خدا نخواستہ (دوسری قسط)

سامنے کا منظر آج کے دور کے حساب سے اتنا معیوب نہیں تھا مگر میں اگر اس منظر کی منظر کشی کروں تو مجھ پہ سستی مے کشی کا الزام لگانا آپ کی مجبوری بن جاۓ گا ۔

میری بیگم تازہ تازہ بے ہوشی سے ہوش کی دنیا میں وارد ہوئی تھی ۔ ابھی ہم دونوں نے اپنے زندہ بچ جانے پہ خوشی منانا تھی مگر سامنے کا منظر کم از کم مجھ پہ قیامت ڈھا چکا تھا ۔
میں نے اپنی آنکھوں کو جھپکا اور ایک بار پھر یہ خیال کیا کہ شاید میں عالم بالا کے کسی منظر کا حصہ ہوں مگر ایسا نہیں تھا ۔ یہ حقیقت تھی ۔ اور ایسی حقیقت جس کے نتائج کا اندازہ میں ابھی نہیں لگا سکتا تھا ۔۔ اور جہاں تک بیگم کا سوال ہے ۔
تو بیگم نے بڑی سے بڑی بات پہ کبھی ” چوں ” تک نہیں کیا تھا ۔ مگر آج اس کی بھی آنکھیں پھٹی کی پھٹی تھیں ۔

ہم اس وقت ساحل پہ تھے اور وہاں درجنوں خواتین پولیس کی وردیاں پہنے ہوۓ تھیں جن کے ہاتھوں میں رائفلیں تھیں اور ان سب کا رخ ہماری طرف تھا ۔
ساحل پہ رش نہیں تھا مگر کہیں کہیں اکا دکا خاتون سمندری لہروں کے ساتھ موج مستی کرتے ہوۓ نظر آ رہی تھی ۔
میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی ۔۔۔ وہاں ایک بھی مرد نہیں تھا ۔

یکایک ہماری کشتی کو ساحل کا لمس ملا اور ہم دونوں کشتی میں بیٹھے بیٹھے ڈول گئے ۔ بیگم نے حسب تربیت اپنا دوپٹہ اٹھایا اور سر پہ رکھ لیا
ہم کشتی سے اترنے کا خیال ہی کر رہے تھے کہ ایک پولیس والی ہماری طرف بڑھی اس کے پیچھے اس کی دو ماتحت بھی تھیں ۔۔ اس نے بلا کی تیزی کے ساتھ ہماری کشتی میں چھلانگ لگائی اور میری بیگم کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” شرم نہیں آتی تمہیں ایک جوان جہان مرد کو سرعام لئے اس کا منہ کالا کرتے ہوۓ ؟؟

بیگم ابھی ان جملوں کی حرمت کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ ایک ماتحت نے آگے بڑھ کر اس کا دوپٹہ اتارا اور آگے بڑھ کر میرے سر پہ رکھ دیا ۔۔
” بے حیاء بد ذات ننگے سر گھومتا ہے ۔ دیدوں کا پانی مر گیا ہے کیا ۔۔۔ باپ بھائی نے کوئی تمیز نہیں سکھائی کیا ؟
ذات کا مرد اور اتنی بے حیائی !!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولیس وین کے پیچھے بیٹھے ہم دونوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راستوں اور لوگوں کو دیکھ رہے تھے ۔ انتہائی خوب صورت اور صاف ستھرا شہر تھا گلیاں پکی مکانات خوب صورتی سے تعمیر کئے گئے اور کوچہ بازار انتہائی صاف جیسے ابھی ابھی ہمارے استقبال کے لئے کسی نے صفائی کی ہو ۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس قدر نفاست کہیں نہیں دیکھی تھی ۔
مزید حیران کر دینے والی چیز یہ تھی کہ پورے راستے ایک بھی مرد موجود نہیں تھا ۔ جہان دیکھو عورتیں ہی عورتیں تھیں ۔
ہر عمر ہر رنگ ہر نسل کی عورتیں لمبی چھوٹی موٹی پتلی عورتیں ۔۔۔
سب بڑے سکوں سے اپنے اپنے راستوں کی جانب گامزن تھیں کسی عورت کی آنکھوں میں کسی قسم کا کوئی خوف یا ڈر یا شرارت یا معصومیت نہیں تھی ۔ ایک پولیس والی نے گاڑی میں بٹھانے سے پہلے کہیں سے ایک برقعہ لا کر مجھے پہنا دیا تھا ۔ جس کی آنکھوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سوراخ موجود تھے جن میں سے میں سامنے ہی دیکھ سکتا تھا ۔
مجھے برقعہ کیوں پہنایا گیا ؟ ابھی میں اس سوال کا جواب جاننے کی حالت میں نہیں تھا میرے اوسان تو شہر اور شہر میں موجود خواتین کی یلغار دیکھ کر ہی خطا ہو چکے تھے ۔ میں نے ایک نظر بیگم کی جانب دیکھا !! وہ شلوار قمیض میں تھی سر پہ دوپٹہ نہیں تھا بال کھلے ہوۓ تھے اور اس کا چہرے کی ہوائیاں بھی اڑی ہوئی تھیں ۔
پولیس وین کافی دیر چلنے کے بعد ایک بڑی عمارت کے سامنے آ کر رک گئی جس پہ بڑا سارا ” دارالامن ” لکھا ہوا تھا ۔
ہمیں خواتین پولیس کی چھتر چھایا میں اندر لے جایا گیا اور ایک بڑے کمرے میں بٹھا دیا گیا جہاں بوڑھی بوڑھی خواتین کی قد آدم تصاویر لگی ہوئی تھیں جن کے نیچے ان کی تاریخ وفات اور عہدے درج تھے ۔
تھوڑی ہی دیر بعد ایک ساڑھی پہنے جوان سی لڑکی کمرے میں۔داخل ہوئی جس کو اگر میں اپنے ملک میں شادی سے پہلے دیکھتا تو کم از کم سہ غزلہ ضرور کہتا مگر یہاں تو حروف تہجی بھولا بیٹھا تھا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی طشتری تھی جس میں چاۓ بسکٹ اور سینڈوچز تھے ۔
ہم دونوں نہیں جانتے تھے کہ ہم کتنے دن کے بھوکے تھے سو دونوں نے اس سوہنی من موہنی لڑکی کی طرف دوسری نظر تب ڈالی جب ہماری طشتری ” کھڑکنے ” لگی ۔
اس حسینہ نے سپاٹ انداز میں ” اور لاؤں ” پوچھا تو ہم دونوں شرما گئے اور میں نے کہا ۔۔۔
” نہیں بس کافی ہے ”

بے غیرت انسان !!!!! بیگم کے ہوتے ہوۓ بولتا ہے ؟؟ شرم نام کی کوئی چیز تم میں موجود بھی ہے کہ نہیں ؟؟؟
حسینہ دھاڑی ۔۔۔۔۔

میں نے بیگم اور بیگم نے مجھے دیکھا ۔۔۔ میری آنکھوں میں حیرانی اور بیگم کی آنکھوں میں سرپرائز تھا ۔

قریب آدھا گھنٹہ ہم دونوں وہیں بیٹھے رہے ۔۔۔ برقعے میں مجھے سخت گرمی لگ رہی تھی ۔۔ میرا سفید کاٹن کا گیلا سوٹ بھی سوکھ کر اکڑ چکا تھا ۔ میں سخت اذیت میں تھا اور وہاں بیگم بہت آرام سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی

کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک اور ادھیڑ عمر خاتون اندر آئی اور کہا
” چلو بھئی ! تم دونوں کی پیشی ہے ”

ہم اٹھے اور حسب معمول بیگم نے توقف کیا کہ میرے پیچھے چلے ۔۔ مجھے آگے نکلتا دیکھ کر وہ ادھیڑ عمر بلکہ بوڑھی عورت بولی
اوے ذلیل !!!!! تجھے پالنے والا  تو شرم سے ڈوب مرا ہو گا ۔۔۔
تیرے باپ نے تجھے نہیں بتایا کہ اپنے سہاگ کے آگے نہیں چلتے ۔ ہے ہی گھٹیا انسان !
ایسے ہی تو ساحل پہ رنگ رلیاں مناتے نہیں پکڑے گئے ۔ترے تو لچھن ہی کوٹھے والے مردوں جیسے ہیں ۔

خدا گواہ ہے اسکول میں ماسٹر اس سے بھی زیادہ کتے جیسی۔ کرتا تھا مگر یہ جؤ دو بار میری ہو گئی اس نے مجھے اندر سے چھلنی کر ڈالا تھا ۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یار بیگم کو تو کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ۔۔ ساری مجھے ہی ذلیل کرنے پہ کیوں تلی ہیں ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں کمرہ عدالت لے جایا گیا بیگم آگے تھی اور میں اس کے پیچھے تھا ۔ ہم دونوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ۔
فاضل جج ایک خاتون تھیں ،
وکیل بھی خاتون تھیں
جج کی منشی ، سٹینو ، درباری فوٹو اتارنے والی ، اخباری رپورٹر اور حتیٰ کہ مقدمہ دیکھنے والی سب کی سب خواتین تھیں ۔۔۔

یا اللّه یہاں مرد کیوں نہیں ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ مرد پیدا ہوتے ساتھ اسے زندہ دفنا دیتے ہوں ؟
یا پھر یہاں مرد ہوں ہی نا ۔۔
یا پھر سب مرد دوسری جنگ عظیم میں مر گئے ہوں ؟
یا سب کمائی کے لئے انگلینڈ چلے گئے ہوں ؟
یا پھر اس بار مردوں کی فصل اچھی نہ ہوئی ہو ؟
یا پھر ۔۔۔
اففف اللّه ۔۔۔۔۔ کہیں یہ مرد کھا تو نہیں جاتیں ؟؟؟؟؟؟؟

میں اب سچ میں ڈر چکا تھا
وکیل نے مقدمہ شروع کیا

” میری فاضل ججنی جی !! ان دونوں پہ الزام ہے کہ یہ دونوں ساحل پہ ایسی حالت میں گرفتار ہوۓ ہیں جس کا میں یہاں ایک مرد کے ہوتے ہوۓ تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہتی ۔ ججنی صاحب !!! مانا کہ وقت کے ساتھ ساتھ نازکستان میں ترقی ہوئی ہے ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے حیاء ہو گئے ہیں ۔
یہ عورت اس مرد کو ننگے سر کشتی میں گلے لگاۓ بیٹھی تھی اور ججنی صاحبہ بڑی کوتوالنی کا بیان ہے کہ اس ناہنجار مرد کے کپڑے گیلے تھے جس میں سے اس کا جسم بھی نظر آ رہا تھا ۔
ہم اس ملک کے قانون کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کریں گے ۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ ملک کے قانون کے مطابق اس ان دونوں کو اس جرم کے کرنے پہ سزا دی جاۓ ۔ فوری طور پہ لڑکی کو دو سو روپے سکہ رائج الوقت جرمانہ اور اس بے شرم مرد کو پتھر مار مار کر قتل کر دیا جاۓ ۔

” غضب خدا کا یہ کیسا انصاف ہے بیگم کو صرف دو سو جرمانہ اور مجھے قتل ؟؟؟؟
کیا آپ سب ہوش میں ہیں !
میرا ضبط ٹوٹ گیا ۔۔۔۔

” چپ کر کمینے بے حیاء رذیل مرد ! وکیل بولی

آرڈر آرڈر آرڈر جج نے ہتھوڑا مارا اور سب کو چپ رہنے کا کہا ۔ ہال میں موجود تمام خواتین مجھ پہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کروڑؤں لعنتیں برسا رہی تھیں ۔

” تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہو ؟؟؟؟ ججنی نے بیگم کی طرف اشارہ کیا ۔۔

” بیگم نے مجھے دیکھا ! اور پھر بولی ۔ حضور ! ہم دونوں میاں بیوی ۔۔۔۔۔۔

چپ ۔۔۔۔ بیوی میاں کہو !!!! میاں مقدم نہیں ہوتا ۔

ججنی نے ٹوکا ۔

جی وہ ہم دونوں بیوی میاں پاکستان سے ہیں اور عمرہ کرنے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

ایسے ہماری آنکھ کھلی اور اس کے بعد آپ سب جانتی ہیں ۔ بیگم نے رکتے رکتے تمام کہانی بتا دی ۔

ججنی نے چشمہ پہنا اور جیوری سے مشورہ کیا ۔۔ کچھ کاغذات دیکھے اور فیصلہ سنایا ۔۔

” عدالت دونوں طرف کے دلائل سننے اور شواہد کو مد نظر رکھنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچی ہے کہ ثمینہ بیگم اور علی حسن زوج ثمینہ بیگم یہاں کے نہیں ہیں !
دونوں ایک حادثے کے نتیجہ میں اس گمشدہ جزیرے پہ آ گئے ہیں ۔
چونکہ یہاں سے کسی ملک جانے کا کسی قسم کا کوئی سلسلہ اور اجازت نہیں ہے سو باامر مجبوری دونوں کو اب یہیں رہنا پڑے گا ۔
سو عدالت ناظمِہ شہر کو حکم دیتی ہے کہ وہ ان دونوں کو سرکاری مہمان کے طور پہ کسی جگہ ٹھہرا دے اور ان دونوں کو چھے مہینے کا وقت دیتی ہے کہ یہ دونوں اس ملک کے طور طریقے سیکھ اور اپنا لیں ۔
چھے مہینے کے بعد دونوں کو دوبارہ دیکھا جاۓ گا اور اس کے بعد یہ دونوں نازکستان میں آزادی سے زندگی گزار سکیں گے ۔
عدالت برخواست ہوتی ہے

بیگم کا تو نہیں پتا ۔۔ مگر میرا حال اس وزیر اعظم جیسا تھا جؤ 60% فیصد اکثریت کے بعد بھی نااہل ہو جاتا ہے

جاری ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں