انتخابی سیاست سب کا حق ہے!

یہ بات درست ہے کہ ملی مسلم لیگ نے انتخابی میدان میں انٹری کے لئے نہ صرف انتہائی جلد بازی سے کام لیا بلکہ دانستہ یا غیر دانستہ یہ تاثر بھی پیدا کردیا کہ ملی مسلم لیگ کی انتخابی سیاست میں انٹری کسی”خاص اشارے”پر کسی “خاص کو نقصان” اور”کسی خاص” کے فائد کے لئے اس راہ کا انتخاب کیا ہے۔
اگر اس سب کو درست بھی مان لیا جائے تو پھر میری نظر میں ملی مسلم لیگ کا یہ اقدام قابل تحسین ہے اور قابل تقلید ہے،کیونکہ تاریخ خود ان کو بے نقاب کرے گی اور یہ کہ سیاست و سیاسی و جمہو ری جدوجہد سب  یکساں حقوق ہے۔ جب یہی لوگ جماعتہ الدعوہ کے پلیٹ فارم سے ملک کے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں تو اغیار کے غلاموں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اور “ڈالر” کے پوجاری ہر بل سے نکل آتے ہیں۔جہاد کی بات کی جائے تو نان اسٹیٹ ایکٹرز کے نام پر طوفان مچایا جاتا ہے، مذہبی و عصری تعلیمی شعبے پر کام کرتے ہیں تو انہتائی پسندی مغربی اور مفاداتی تشریح کی بنیاد پر جینا دو بھر کردیا جاتا ہے، انتخابات کے دنوں میں حمایت کے لئے پیر پکڑ نے والے پیپلیوں، لیگیوں، انصافیوں اور دیگر کے نمائندے ایوان میں پہنچ کر سب سے پہلے احسان فراموشی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، ایسے میں ملی مسلم لیگ ہو یا سابق سپاہ صحابہ، تحریک لبیک یا رسول اللہ ہو یا سابق تحریک جعفریہ اور دیگر کے پاس خودانتخابی میدان میں اترنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔
موجودہ صورتحال میں ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے حوالے سے محکمہ داخلہ اور الیکشن کمیشن کا دھرا معیار بھی قابل افسوس ہے۔
اب اگر کنارے کے لوگ مین اسٹریم لائن میں آرہےہیں تو ہمیں پریشان نہیں خوش ہونا چاہئے ۔
رہی بات عدم اور کالعدم کی تو پھر پیپلزپارٹی سے لیکر عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی و قوم پرست جماعتوں پر بھی سوال اٹھے گا اور عدم و کالعدم میں خواہشات و بغض پر بھی بات ہوگی۔
جہاں تک خواجہ آصف، شیری رحمان، شیری مزاری، فرحت اللہ بابر اور ان جیسے لوگوں کی بات ہے تو یہ مفاداتی ٹولہ ہے ، جن سے خیر کی توقع رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔
ملی مسلم لیگ، تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ان جیسی جماعتوں کو بھی اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی کے پیرول پر ہیں اور نہ ہی کسی مخصوص سیاسی مشن پر!
سیاسی میدان کے انتخاب کا مقصد صرف ملی، قومی اور عوامی مفاد ہے، بصورت دیگر ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ماضی قریب و بعید میں لے پالکوں کا ہوتا رہاہے۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں