جماعت اسلامی/پی ٹی آئی اور مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

عمران خان نے کمال حکمت، ذہانت، میڈیا پبلسٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے قوم کو واضع طور پر پنجاب اور کے پی کے میں عمران اینڈ اینٹی عمران دھڑوں میں تقسیم کرتے ہوۓ اب سندھ کا رخ کر لیا ہے۔۔
حلقہ این اے 120 میں زبردست مقابلے، این اے 04 میں واضح برتری اور جماعت اسلامی کے گڑھ اپر دیر میں تاریخ ساز جلسے نے مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کر دیا ہے۔۔
اب لوگ یا تو عمران خان کو ووٹ دیں گے یا عمران کے مخالفین نواز، زرداری، فضل الرحمن، اسفندیار وغیرہ کو جن پر کرپشن اور مفاد پرستی ک الزمات ہیں۔
عوام عمران خان کی بعض سیاسی غلطیوں، ساتھ آنے والے کرپٹ الیکٹیبلز اور عمران کے خلاف ہونے والے مسلسل جنسی پروپیگنڈے کو نظر انداز کر رھے ہیں کیونکہ لوگوں کے نزدیک عمران خان جیسا بھی ہے دلیر اور دیانتدار ہے۔۔
قاضی صاحب مرحوم نے 1993 عوامی نفسیات بھانپ لی تھی کہ لوگ کیا چاھتے ہیں لیکن وقت آئیڈیل نہیں تھا۔۔۔
تب کرپٹ عناصر کی نا اہلی اور لوٹ مار نمایاں نہیں ہوئی تھی۔۔
لوگ پپلزپارٹی اور اینٹی پی پی میں منقسم تھے۔۔
الیکٹرونک میڈیا ندارد بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کا دور تھا، پی ٹی وی پر پاکستان کے 20/25٪ لوگوں کو نواز نامہ/ بے نظیر نامہ دیکھنے کی سہولت میسر تھی۔۔
صرف 3٪ لوگوں کے پاس کلر ٹی وی تھا، سوشل میڈیا اور موبائیل کا تب کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا ہو گا۔۔۔
جماعت اسلامی کے اپنے بزرگ، ارکان اور جماعت کے ہم خیال صحافی لوگوں کو ڈراتے پھرتے تھے کہ قاضی کو ووٹ دیا تو پی پی جیت جاۓ گی۔۔۔
پھر بھی نوجوان دیوانہ وار قاضی صاحب کی طرف لپکے تھے۔۔
آج عمران خان کو پرائم ٹائم مل گیا ہے۔۔
بھر پور میڈیا پبلسٹی کا ماحول ہے۔۔
کرشماتی شخصیت اور پاپولرٹی بھی ہے۔۔۔
نعرے اور پروگرام بھی ٹھیک وہی ہے۔۔
عوام بھی تبدیلی کے موڈ میں ہیں، گراؤنڈ بھی تیار ہے صرف عمران خان کو اپنی ساکھ مذید بہتر بنانا ہو گی۔۔
عمران نے 2011 تا 2017 کے دوران قوم کو واضع اور دو ٹوک پالیسی دی اور کرپشن اور نا انصافی کو گالی بنا دیا جب کہ جماعت اسلامی یا تو گو امریکہ گو کے نعرے لگاتی رہی، ٹی ٹی پی کی وکالت کرتی رہی یا پھر عوامی مزاج کے برخلاف مفاہمانہ سیاست میں الجھی رہی۔۔
جماعت اسلامی بند گلی میں کھڑی گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے، عمران کی اتحادی بھی ہے اور نواز اور زرداری سے بڑھ کر عمران کی مخالف بھی، نواز کی سخت مخالف بھی ہے اور اتحادی بھی۔۔
نواز شریف کی کرپشن کے سب سے بڑے وکیل مولانا فضل الرحمن جس حکومت کو یہودی حکومت کہتے ہیں جماعت اسکا حصہ بھی ہے اور مولانا کے ساتھ ایم ایم اے کی ترجمان بھی حتی کہ جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمن اور امیر مقام کی جانب سے کے پی کے گورنمنٹ پہ کی جانے والی سخت نازیبا تنقید کا جواب دینے کے بجاۓ عمران خان کو ہی مسلسل نشانہ بناتی رہی۔۔
اسی پالیسی نے عام ووٹر کو ہی نہیں جماعت کے کارکن کو بھی متنفر کر دیا۔۔
یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی این اے فور سے 10 ہزار ووٹ بھی نہ لے سکی جہاں جماعت کے امیدوار نے 2002 ميں 28700 اور 2013 میں 16357 ووٹ لیے تھے۔۔
ایم ایم اے (ملا مریم الائنس) بھی اب مؤثر نہیں رہے گا کیونکہ یہ 2002 کا زمانہ نہیں ہے جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور تھا، مسلم لیگ ن زیر عتاب تھی، پپلزپارٹی کی لیڈر جلا وطن تھیں، پشتون مشرف سے نفرت کرتے تھے، ایم ایم اے قاضی اور نورانی جیسے معتبر لوگوں کے ہاتھ میں تھی اور عمران خان سیاسی نو مولود تھا۔۔
آج تو پنجاب اور کے پی کے کی سیاست ہی عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ دوسری طرف لبیک یا رسول اللہ پارٹی نے این اے 120 اور این اے 04 میں انٹری مار کر نواز شریف کے کان کھڑے کرنے کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کے فٹ بال سے ہوا ہی نکال دی ہے۔۔
جماعت اسلامی کے سروائیول کا ایک ہی راستہ ہے کہ “اسلامک فرنٹ” طرز کے پلیٹ فارم پر با اثر افراد اور دیانتدار الیکٹیبلز کو جمع کر کے ھر سیاسی جماعت اور آزاد امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے بارگینگ پوزیشن بہتر بنائی جاۓ، اپنے پرچم اور نشان کے ساتھ مذھبی سیاست کے بجاۓ ایک مسلم سماج اور دستوری ملک میں صرف و صرف عوام کے روز مرہ مسائل، ضروریات اور مشکلات کی بنیاد پر جارحانہ عوامی سیاسی پالیسی مرتب کی جاۓ نیز اپنی پارسائیت اور فرشتگییت کا پرچار کرنے اور لوگوں کی نجی زندگیوں پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے مؤخر کر دیا جاۓ۔
جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی پلاننگ، درس و تدریس، دعوت و تبلیغ، تعلیم و تربیت اور خدمت خلق کے کام کیے جائیں۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں