جہاں میں اب بھی ہیں سچے عاشق رسول (ص)

رات کام کی زیادتی کی وجہ سے آفس سے نکلنے میں تاخیر ہوگئی۔ نکل کر روڈ پر آیا تو بسوں، کوچ اور چنگچیوں کا دور دور تک آتا پتہ نہیں تھا، ہاں مگر پرائیوٹ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اسی رفتار سے رواں دواں تھیں۔ گھر تو جانا ہی تھا، لہٰذا مجبوراً ہر گزرتی گاڑی سے لفٹ مانگنے کا اشارہ کرنے لگا۔ گاڑیاں اور بائیکس میرے نزدیک سے زوں زوں کر کے گزر جا رہی تھیں مگر کوئی لفٹ دینے پر آمادہ نظر نہیں آرہا تھا۔ حالانکہ میں نے پوری طرح فرنگی لباس زیب تن کیا ہوا تھا، میرے سر پہ عمامہ/ ٹوپی تھی اور نہ ہی چہرے پر بالشت بھر داڑھی۔ ہلکی سی فیشن ایبل شیو کے ساتھ میں نے جینز اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔
بہرحال، میں لفٹ سے مایوس ہونے ہی لگا تھا کہ اچانک مجھے اپنے پیچھے ہارن کی آواز سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک موٹرسائیکل سوار نظر آیا۔ رانگ سائیڈ ڈرائیونگ چونکہ ہمارے ہاں معمول کی بات ہے، لہٰذا میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ شاید اسے گزرنا ہے سڑک کے مزید کنارے ہو گیا۔ لیکن وہ بندہ میرے سامنے سے گزر جانے کے بجائے میرے قریب آکر رک گیا اور پوچھا کہ آپ کو کہاں جانا ہے؟ میں نے ذرا ہچکچاتے ہوئے اپنے گھر کے نزدیکی اسٹاپ کا بتایا، اس نے کہا بیٹھ جائیں۔ اچانک انجانے خوف کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ پر چونکہ گھر تو جانا ہی تھا، اس لیے ڈرتے ڈرتے میں بائیک پر اس کے پیچھے سوار ہو گیا۔ اس نے کلچ پکڑ کر گئیر لگایا اور ہم چل پڑے۔ میرے ذہن میں خدشات اور اندیشوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا کہ نا جانے یہ بندہ کون ہو؟ اس کے کیا ارادے ہوں؟ کہیں یہ مجھے لوٹ تو نہیں لے گا؟ مجھے مار نہ دے۔ کیونکہ حالات ہی ایسے چل رہے ہیں کہ ان میں سے کچھ بھی ہونا بعید از قیاس نہیں تھا۔ خیر میں نے ایک جھرجھری سی لی اور خود کو نارمل سا کر کے آس پاس نظریں دوڑانے لگا۔ جابجا لگی سبز رنگ کی ٹیوب لائیٹس، برقی قمقمے اور روشنیاں دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ کل بارہ ربیع الاول ہے۔ عید میلاد النبی کی مناسبت سے پورے شہر کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا۔ ہر طرف رنگ و نور کی برساتے اور سبز رنگ کے جھنڈوں کی بھرمار تھی۔

انہی نظاروں میں گم ہم شہر کی ایک مشہور چورنگی پر پہنچے تو وہاں پر رش نظر آیا، ہر طرف ایک عجب ہلّڑ بازی تھی، کچھ لڑکے بالے گاڑیوں کو واپس موڑنے کے اشارے کر رہے تھے۔ ہمیں لگا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوا ہوگا جس کی وجہ سے یہ ہنگامے کی صورتحال ہے۔ لیکن پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جشنِ میلاد کی مناسبت سے بیچ روڈ پر حضور کے موئے مبارک کی نمائش لگائی گئی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں اور مسافروں کو گزرنے کی اجازت نہیں۔

یہ سن کر ہم ذرا چونکے، پریشان ہوئے کہ ہمیں اس چورنگی سے بس ایک اسٹاپ آگے ہی جانا تھا۔ واپسی کی صورت میں ہمیں گھوم کر بہت طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا۔ مجھے لگا کہ اب مجھے یہیں پر اتر کر پیدل جانا پڑے گا، لیکن بائیک سوار نوجوان نے میری پریشانی بھانپتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں، میں آپ کو دوسری طرف سے لے چلتا ہوں۔ اس نے بائیک گھمائی، ہم اگلی چورنگی پر پہنچے تو ایک نئی مصیبت ہمارے استقبال میں کھڑی تھی، نبی کے مولود کی خوشی میں یہ راستہ بھی بند تھا۔

کیا عجب تماشہ تھا کہ جس نبی نے رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو نیکی کہا، آج اسی کے نام پر سڑکیں اور چوراہے بند کیے بیٹھے تھے۔ خیر، ہم نے مین روڈ کے بجائے اندرونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور گلیوں محلوں سے گھومتے گھماتے بڑی مشکلوں سے اپنی منزل تک پہنچے۔

اب تک مجھے یہ تو یقین ہو چلا تھا کہ میرا میزبان کوئی لٹیرا نہیں ہے۔ گھر کے نزدیک مطلوبہ اسٹاپ پر مجھے اتار کر رخصت لینے کی غرض سے جب اس نے سلام اور خدا حافظ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے جواب طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھا، جیسے اسے جانے کی جلدی ہو۔ میں نے اس کا ہاتھ چھوڑنے کے بجائے اپنے دل دماغ میں چلنے والا سوال اس کے سامنے رکھ دیا کہ تم آخر کون ہو ؟ اور ایک اجنبی راہگیر کے لیے اتنی مشکلات کیوں جھیلی؟؟ اس نے ٹالنے والے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ارے کچھ نہیں، بس ویسے ہی۔ اور پھر ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔ مجھے اس کے جواب سے ذرا بھی اطمینان نہیں ہوا تھا، اور بِنا اطمینان کے میں اسے کیسے جانے دے سکتا تھا۔ اسے جب اندازہ ہوگیا کہ ایسے اس کی جان نہیں چھوٹنے والی تو ہار ماننے کے سے انداز میں اس نے سر جھکایا اور آنکھیں زمین پر گاڑ کر یوں گویا ہوا: آج میرے نبی رحمت کی ولادت کا دن ہے، مجھے بھی ان کی آمدِبابرکت کی بہت خوشی ہے۔ لیکن محض سبز کپڑے کا ایک ٹکڑا لہرانا اور چند بتیاں جلا دینا مجھے کافی محسوس نہیں ہوا۔ میں اس سے بڑھ کر کچھ عملی کام کرنا چاہتا تھا، تو سوچا کیوں نہ آج مصیبت میں گِھرے خدا کے کسی بندے اور اپنے پیارے نبی کے کسی امتی کے لیے آسانی کا کوئی کام کروں۔ یہی سوچ لیے گھر سے نکلا، رستے میں آپ پریشان کھڑے نظر آئے تو اسی غرض سے آپ کو چھوڑنے یہاں تک چلا آیا۔
نوجوان کا یہ جواب سن کر تھوڑی دیر کے لیے میں سُن ہوکر رہ گیا۔ اس کا ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھوٹ چکا تھا اور وہ مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر جا کا تھا۔ میرے دل میں خیالوں کا ایک جھکڑ سا آیا کہ کیا اس دور میں کوئی ایسی عملی سوچ کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے؟ کوئی اس طرح بھی اپنے نبی سے عشق کا اظہار کر سکتا ہے؟ ان کا جشنِ میلاد منا سکتا ہے؟ یہ میرے لیے غیر معمولی بات تھی۔ میرے ذہن میں آیا کہ جس نبی کا ایک عام امتی اس اعلیٰ کردار کا ہو تو اس نبی کی اپنی رحمت، بلند اخلاق، عظمت اور کرم نوازی کا کیا عالم ہوگا۔
میں دل ہی دل میں اس نوجوان کو دعائیں دیتا اپنے گھر کی طرف قدم بڑھانے لگا اور دور کہیں ہوا کے دوش پر عنایت علی خان کے یہ نعتیہ اشعار میری سماعتوں سے ٹکرانے لگے۔۔
تیرے حسنِ خلق کی اک رمق، میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

شیئرکریں
mm
یوسف ابوالخیر فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کے طالبعلم ہیں۔ اخبارات اور چینلز کے ساتھ کام کا تجربہ ہے۔ آج کل دی ٹرتھ انٹرنیشنل (اردو) کے ساتھ بطور ایڈیٹر وابسطہ ہیں۔ حالات حاضرہ پر لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔ روایتی اور مروجہ انداز و اصالیب سے ہٹ کر کچھ منفرد لکھنے کے قائل ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں