ کر چھت پر سورج کے طلوع ہونے کا منظر دیکھا کرتا تھا. ہر طرف ہریالی اسے مسحورکن لگتی وہ کئی پل چهت سے دور تک فصلوں کو لہلاتے دیکھتا رہتا۔ آج بھی وہ حسب معمول اس خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا سردی اور دھند نے بھی گویا ضد باندھ رکهی تھی وہ نیچے جانے والا تھا کہ بے اختیار اسکی نظر تیسری چھوٹی چهت کے کچے چبوترے پر بیٹھی لڑکی پر پڑی سر جھٹک کر وہ پلٹنے والا تھا مگر کچھ تها جو اسے وہاں پر رکے رہنے پر مجبور کر رہا تھا. یہ اس لڑکی کا بےحد حسین چہرہ نہ تها جس نے اسے روکا تھا نہ وہ اسکے سراپے میں گم ہوا تھا یہ کچھ اور تھا جو اسے روکے ہوئے تها اس لڑکی کے ہاتھوں میں خشک کلیاں تھیں جو وہ ایک کونے میں اہتمام سے ڈال کر بیٹھی گئی تھی ۔
یہ گاؤں کی سرد صبح تھی ۔ سورج اور بادل کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ کبھی سورج چمکتا تو کبھی سرد ہوا جھرجھری لینے پر مجبور کر دیتی. مگر وہ یک ٹک اس کانچ کی مورت کو دیکھ رہا تھا وہ جو گویا ساری دنیا سے خفا تھی. کچے چبوترے پر سوگوار نوخیز حسن خاموشی سے ایک طرف بیٹها تها. مسلسل اسی ایک کونے کو دیکھتی وہ پراسرار سی شہزادی کبھی تهک کر سر گھٹنوں میں دے لیتی عباد نے کئی بار اس کونے میں کچھ دیکھنے کی کوشش کی مگر وہاں کچھ نہ تھا. بے اختیار وہ یہ دلچسپ منظر دیکھتا رہا. اچانک وہ اٹھی اس کونے کی طرف سوگواریت سے دیکھ کر مسکرائی اور نیچے چلی گئی۔ کیا شان بے نیازی تھی اس میں گردوپیش سے بے نیاز وہ سوگوار حسن جاچکا تها۔ عباد الرحمن پہلی نظر کے فریب میں آچکے تھے. حویلی کی سڑهیاں اترتے ہوئے مما پاپا کو انکی مل جانے والی بہو کا شرارتی میسج کر کے وہ دادی کے پاس موجود تھے. باقی معاملات پلک جھپکتے ہی طے ہوتے چلے گئے اور
عباد الرحمن کی آبائی حویلی میں وہ سوگوار چاند اتر آیا تھا.
وہ اب سمجھدار ہوگئی تھی .مار پیٹ کی جگہ اب ڈانٹ اور گهوریوں نے لے لی تھی . بهیا اب اپنا غصہ مہرو پر نکالنے لگے تھے . دادی تسبح کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔۔ اسے دادی کے مرنے کی خوشی ہوئی تھی اسنے سب سے چھپ کر گڑ سے منہ میٹھا کیا تھا اور مسکرائی تھی . اسے ہر مرنے والے پر رشک آتا تھا. جس دن دادی کو سفید کفن میں لپٹا دیکھا بابا کی پلکیں بھیگی ہوئی دیکھیں اسے خوشی محسوس ہوئی. ہاں کچھ تھا جو اسکے باپ کی شعلے اگلتے آنکھوں کو نم کر رہا تھا یہ وہ بے ضرر دادی کی میت تھی .واہ دادی تو جیتے جی تو کچھ کر نہ سکی مر کے اس پہاڑ جیسے مرد کو رلا دیا. وہ پہلی بار دادی سے متاثر ہوئی. اور موت سے اسکی پکی دوستی ہوگئی. گویا موت وہ خوبصورت شے ہےجو اچھے اچھوں کو بے بس کر دیتی ہے۔ میرے بابا، بهیا کو بھی وہ ہرنی کی طرح آنکھیں پٹپٹاتی دنیا کو اپنے طریقے سے سمجھ رہی تھی .
گھر والے سر جوڑے بیٹھے تھے وہ ٹھٹکی تھی . پچھلی بار جب سب سر جوڑے بیٹھے تھے تو مہرو آئی تھی .اب کے……..
اوہ۔۔ اس نے ماں کا چہرہ دیکھا ۔ ماں آج پهر مسکرائی تھی خوبصورت جان لیوا مسکراہٹ مگر دیکھتے ہی دیکھتے مسکراتے چہرے کے نقوش گڈ مڈ ہونے لگے وہاں انگارے دہک رہے تھے سالوں بعد جلے ہاتھوں کا درد جاگ اٹھا اسکے بازو پر چمٹے کا گہرا داغ جل اٹھا وہ جم کر کھڑی تھی مگر اسے لگا وہ بھاگ رہی تھی ہانپ رہی تهی ہر طرف آگ تھی وہ جل رہی تھی . ہر طرف سے اسے داغا جا رہا تھا. اذیت سی اذیت تهی کہ اچانک اسکے کانوں میں ایک چنگاریاں اڑاتی آواز آئی یہ شاید مہرو کی آواز تھی جو اماں کو پکار رہی تھی اماں بیلی گر پڑی ہے اسنے ماں کے بھاگتے قدموں کی آواز سنی
وہ بھاگ جانا چاہتی تھی مگر بے بس تھی اسکے اعصاب مفلوج ہورہے تھے. اسے کسی نے بانہوں میں بھر لیا تھا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔
اسکے چہرے پانی کے قطرے گرے تھے آگ تهم گئی تھی. جلن کم ہو رہی تھی اسکی ماں اسے بانہوں میں بھرے رو رہی تھی. ………لمحوں میں اسکا باپ اور بھائی پہنچ گئے پریشان حال اس پر شدید نقاہت طاری تھی مہرو کی سرسراتی آواز اسکے کانوں میں پڑی مجھے لگتا اماں جی بیلا اپنی شادی کا سن کر بے ہوش ہو گئی تھی . اسکا بھائی ہنسا تھا اور اسکے باپ نے اسکے سر پر شاید پہلی بار شفقت سے ہاتھ رکھا تھا. ماں نے دوبارہ ماتھا چوم کر اسے بتایا کہ بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دهن ہیں. یہ سب کچھ بہت خوبصورت تھا. وہ ایسے خواب بہت بچپن میں دیکھا کرتی تھی مگر آج جب اسے تعبیر ملی تو اسے خواب کے تاوان کے طور پر یہ گھر چھوڑنا پڑا اسکے گھر والوں نے اس کو فریب دے کر گھر سے نکال دیا یہ آخری سوچ تھی جو چھوٹے گھر سے بڑی حویلی تک کے سفر میں اسنے سوچی تھی.

(جاری ہے)

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں