اساتذہ کرام۔۔روحانی والدین

آج دنیا بھر میں یوم اساتذہ ٹیچرز ڈے منایا جارہا ہے چاہئیے تو یہ ہے کہ ہم اپنے روحانی والدین یعنی اساتذہ کرام کو جن سے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کی ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں مگر آج جب کہ خصوصاً لوگ اپنے ٹیچرز کا زکر کررہے ہیں تو ایسے میں مجھے کنڈرگارٹن اور اسکول ٹیچرز کے ساتھ اپنے مولوی صاحب یاد آرہے ہیں کہ جن سے ہم نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی ۔حقیقت میں آج وہ استاد نظر نہیں آتے جو پورا پورا دن بچوں کے ساتھ جی ماری کرتے انہیں سبق یاد کروانے کے ساتھ انہیں اچھا برا سمجھاتے اپنے بچے سمجھ کر انکے ساتھ محنت کرتے ہمارے مولوی صاحب جناب مولوی عبدالحق مرحوم نے ہمارے ساتھ بہت محنت کی ۔شفقت کے ساتھ حسب ضرورت سختی بھی کی ،چھٹی کرنے پر تو کوئی آسرا نہ ہوتا گھر لینے آجاتے کیونکہ ہمارا مدرسہ قریب ہی نانا کے گھر پر ہوتا تھا ۔ ایکبار ختم قرآن کرانے کے بعد کئی کئی بار دہرائی کرواتے ،ساتھ ہی نماز یاد کروانا،وضو کا عملی طریقہ سکھانا،دعائیں یاد کروانا، لفظی ترجمہ پڑھانا اور ہر بار قاعدہ اور سیپارہ ختم ہونے پر مٹھائی تقسیم کروانا تاکہ بچوں میں مقابلہ اور شوق پروان چڑھے۔۔۔۔ اکثر ہم انکے ساتھ بہانے بناکر چھٹی مار لیا کرتے مگر دوسرے دن ڈرتے رہتے کہ کہیں مولوی صاحب کی نظروں میں اچھا بننے کے لئیے کسی نے ہماری شکایت نہ لگادی ہو۔جس دن سبق یاد ہوتا اور مولوی صاحب کا۔موڈ اچھا ہوتا تو وہ ہم سے بیٹھ کر باتیں بھی کرتے اور اس دن ہم بہت خوش ہوتے اور جس دن سبق یاد نہ ہوتا اس دن چھٹی بند یعنی سب کو چھٹی مل جاتی مگر جن بچوں نے شرارت کی ہوتی یا سبق یاد نہ کیا ہوتا وہ مزید گھنٹہ بھر بیٹھ کر سبق یاد کرتے۔۔۔مولوی صاحب دوپہر کو کھانے کے بعد قیلولہ کرتے اور اس دوران ہم ہل ہل کر زور زور سے سبق پڑھتے رہتے ( ہمیں لگتا کہ جتنا زور سے جھولیں گے اتنی تیزی سے سبق یاد ہوگا )جہاں کسی سے کوئی غلطی ہوئی یا آواز ہلکی پڑی وہیں قیلولے کے درمیان سے مولوی صاحب نے آواز لگائی ۔لڑکوں کو آواز کے ساتھ کمر پر چھڑی بھی پڑتی اور سب پھر زور و شور سے سبق دہرانے لگتے۔۔ماشااللہ مولوی صاحب نے کتنے ہی بچوں کو قرآن ختم کروایا ہم سے بڑے اور ہم سے چھوٹے خاندان کے بچوں نے مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کی ۔ میرے ماموں نے مولوی صاحب سے قرآن حفظ کیا جنکی امامت میں ہم عصر کی نماز مدرسہ میں ادا کرتے اور ماموں مکمل نماز باآواز بلند پڑھاتے اس طرح ہم سب کو نماز یاد ہوئی۔اللہ ہمیں اپنے اساتذہ کا قدر دان بنائے خصوصاً وہ جنہوں نے قرآن کی تعلیم دی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ احسان ہے جسکا بدلہ کبھی بھی نہیں اتارا جاسکتا۔ اللہ ہمارے مولوی صاحب اور دیگر اساتذہ کے درجات بلند کرے انکی قبر کو روشن کرے اور ان سے راضی ہوجائے آمین

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز