تحریک نسائیت (Feminism) پر ایک نظر

اس کا آغاز یورپ میں اٹھارویں صدی کے آخر میں ہوا جب مغرب میں خواتین کو احساس ہوا کہ ان کے بھی حقوق ہیں اور معاشرہ جس پر عملاً مردوں کی حکمرانی ہے،انہیں حقوق سے محروم رکھتا چلا آرہا ہے۔ بیسویں صدی آتے آتے مردوں کے مساوی مقام کی جدوجہد تیز تر ہوگئی۔
لیکن یورپ میں اسلامی معاشروں کی طرح خواتین کی مردوں سے الگ تھلگ سرگرمیاں، حجاب اور جائز تعلقات پر اکتفا معاشرے کا حصہ کبھی نہیں رہا ۔ لیکن ابتداء میں مغربی عورت کا زیادہ کردار گھریلو زندگی سے متعلق ہوتا تھا اورصرف مرد ہی کا زیادہ کردار بیرون خانہ معاشی نوعیت کا ہوتا تھا۔ لیکن یورپ میں چلنے والی روشن خیالی کی تحریک، تحریک اصلاحِ مذہب، انقلاب فرانس صنعتی انقلاب اور صنعتی معاشرے کے قیام نے عورت کے کردار کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانیہ میں صنعتی انقلاب اور اس سے پہلے کے زمانے میں خاندان، شادی اور مل جل کر رہنے کی بہت اہمیت تھی۔ عورت ہی زیادہ تر گھریلو کام سنبھالتی اور باہر کے کام مردوں کے ہی ذمہ ہوا کرتے تھے۔ 1750ء سے 1841ء برطانیہ کے مشہورِ زمانہ صنعتی انقلاب کا زمانہ ہے۔ صنعتی انقلاب کے زمانے میں کمانے کی غرض سے عورت کا گھر سے باہر ہوٹلوں، کلبوں، دفتروں کارخانوں اور فیشن انڈسٹری میں کام کا آغاز ہوا۔ آزادی، مساوات جیسی قدریں (جو مذہب کے تصور سے آزاد تھیں) رائج ہوئیں اور نکاح طلاق کی سختیوں میں نرمی کی گئی۔
لیکن 1850ء تک عورتوں کی آزادی اور حقوق کے بارے میں فکری کشمکش اپنے عروج کو پہنچی اور اس بارے میں اجتماعی سیاسی کوششوں کی ابتداء ہوئی اور عورتوں کو ‘قانونی’ طور پر وراثت،ملکیت اورکاروبار وغیرہ کے حقوق حاصل ہوئے۔لیکن feminism کی تحریک ابتداء میں محض عورتوں کے حقوق کی تحریک تھی جو بعد میں مطلق آزادی کی تحریک کی شکل اختیار کرگئی اس تحریک کا سب سے خوفناک حربہ یہ تھا تھا کہ اس نے عورت کو یہ باور کروادیا کہ عورت کی گزشتہ تمام تر مصیبتوں کی اصل وجہ بیوی اور ماں کا کردار تھا۔
اس معاملے میں ایک feminist ریبیکا ٹریسٹر کا قول قابل ذکر ہے کہ جس نے تسلیم کیا کہ feminism نے گھریلو خواتین کو ‘ان پڑھ اور نا اہل’ قرار دیا ااسکے بقول؛ جب آپ اپنی تنخواہ کا چیک اور منصب کھو دیتی ہیں تو گویا آپ اپنی عزت ہی کھو دیتی ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے!۔
(Salon.com, Dec. 6, 2005)
اسی کا شاخسانہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں یہ سمجھنے لگیں کہ(عورتوں کی) تعلیم کو محض کیرئیر کی ترقی کی سمت میں ہونا چاہیے نا کہ گھرداری اور بچوں کی پرورش کےمتعلق۔اور آج تحریک نسوانیت کی بدولت نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ گھریلو خواتین اور ماوؤں ک ودوسرے درجے کی عورت سمجھا جانے لگا ہے حتی کہ تحریک نسوانیت کی علمبردار خواتین تو ماوؤں کو آزاد فرد ہی تصور نہیں کرتیں۔
لیکن اس آزادی کی قیمت مغربی معاشرے میں عورت نے ہی ادا کی، اس کی وجہ سے عورت کولہو کا بیل بن کر رہ گئی ، اس تحریک نے عورت کی ترقی کیلیے کوئی آپشن چھوڑا ہی نہیں سوائے اسکے کہ وہ گھر سے نکلے اور اپنا کیرئیر بنائے کہ عورت کی ‘بہتری’ کا یہی ایک واحد حل ہے !

لیکن درحقیقت یہ نسوانیت اور مادری جذبات پر ایک خطرناک حملہ تھا کہ اسکے ذریعے عورت کا گھر میں رکنا اور بیوی اور ماں بننے کی خواہش کرنا ایک طرح سےباعث ندامت بن گیا جیسا کہ ایکfeminist لِنڈا ہرشمن نے ایک انٹرویو میں کہا: میں یہ کہتی ہوں کہ کسی بھی اہل اور قابل عورت کی جگہ صرف دفتر ہے۔
اسی طرح ایک اور feminist بَیٹی فرئیڈن کاکہنا: کہ گھر کی صفائی کرنا وہ کام نہیں ہے کہ جس سے عورت کی استعداد اور صلاحیت مکمل طور سے استعمال ہو سکے۔ آج مغربی معاشرے میں ایک گھریلو عورت اور ایک ماں ایک ہونا شرمندگی سمجھا جانے لگا ہے، بلکہ محض ایک بیوی اور ماں ہونا آج معاشرے میں ایک بے مقصد اوراور کمتر درجے کاکام سمجھا جانے لگا ہے۔
معاشرے پر اس کا یہ اثر ہوا کہ آج حقوق کی یہ تحریک خاندان کے خلاف جنگ میں بدل چکی اور خاندان کا ادارہ ہی خطرے میں پڑچکا ہے۔ امریکا، برطانیہ کے معاشرے نے ہی اس تحریک کو مکمل طور پر اپنایا اور آج انہی ممالک میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے اور یہی معاشرے تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ بن باپ کے بچے پیدا کررہے ہیں جو مزید معاشرتی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب نے معاشرے میں بچوں کو باپ سے محروم کیا اس تحریک نے بچوں کو انکی ماں کو بھی محروم کردیا اور اسکا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں بچے والدین کی شفقت ،توجہ اور راہنمائی سے محروم ہوچکے ہیں اور توجہ اور راہنمائی سے محروم بچے توجہ حاصل کرنے کیلیے گھر سے باہر کی طرف دیکھتے ہیں اور نتیجے میں استحصال کا شکار ہوکر غلط سمت میں چل پڑتے ہیں۔
یہ سب یورپی معاشرے کی تباہی کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، لیکن آج اسی تباہی کی تلوار اخلاق و کردار اور خاندان کے مضبوط بندھن مینں بندھے مسلم معاشروں کے سروں پر لٹک رہی ہے، جن غلطیوں نے یورپ کو اس نہج تک پہنچایا آج ہمار ا سیکولر و لبرل حکمران طبقہ مغرب کی اندھی نقالی میں  مسلم معاشروں کو بھی اسی نہج پر پہنچانے کے درپے ہے۔
ان حالات میں تمام مسلمانوں بالخصوص علماء ، مفکرین اوردانشوروں کے کندھوں پر ایک بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مغرب کے آزادی مساوات اور ترقی کے خوبصورت نظرآنےوالے نعروں سے دھوکہ کھانے کی بجائے انکی حقیقت کو سمجھیں اور نئی نسل کی درست راہنمائی کریں اور معاشرے کو بکھرنے سے بچائیں اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے!

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں