انتخابی بل اورختم نبوت۔۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ کیا انتخابی بل 2017 میں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ نہ صرف ترمیم کی گئی ہے بلکہ افسوسناک طور پر بعینہ وہی ترمیم کر دی گئی ہے جو قادیانی لابی نے 1978 میں سیکرٹری الیکشن کمیشن اے زیڈ فاروقی کے ذریعے لانے کی کوشش کی تھی اور جسے مولانا مفتی محمود نے ناکام بنا دیا تھا۔

بھٹو صاحب کا تختہ الٹا گیا تو مولوی مشتاق کو مارشل لاء لگانے کے دسویں روز ہی چیف الیکشن کمیشن بنا دیا گیا۔ اے زیڈ فاروقی سیکرٹری الیکشن کمیشن تھے۔انہوں نے مل کر بھٹو کے خلاف ایک وائٹ پیپر جنرل ضیاء کو پیش کیا۔اس بڑھتی قربت نے اے زیڈ فاروقی صاحب کو اتنا بے باک کر دیا کہ انہوں نے کاغذات نمائندگی میں دیا گیا وہ حلف ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا جو بھٹو حکومت میں شامل کیا گیا تھا۔بھٹو دور میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا تو بہت سارے دیگر قوانین کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے امیدواران کے کاغذات نمائندگی میں یہ حلف شامل کر دیا گیا :’’ میں حضرت محمد ﷺ کے قطعی اور کامل طور پر خاتم النبیین ہونے پر یقین رکھتا ہوں ۔اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا پیروکار نہیں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی حوالے یا کسی بھی طرح نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے ۔اور یہ کہ میں اس دعوی کرنے والے کو نہ نبی مانتا ہوں نہ اس کو مصلح سمجھتا ہوں اور نہ ہی میں قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے آپ کو احمدی کہتا ہوں‘‘۔

اے زیڈ فاروقی نے یہ کام کر دکھایا کہ جہاں لکھا تھا ’’ میں حلفا اقرار کرتا ہوں‘‘ اس کو بدل کر یوں کر دیا کہ ’’ میں اقرار صالح کرتا ہوں‘‘ ۔۔۔۔اور باقی کی عبارت وہی رہنے دی۔اس کا خیال تھا کہ اس معمولی سے ہیر پھیر کی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی ۔لیکن اس وقت کے علماء نے قادیانیت کے خلاف پارلیمان میں ایک مثالی جدوجہد کی تھی اور وہ اس معاملے میں بہت حساس تھے چنانچہ اے زیڈ فاروقی کی یہ واردات پکڑ لی گئی اور علماء نے سخت رد عمل دیا۔ تمام جماعتوں کے علماء نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کیا جائے گا۔گھیراؤ کی تاریخ بھی دے دی گئی ۔چنانچہ ضیاء الحق نے اس پر فوری ایکشن لیا، سیکرٹری اے زیڈ فاروقی کو عہدے سے ہاتھ دھونا پر گئے اور’ اقرار صالح ‘کی بجائے ’ حلف‘ کی عبارت دوبارہ سے قانون کا حصہ بنا دی گئی۔

اب پھر وہی کام ہوا ہے۔”Solemnly swear” کا لفظ ختم کر کے اس کی جگہ محض “Declare” کا لفظ لکھ دیا گیا ہے۔یعنی جو بات حلفیہ کہی جا رہی تھی اب وہ حلفیہ نہیں رہی ۔ اب محض ایک ا قرار کیا جا رہا ہے۔ یہ ترمیم تو اس ترمیم سے بھی بد تر ہے جو قادیانی لابی کے زیر اثر اے زیڈ فاروقی لایا تھا۔ اس میں حلف نامے کی جگہ ’ اقرار صالح‘‘ کی بات کی گئی تھی جب کہ ہماری منتخب پارلیمان نے صرف’ اقرار‘ پر اکتفا کر لیا۔تجربہ کاروں کی تجربہ کاری کو داد دیجیے کہ باقی کی عبارت چونکہ ویسی ہی رہنے دی گئی ہے اس لیے لوگوں نے بالعموم یہی سمجھا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔قانون کی دنیا میں ” May” اور ” Shall” سے اتنا فرق پڑ جاتا ہے کہ لفظوں کے معنی بدل جاتے ہیں ۔” And” اور “Or” سے مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے ، حتی کہ ایک کامے (،) سے بات کا مفہوم بدل جاتا ہے ۔یہاں تو “solemnly swear” کا لفظ ختم کر کے اس کی جگہ محض “Declare” کا لفظ لکھ دیا گیا ہے۔اور اس پر ڈھٹائی دیکھیے پوری شدت سے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔

جو یہ سمجھتے ہیں کہ حلفیہ اقرار کرنے میں اور اقرار کرنے میں کوئی فرق نہیں ، انہیں پہلی فرصت میں کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کر نا چاہیے ۔قانون کی دنیا میں حلف پر دیے گئے بیان اور محض بیان میں بہت فرق ہے۔یاگر فرق نہیں ہے تو ذرا بتا تو دیجیے کہ یہ ترمیم لانے کی حکومت کو کیا ضرورت پڑی تھی؟جب دونوں اصطلاحات کا مطلب ایک ہے تو آپ ایک اصطلاح کو ختم کر کے دوسری اصطلاح کیوں متعارف کرا رہے ہیں؟

پھر معاملہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔دی کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر2002 ایک اہم دستاویز ہے جو پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹو جاری کی تھی۔اس میں اہتمام سے بتایا گیا تھا کہ احمدیوں اور قادیانیوں کا سٹیٹس تبدیل نہیں ہو گا اور یہ وہی رہے گا جو اس سے پہلے انتخابی قوانین میں موجود ہے۔اسی طرح الیکٹورل رولز ایکٹ 1974 کے تحت یہ قانون موجود تھا کہ اگر کوئی ووٹر کسی امیدوار کے خلاف شکایت کرتا کہ یہ مسلمان نہیں تو اس پر کارروائی ہوتی تھی۔الیکشن کمشنر الیکٹورل رولز رولز((Electoral Rolls Rulesکی دفعہ 9 کے تحت ایک افسر کو ریوائزنگ اتھارٹی کے طور پر تعینات کرتا تھا جو اس معاملے کو دیکھتا تھا۔وہ متعلقہ امیدوار کو پندرہ دن کا نوٹس دیتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ وہ فارم نمبر4 کے مطابق اس بات کا اقرار کرے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے قطعی اور کامل طور پر خاتم النبیین ہونے پر یقین رکھتا ہے۔امیدوار اگر ایسا نہیں کر سکتا تھا تو اس کا نام انتخابی فہرست میں بطور غیر مسلم درج کر دیا جاتا تھا۔الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 241 نے ان دونوں قوانین کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی شقیں ابھی باقی ہیں کیونکہ ان کو بدلنے کے لیے دوتہائی اکثریت چاہیے ، تاہم حکمرانوں نے اپنی نیت واضح کر دی ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

اس قانونی بحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب آئیے اس سوال کی جانب کہ جب یہ ساری قانون سازی ہو رہی تھی اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر ووٹ لے کر اسمبلی میں آنے والے خواتین و حضرات کہاں تھے؟یہ بل راتوں رات نہیں آیا۔یہ پہلے قومی اسمبلی میں پیش ہوا ۔اس کے بعد سینیٹ میں آیاتوسینیٹ نے کچھ مزید ترامیم تجویز کیں چنانچہ اسے دوبارہ قومی اسمبلی کے سامنے رکھا گیا۔سوال یہ ہے کہ اس سارے دورانیے میں مذہبی جماعتوں کے پارلیمنٹیرین کیا کرتے رہے؟کیسے بھول جائیں کہ جس روز یہ بل سینیٹ سے پاس ہوا سراج الحق وہاں موجود ہی نہ تھے۔

ابھی بھی شیخ رشید کے شور مچانے سے یہ بات سامنے آئی ورنہ سب دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہے تھے۔جب شیخ رشید نے شور مچا دیا تب جماعت اسلامی نے وضاحت فرمائی کہ جی ہم نے تو اس کی مخالفت کی تھی۔صالحین بتانا پسند کریں گے کہ اگر آ پ نے مخالفت فرمائی تھی تو اس کے بعد کیا بے تابی تھی کہ آپ اپنی خواب گاہوں کو لوٹ گئے اور آپ نے عوام الناس کے سامنے معاملہ رکھنے کی زحمت ہی نہ کی کہ پارلیمان نے کیا قیامت ڈھا دی ہے۔کیا یہ اتنا معمولی معاملہ تھا کہ آپ ایوان میں مخالفت کی رسم پوری کر کے نکلتے اور خواب گاہوں کو لوٹ جاتے؟۔یہی معاملہ جے یو آئی کا ہے۔جس ترمیم کو سالوں پہلے مرحوم مفتی محمود نے ناکام بنا دیا تھا آج مفتی صاحب کے فرزند کی قیادت میں جے یو آئی وزارت کے مزے لے رہی ہے اور بعینہ وہی ترمیم منظور ہو گئی ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے جب قادیانیوں کے حق میں یہ ترمیم سینیٹ سے منظور ہوئی تو اس وقت سینیٹ اجلاس کی صدارت کوئی اور نہیں ،جے یو آئی کے مولانا غفور حیدری کر رہے تھے۔یہ فیصلہ اب سراج الحق اور فضل الرحمن خود ہی کر لیں کہ ان کی دیانت پر انگلی اٹھائی جائے یا ان کی بصیرت پر؟

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں