آخر الطاف حسین کیسا ہے ؟

بائیس اگست کو الطاف حسین کے ریاست مخالف نعروں کے بعد تین طرح کے لوگوں نے جنم لیا :

١- جو یہ سمجھتے تھے کہ الطاف حسین نے جو کہا درست کہا اور ہم ان کے ساتھ ہیں-
٢- الطاف حسین نے غلط قدم اٹھایا اور ہم ان سے خود کو علیحدہ کرتے ہیں-
٣- الطاف حسین نے جو کہا وہ درست ہے مگر موجودہ حالات میں ہم ان کا ساتھ نہیں دے سکتے-

پہلے اور تیسرے گروہ نے جو کہا اس کو چھوڑ دیجئے ان میں پہلے والے تو وہ لوگ ہیں جنھیں الطاف حسین ہر حال میں قبول ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر قبول ہیں- تیسرے والے مصلحتوں کے مارے ہیں ، مصیبتوں اور خطرات کے متحمل نہیں ہو سکتے- اب بات کرتے ہیں دوسری کٹیگری کی جس میں ایم کیو ایم پاکستان آتی ہے ، عامر لیاقت بھی وہیں فال کرتے ہیں(گر تو وہ نظروں سے بھی گئے ہیں)-

ایم کیو ایم پاکستان کو یہ اعتراض ہے کہ الطاف حسین نے بائیس اگست کو ریاست مخالف تقریر کی ، الطاف حسین فوج کو گالیاں دیتے ہیں، وہ باہر بیٹھ کر جو جی میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں اور نتیجہ یہاں والے بھگتتے ہیں-

ایم کیو ایم پاکستان کے تمام تر اعتراضات تسلیم لیکن آج جب ڈاکٹر عامر لیاقت ٹیلی ویژن پر آ کر الطاف حسین پر انتہائی گھٹیا الزامات لگاتے ہیں ، مہاجر بہنوں کی توہین کرتے ہیں تو ایم کیو ایم پاکستان ان سے سوال کیوں نہیں کرتی کہ آپ کن شواہد کی بنا پر یہ بات کر رہے ہیں ؟ آپ کس طرح کسی پر اتنا گھٹیا الزام لگا سکتے ہیں ؟ ایم کیو ایم پاکستان اتنی بزدل کیسے ہو سکتی ہے ؟ کیوں نہیں کہتی کہ الطاف حسین ہمارا قائد نہیں ہے لیکن ہر مہاجر عورت ہماری بہن ہے اور ہم بہنوں کی تذلیل نہیں ہونے دیں گے- کیا میرے مذہب کی یہ تعلیم نہیں کہ اگر کسی میں کوئی عیب نہیں دیکھا تو اسے بیان بھی نہ کرو- کہہ دیجئے کہ الطاف حسین غدار ہے کہ اس نے ملک مخالف نعرہ لگایا ہم اس سے الگ ہو گئے- مگر وہ ایسا نہیں ہے جیسا آپ بیان کر رہے ہیں- کیا یہ خاموشی بھی کسی دباؤ کی وجہ سے ہے ؟ یا آپ کو عامر لیاقت کی باتوں سے اتفاق ہے ؟

ایک واقعہ آپ کی نظر کرتا ہوں ، پال شافر شنائیڈر جرمنی کا شہری تھا جس نے چلی کی جانب ہجرت کی- اس نے وہاں زرعی مزدوروں کی ایک تنظیم بنائی ، تنظیم کیا تھی گویا فرقہ تھا جس کا وہ پیشوا بن بیٹھا- یہ شخص جرمنی میں ہٹلر یوتھ موومنٹ سے وابستہ تھا وہیں اس نے بچوں کے لئے ایک خیراتی ادارہ اور ایک فلاحی تنظیم بنائی- شنائیڈر پر جرمنی اور چلی میں لگ بھگ پچیس بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام تھا ،الزام درست ثابت ہوا اور اسے تینتیس برس قید کی سزا ہوئی- اس نے جیل میں ہی دم توڑا-

جب یہ کیس جاری تھا تو اسی دوران ایک عورت نے بھی شنائیڈر پر اسی قسم کا الزام عائد کیا، عدالت نے عورت کو حکم دیا کہ وہ ٹیسٹ کرائے یا ثبوت لائے اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتی وہ شنائیڈر پر الزامات عائد نہ کرے- عدالت نے کہا “یہ درست ہے کہ ملزم کی ساکھ بری ہے لیکن ہم اس کو سزا اسی جرم کی دیں گے جو اس پر ثابت ہو ،چاہے جرم اس نے کیا ہی کیوں نہ ہو”-

بد ترین کردار کے حامل اور اپنا جرم تسلیم کر لینے والے شنائیڈر کے لئے بھی عدالت نے ثبوت کا تقاضہ کیا ، اور یہاں یہ حال ہے کہ بد ترین کردار کے عامر لیاقت بغیر کسی ثبوت کے ایسے الزامات لگا رہے ہیں جنھیں سن کر ہی سر شرم سے جھک جاتا ہے- پیمرا کو اپنے ہی ضابطے نظر نہیں آ رہے کہ جس الطاف حسین کا نام لینے پر پابندی ہے ، عامر لیاقت اس کا نام بھی لے رہے ہیں اور اخلاقیات کی تمام حدود کو پار بھی کر رہے ہیں- ایم کیو ایم پاکستان والے آج تک جو بھی کرتے آئے ہیں شائد وہ نظر انداز کیا جا سکتا ہو لیکن آج اس بد تہذیبی پر اگر وہ خاموش ہیں تو یہ ظلم ہے اور آپ ظالم !

جن لوگوں کی الطاف حسین سے برسوں کی رفاقت رہی ہے ، جنہوں نے اس کو اپنا قائد مانا تھا اور آج اسے غدار مانتے ہیں ،آج میں ایم کیو ایم پاکستان کے اس ایک ایک رہنما سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ مجھے بتائیے کیا میں آپ کی خاموشی کو عامر لیاقت کی تائید سمجھوں ؟ کیا الطاف حسین ایک ملک دشمن اور غدار ہے ؟ ایسا ہے جیسا آپ بیان کرتے ہیں یا ویسا ہے جیسا عامر لیاقت بیان کر رہے ہیں ؟ آخر الطاف حسین کیسا ہے ؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں