شمامہ(پہلی قسط)

نہ مات کا ھے دکھ اسےنہ جیت کا سرور ھے
نہ انا کا ھے زعم اسے!
نہ ذات کا غرور ھے
یہ نفرتوں سے دور
اور محبتوں سے بھرپور ھے
اس جھوٹ کے
عھد میں بھی
بہت خالص
بہت سچا ھے
یہ میرے اندر کا
جو اک چھوٹا سا
بچہ ھے….
وہ بے حد عام سی تھی نہ  اسکے نین شرابی تھے ، نہ ہی چہرہ کتابی تھا ۔  نہ ھونٹ گلابی اور نہ زلفوں کے گھنیرے بادل۔ نہ بدن کے چھلکتے چھاگل نہ گالوں کی فسوں خیزی، نہ لہجے کی سحر انگیزی نہ سخن کی عطر بیزی .. دیکھنے والا نہ اسے دلنشیں کہہ سکتا تھا نہ حسیں و عنبریں۔ ہاں مگر اس کے باوجود اس میں کچھ  تو ایسا تھا کہ پہلی کے بعد دوسری نظر ڈالنے کو دل مچل مچل جاتا..شاید اس کے چہرے پر پھیلی وہ نرم اور کومل سی مسکراہٹ تھی  جو صبح کی پہلی کرن جیسی پاکیزہ اور روشن تھی ۔اس مسکراہٹ کی پاکیزگی ہی اس عام سے چہرے کو قابل دید بنا دیتی ہوگی  یا پھر ان عام سی آنکھوں سے چھلکتے محبت کے وہ رنگ تھے جو ان نین کٹوروں  میں جگنوؤں کی چمک بھر دیتے تھے۔ وہ جگنو جو بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزل کا رستہ دکھاتے ہیں۔ وہ جگنو جو بظاہر غیر اہم کمزور سے جلتے بجھتے دئیے کی مانند روشنی میں دکھائی نہیں دیتے … مگر گہرے سے گہرے اندھیرے کا سینہ چیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

اسے دیکھ کر گمان ہوتا کہ محبتوں کے سارے حسین اور کھلے کھلے رنگوں کو ملا کر اس کا وجود بنایا گیا ہے۔ محبت کے سارے رنگ اس کے ہونٹوں کی اک مسکان میں سمٹے ہوئے محسوس ہوتے۔ ہلکی سی مسکراہٹ تو اس کے چہرے کا اک لازمی حصہ تھی، جو کبھی اس کے ہونٹوں سے جدا ہونے کا نام ہی نہ لیتی۔ حالانکہ اس کی زندگی میں بہت کچھ ایسا تھا جس کی سیاہی چہرے پر تاریکی بن کر پھیل جاتی ہے اور آنکھوں کی چمک کو ماند کردیتی ہے ، لیکن وہ اس بات سے واقف تھی کہ اس کے بہت  اپنے لوگ اسکی  مسکراتی صورت کو دیکھ کر خوش اور مطمئن رہتے ہیں .اسی لئے وہ اپنے پیاروں کے لیے ہر لمحہ مسکراتی رہتی تھی.

“شمامہ۔۔۔۔  اماں کی پکار سنتے ہی وہ یوں سارے کام چھوڑ کر ادب سے کھڑی ہو جاتی جیسے کسی بادشاہ کے جاہ و جلال سے گھبرا کر کوئی ادنی سی کنیز با ادب کھڑی ہوتی ہو گی –

“پاگلے ..”اماں اسے اس طرح با ادب کھڑا دیکھ کر ہنستیں – یہاں تو خسارے میں پڑے بندے اتنے گناھگار اور کم فہم ہیں کہ اللہ کے گھر سے آتی آذان کی آواز سن کر بھی کوئی ادب سے کھڑا نہیں ہوتا۔ جو بولتا ہے وہ بولتا رہتا ہے۔ ذرا رک کر غور کی تکلیف نہیں کرتا کہ موذن کہہ کیا رہا ہے؟  پیغام اگر ٹھیک سے سن لیں تو جانے کتنوں کی کایا ہی پلٹ جائے اور اک تو ہے کہ اس  معمولی سی ماں کی اک صدا پہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔

اماں … ماں جیسی ہستی کبھی بھی معمولی نہیں ہو سکتی۔ جس رشتے کو رب نے اتنی عزت بخشی کہ اس کے پاؤں تلے پوری کی پوری جنت رکھ دی وہ کیسے معمولی ہو سکتی ہے ؟  وہ مسکراتے ہوئے کہتی اور ان کو پیار سے تکتی . “جس کی ناراضگی سے اللہ نے اپنی ناراضگی اور جس کی خوشی سے اللہ نے اپنی خوشی کو مشروط کر دیا ہو وہ ماں کیسے معمولی ہو سکتی ہے ؟ ” وہ بہت پیار سے ماں کو پلنگ پہ بیٹھا کر ان کے قدموں میں بیٹھ جاتی_

اچھا تو تم میرا اتنا ادب اس لیے کرتی ہو کہ تیرا اللہ تجھ سے خوش رہے ؟” اماں اسے چھیڑنے کو پوچھتیں تو وہ ہنس دیتی-

“ارے میری پیاری اماں میرا اور تیرا اللہ تو سانجھا ہی ہے۔ تو بھی جانتی ہے اور میں بھی کہ اسے خوش کرنا کتنا آسان ہے۔ وہ تو اک سچے سجدے سےہی خوش ہو جاتا ہے….وہ تو کسی کے لیے صرف اچھا سوچنے سے بھی خوش ہو جاتا ہے… نیتوں کے حال سے واقف جو ہوا یہ تو انسان ہی ہیں کہ جو عمل کے بعد بھی شکوک میں پڑے رہتے ہیں کہ جانے کس لالچ میں میرےساتھ میٹھا بول رہے ہیں۔ جانے کون سا مفاد ہے جو مجھ سے وابستہ ہے؟ وہ چمکتی آنکھوں میں سوچ کے رنگ بھر کر کہہ رہی تھی .

اسے وہ دن یاد آگیا جب  کالج سے واپسی پہ اک بہت بوڑھی اور کمزور سی عورت کو ایکلے سڑک پار کرتے دیکھ کر اسکی رحم دلی نے جوش مارا۔ رحم کھا کے سڑک پار کروانے کی غرض سےان کا ہاتھ  پکڑا تو انھوں نے چیخ چیخ کر لوگ جمع کر لیے تھے کہ اس لڑکی نے میرا پرس چھیننے کے لیے میرا ہاتھ پکڑا ہے۔۔

اف توبہ. اس نے بے اختیار جھرجھری لی۔ وہ تکلیف دہ لمحہ یاد کر کے شمامہ کے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔

اسے یوں لگا تھا کہ بھرے بازار میں کسی نے اس کے سر سے چادر چھین لی ہو۔ وہ تو شکر ہوا کہ محلے کے نیک اور مخلص انسان قاضی چاچا اچانک وہاں آگئے تھے اور انہوں نے لوگوں کو چیخ چیخ کر بتایا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔۔ اور اس کا ذہنی توازن خراب ہے تبھی اس ہجوم نے اسے ہمدردانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے جانے دیا تھا ورنہ تو وہ سب مرنے مارنے پہ تلے ہوئے تھے۔ گھر واپس آتے ہوئے قاضی چا چا سے اس نے پوچھا کہ انہوں نے جھوٹ کیوں بولا؟اس نے وہ ساراقصہ اماں کے سامنے دہرایا۔

تب انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا تھا۔۔  وہ بولتے بولتے مسلسل ہاتھ بھی چلاتی رہی _کبھی اماں کا سر دبانے لگتی کبھی ان کے پاؤں، اور کبھی ان کے بالوں میں مالش کرتی رہتی۔ بس کوئی طریقہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اماں کو چھونے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی۔ اک طاقت ملتی تھی اسے ماں کے لمس سے-

اب بول بھی دے کہ کیا جواب دیا تھا تیرے قاضی چا چا نے ؟اماں جھنجھلا کر پوچھ رہی تھیں.وہ پاؤں دباتے ہوئے اماں کی بے صبری پہ مسکرانے لگی اور اماں کی بے قراری کو دیکھتے ہوئے بولی –

” قاضی چاچا نے کہا ۔ میری بچی آج کل نیکی اتنی نایاب ہو چکی ہے کہ یوں سڑک پہ مل جائے تو لگتا ہے جھوٹ ہے، ڈرامہ ہے، بندہ یقین کر ہی نہیں سکتا کہ اچھائی یوں سر راہ بھی اسے مل سکتی ہے .. اس بوڑھی خاتون کو اس واقعے سے پہلے کن کن حالات سے گزرنا پڑا ہوگا یہ اس کا دل ہی جانتا ہوگا۔ کئی بار اس نے مدد کے لیے بڑھے ہوئے ہاتھ کو امید سے تھاما ہوگا اور کئی بار اس کی امیدیں دھوکہ کھا کر ناامیدی اور بے اعتباری میں بدلی ہوں گی۔ اک اس عمل کے پیچھے بہت سے تلخ تجربے لائین میں کھڑے ہوتے ہیں قصور ان خاتون کا نہیں تھا بلکہ قصور ہمارے اعمال کا ہے … اگر میں تمہیں جانتا نہ ہوتا تو ان لوگوں کے ساتھ مل کر لعنت ملامت کرتا اور آگے بڑھ جاتا اور اگر میں کہتا کہ یہ بچی ٹھیک کہتی ہے یہ اس بوڑھی خاتون کی مدد کرنے آگے بڑھی تھی تو وہ لوگ مجھے بھی گھیر کر مارتے یہ کہہ کر کہ گروہ کا سرغنہ یہ ہی شخص ہے –

ہاں یہ تو سچ ہے شمامہ! آج کے اس دور میں نیکی نایاب ہو چکی ہے اب کہیں ملے گی بھی تو اونچے شوکیسوں میں بند باہر سے تالے لگے ہوئے –

” ہاں اماں۔۔  ٹھیک کہا۔ اس نے تائید کی
********************
وقت کے تاروں کو
اس خیال سے
جب بھی چھیڑا میں نے
کہ احساس کی سماعتوں میں
نغمہ طرب کی شیرینی گھلے
درد کی تلخیوں
اور نوحہ کرب کی ھچکیوں..
نے اتنا شور کیا کہ…
نغمہ طرب کے سب
سر گونگے ہو گیے…
شمامہ نےہوش سنبھالتے ہی اپنے آس پاس ایسے رشتوں کو دیکھا تھا جو عام طور پہ ہمارے  ساتھ نہیں رہتے .. نانی، ماموں، مامی اوروہ خود ۔ وہ جب سکول جانے لگی اور سہیلیوں کی باتیں سمجھ میں آنے لگیں تب پریشان ہوکر ماں سے پوچھتی” اماں میری سبھی دوستوں کے ساتھ ان کی دادی، چچا اور رہتے ہیں یا وہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں جبکہ ہمارے گھر میں تو نانی، ماموں، اور مامی، رہتے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ “ماں اداس نظروں سے اس معصوم کو دیکھتی اور چپکے چپکے اپنے دوپٹے کے پلو سے آنسو خشک کرتے ہوئے اسے بہلانے لگتی –

“میرا بچہ سبھی رشتے میٹھے ہوتے ہیں اور کچھ بہت میٹھے۔ اب دیکھو نا پنکی کی دادی بہت میٹھی میٹھی ہیں جیسے یہ سویٹ …ماں نے بیٹی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چاکلیٹ کی طرف اشارہ کیا .. تبھی وہ پنکی لوگوں کے ساتھ رہتی ہیں اسی طرح تمہاری نانی بہت سویٹ ہیں تو وہ ہمارے پاس رہتی ہیں آپ نانی کے گلے لگ کر کس کرتے ہو تو نانی کتنی میٹھی لگتی ہیں نا؟
وہ چپ ہوتیں تو اس کے معصوم سوالوں کا اک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا-

اچھا تو کیا میری دادی اور چچا چچی میٹھے نہیں ہیں جو ہمارے ساتھ نہیں رہتے ؟ ماں کی آنکھوں میں دکھ کے سائے گہرے ہو جاتے اور آنکھوں کی زمین اس پربت کا منظر پیش کرنے لگتی جس پہ بادلوں نے قبضہ کر رکھا ہو، وہ بادل جو جلدی برسنے کے لیے تیار نظر آ رہے ہوتے ہیں – میرا بچہ انسان کی زندگی میں سبھی رشتے میٹھے نہیں ہوتے بلکہ کچھ رشتے کڑوے بھی ہوتے ہیں …. بس تم کڑوے رشتوں سے محفوظ رہو ان رشتوں کا ذائقہ کبھی نہ چکھو اسی لیے ہم میٹھے رشتوں کے بیج میں بیٹھے ہیں.

ٹھیک ہے اماں وہ سمجھ جاتی یا چھوٹا سا سر ہلا کر سمجھنے کی اداکاری کرتی مگر ماں کو مطمئن ضرور کر دیتی –
ماموں اور ممانی جنہیں وہ بڑے ابا اور بڑی امی کہتی تھی بہت پیار کرنے والے تھے۔ نانو تو بس سارا دن عبادت میں مصروف رہتیں … سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے گھر اور گلی محلے میں انہیں سب بی بی جان یا بی جان کہہ کر پکارتے تھے۔ شادی غمی پہ سبھی ان سے مشورے لیتے .

” بی جان دولہے کی اماں کے لیے کیا مناسب رہے گا؟ سبھی متوسط گھرانوں کے لوگ تھے۔ یہ محلہ کبھی اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگوں کی وجہ سے افسروں کے محلے کے نام سے مشہور تھا مگر زمانے کے انداز بدلنے کے ساتھ ساتھ اس محلے کے انداز بھی بدلتے گئے۔ افسر تو رفتہ رفتہ نئے اور جدید علاقوں میں منتقل ہوتے رہے جبکہ کوئی گھر بیچ باچ چلا۔ جبکہ کوئی اپنے ماضی کی نشانیاں سینے سے لگائے رکھنے کے شوق میں گھر بیچ نہ سکا تو کرائے پہ چڑھا گیا اور اک وقت آیا کہ پرانے سبھی لوگ چلے گئے اور نئے مکینوں سے یہ محلہ آباد ہوگیا زیادہ تر لوگ آس پاس کے گاؤں دیہات سے نقل مکانی کر کے شہر کی رنگین زندگی کی طرف امیدوں کا اک جہان آنکھوں میں سجائے آگے بڑھتے ہوئے اس محلے میں رہایش اختیار کرتے گئے۔ یہ جانے یہ سمجھے بغیر کے شہروں میں مصنوعی روشنیاں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اصلی اور خالص اجالے نہیں ہوتے، بلکہ روشنی اور اجالے کا فرق ہی ان لوگوں کو شہر میں آ کر معلوم ہوا تھا.

بی بی جان اصل میں بیٹی کی ساس بہت مغرور قسم کی عورت ہے۔میں چاہتی ہوں کہ اس عورت کو پنہونی میں ( لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کے خاندان کو جو تحفے تحائف دیئے جاتے ہیں)کچھ ایسا دوں کہ وہ دیکھتی رہ جائے –

دیکھ زبیدہ بیٹی … بی بی جان نے عینک کا شیشہ ململ کے سفید دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے شبنم کی ماں کو مخاطب کیا جس کی بیٹی شبنم کی رخصتی آنے والی اتوار کو تھی -” ایک غلطی تم نے یہ کر دی کہ اپنے سے بڑے گھر میں بیٹی دے دی … چلو وہ تو نصیب کا لکھا تھا اور نصیب کے لکھے میں انسان  خواہش کے باوجود  بھی کوئی تبدیلی کوئی ہیر پھیر نہیں کر سکتا۔ بڑے سے بڑا کھلاڑی بھی نصیب کے سامنے مات کھا جاتا ہے.” وہ اک سرد آہ بھر کے بولیں۔۔

دوسری غلطی تم نے یہ کی کہ بنا سوچے سمجھے شادی کی تاریخ دے دی حالانکہ کچھ جمع پونجی نہیں تھی۔ کچھ جہیز کے لیے سنبھالا نہیں تھا …جو آیا وہ کھا پی کر بیٹھ گیئں اور اب … اوپر سے اتنی بڑی بڑی باتیں کہ فرنیچر تو فلاں جگہ کا اور فریج کے ساتھ اے سی بھی .. ایک بیٹا ہے تیرا اوراوپر سے چار بہنوں کابوجھ …جسے بوجھ کہتے ہوئے کلیجہ کانپتا ہے لیکن کیا کروں دل پہ بھاری پتھر رکھ کے آج بہن بیٹی کو بوجھ کہنا پڑتا ہے کیونکہ یہ بوجھ باپ اور بھائیوں کی کمر جھکا دیتے ہیں- افسردگی ان کے لہجے سے بھی جھلک رہی تھی اور ان کی آنکھوں سے بھی -کنول نے یوں سر جھکا لیا جیسے ماں کے لہجے اور آنکھوں میں سے جھلکتی یہ افسردگی یہ اداسی اسی کی دین ہو .

 شبنم کے بعد تمہاری تین بیٹیاں اور بھی ہیں آج تو کہیں سے قرض وغیرہ کر کے بھی پورا ہو جائے گا لیکن کل کو ترنم کی باری پہ اس کے سسرال والے یہ ہی آس لگائے بیٹھے ہوں گے تب کیا کرو گی ؟ ” ترنم کے دل میں بھی یہ شکوہ پیدا ہوگا کہ ماں نے فرق کیا اور طعنے الگ سنے گی سسرال والوں سے … سو سوچ سمجھ کرو اور وہی طریقہ اپناؤ جو سمجھدار عورتوں کا ہوتا ہے -بی بی جان نے پانی پی کر گلے کی خشکی ختم کرتے ہوئے بات مکمل کی –

 لیکن بی بی جان… شبنم کی ماں نے کچھ کہنا چاہا –

میری بچی اک بات یاد رکھنا۔ اللہ نیتوں کے حال سے واقف ہے … تم کیوں کسی کو نیچا دکھانے پہ تلی ہو ؟ ہم اپنے آپ کو اونچا دکھانے کے لیے دوسروں کو کوتاہ قد ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جان ہی نہیں پاتے کہ چند لوگوں کو تو ہم دھوکا دے رہے ہیں لیکن ہم اللہ کے ہاں کتنے چھوٹے ہو ریے ہیں ؟ جس بیٹی کو یہ سبق رات دن ماں سے مل رہا ہو کہ ساس قابل نفرت ہے وہ گھر کیا بنائے گی ؟ سو یہ ہی عمل اپنائے رکھو کہ بیٹی عزت دے کر جواب میں عزت ہی پائے … کیونکہ میں نے جتنی عمر گزاری زمانے کا دستور ہی یہ دیکھا کہ مکافات عمل کا شکار ہونا پڑتا ہے کسی نہ کسی صورت میں …کچھ سمجھ کر انجان بنے رہتے ہیں اور کچھ ناسمجھ عمر بھر سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ان کے کس عمل کا بدلہ انہیں دنیا میں مل رہا ہے – شبنم کی ماں سر جھکائے خاموشی سے سب سن رہی تھی – ” کنول بیٹی بی بی جان نے اپنی بیٹی کو پکارا۔

 جی بی بی جان- وہ جو سامنے تخت پہ بیٹھی اپنے ہاتھ کی لکیروں سے الجھی ہوئی تھی چونک کر انہیں دیکھنے لگی –

ایسا کرو میری الماری میں جو سبز رنگ کے کپڑے میں لپٹی اک امانت پڑی ہے وہ لے آؤ۔

 ابھی لائی بی بی جان -وہ اندر سے کپڑے میں لپٹا اک پیکٹ لے آئی –

یہ تحفہ میری طرف سے شبنم کی ساس کے لیے۔ ان سے کہو کہ یہ بادامی رنگ کی بنارسی ساڑھی ولیمے پہ پہننی ہے انہوں نے – شبنم کی ماں کے ساتھ آئی دوسری پڑوسنوں کی آنکھیں بھی خوبصورت ساڑھی دیکھ کر چمک اٹھیں تھیں-

مگر بی بی جان۔۔ شبنم کی ماں نے پھر کچھ کہنا چاہا۔

اب کچھ نہ کہنا.یہ میں نے پہلے سے رکھی ہوئی تھی میری اک رشتے کی بہن نے انڈیا سے بھیجی تھی – وہ شکر گزار نظروں سے بی بی جان کو دیکھ کر رحصت ہوئیں تو کنول ماں کے پاس آ کر بیٹھ گئی –

بی بی جان ! آپ بھی نا … ہر وقت نہ دل تھکایا کریں اب سیدھی سیدھی بات کر دیتیں نا –

 کیا کہتی ؟ یہ کہ تمہارا اکلوتا بیٹا کل میرے پاس آ کر فریاد کر گیا ہے اور منت بھی کہ بی بی جان اللہ کے واسطے میری ماں کو سمجھائیں وہ میرے بارے میں بھی تو سوچیں نا میں کب تک ان ماں بہنوں کے لیے کماتا رہوں گا … اپنی شادی کی سوچ بھی تو کروں نا ؟ میری ماں کو تو اس کا خیال ہی نہیں ہے – ” حالانکہ یہ بچہ دو بہنوں سے چھوٹا ہے اور میں جانتی ہوں کہ ماں بہنوں نے کتنی مشکلوں سے اسے پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ آج اک اچھی جگہ افسری کر رہا ہے – کنول بیٹا اگر میں اسے بتا دیتی کہ بیٹا اپنی شادی کے لیے پیسے بچانا چاہتا ہے اور اس بات سے نالاں ہے کہ ماں بہنیں کھلے ہاتھ سے خرچ کرتی ہیں تو کیسا دل ٹوٹ جاتا ان بے چاریوں کا؟” بی بی جان نے اس کے ریشمی بالوں کی اک بھٹکی ہوئی لٹ کو رستے پہ ڈالتے ہوئے کان کے پیچھے کیا اور اپنے اسی ازلی دھیمے اور میٹھے شہد لٹاتے لہجے میں بولیں ۔۔۔۔ بہت مشکل ہوتا ہے دلوں کی سلامتی کا خیال رکھنا۔ نازک آبگینے تو ذرا سی گرم نظر کی تپش سے ہی ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جاتے ہیں … پھر بندہ لاکھ جتن کر لے وہ  ویسے نہیں ہو سکتے جیسا رب نے انہیں بنایا تھا -” ان کی اس بات نے کنول کو ایک بار پھر بہت کچھ یاد دلا دیا تھا .

بی بی جان میری نافرمانی اور بغاوت نے بھی اس گھر کے مکینوں کے آبگینوں جیسے نازک دل توڑے ہیں نا؟  کیا یہ کبھی اپنی اسی پرانی حالت میں واپس نہیں آئیں گے؟ مجھے وہ ہی دن واپس چائیں … سچے آئینوں جیسے اجلے دلوں میں اپنا عکس دیکھنا ہے نا… پتہ ہے بی بی جان وہ ان کے نور بھرے چہرے کو بھیگی آنکھوں سے تکتے ہوئے بولی میں جب جب اپنا چہرہ ان آئینوں میں دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا چہرہ بالکل مسخ نظر آتا ہے جگہ جگہ سے کٹا پھٹا اور دراڑوں بھرا چہرہ … وہ رو رہی تھی-

بی بی جان مجھے دل سے معاف نہیں کرتے نا آپ لوگ؟ میں بھی بہت ضدی ہوں یہ تو آپ جانتی ہیں نا بار بار سر ٹکراتی رہوں گی یہاں تک کہ ایک دن آپ مان جائیں یا پھریہ سر ہی نہ رہے … بی بی جان کہاں آپ جیسی عظمت کی مینار ماں اور کہاں میرے جیسی بد بخت بیٹی-لوگ تو کہتے ہیں بیٹی ماں کا عکس ہوتی ہے مگر میرے جیسی بیٹیاں اس بات کو غلط ثابت کر دیتی ہیں ،، وہ افسردگی اس کے جسم و جاں میں بس گئی تھی کہ بیاں سے الفاظ قاصر ٹہرے تھے . بی بی جان نے عینک اتار کر اپنی آنکھیں سفید ململ کے دوپٹے کے اک کونے سے پونچھتے ہوئے اس روتی بلکتی ہوئی اپنی محبت کے نام پہ اجاڑی گئی بیٹی کو دیکھا اور بے ساختہ تڑپ کر سینے سے لگا لیا ..ماں کے وجود سے اٹھتی محبت کی خوشبو نے کنول کو کچھ حوصلہ دیا اور وہ ماں سے کے سینے سے لگی یہ دعا کرنے لگی کہ خدایا ..اے کاش میری بیٹی بھی اپنی ماں کے نقش قدم پہ نہ چلے …
(جاری ہے)

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں