ذہنی صحت کا عالمی دن

Feeling blue

“10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت Mental Health کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈیپریشن اور شیزو فرینیا ہیں ۔2002ء میں یہ اندازا لگایا تھا کہ دنیا بھر میں 15 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں تقریباً ایک فیصد افراد کسی ایک وقت میں شیزوفرینیا متاثر ہوتے ہیں”

(بشکریہ وکی پیڈیا)

آج کے انسان کی پریشانیوں کا جو ماخذ نظر آتا ہے وہ مادیت پرستی ہے۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ ۔یہ دوڑ اگر خیر و بھلائی کے راستے میں لگ رہی ہے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت کا زریعہ ہے ۔مگر اگر یہ دوڑ دنیاوی نمود و نمائش،اسٹیٹس ، مہنگی تعلیم،برانڈڈ جوتے اور کپڑے ۔مہنگے کھانے ، بڑے بزنس یا اونچی نوکری ،عالیشان اور مہنگے آرکیٹیکٹ کے بنائے ہوئے مکانات(گھر اس لئے نہیں لکھا کہ احساسات اور جزبات سے عاری انسانوں کی رہائش گھر نہیں مکان میں ہوتی ہے) اور چمکتی نئے ماڈل کی گاڑیوں کے لئے ہے تو سوائے تھکن،ڈپریشن،حسد،اور ھل من مزید کی خواہش کے کچھ حاصل نہیں۔۔۔۔۔
گزرے زمانے میں سادگی کے کلچر کے سبب بہت سوں کا بھلا ہوجاتا تھا ہر ایک اپنے حال میں مگن اور آج کی بہ نسبت بہت بہتر حالت میں تھا ۔امیر کو اپنی امارت دکھانے کا شوق نہ تھا بلکہ نمائش کرنے والوں کو معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا تھا غریب اپنی کھال میں مست تھا کیونکہ سادگی کے سبب امیر ہو یا مڈل کلاس سب ایک ہی جیسے لگتے ۔بڑی گاڑی اور بڑے گھر اس وقت بھی تھے مگر ساتھ ہی دلوں میں بھی وسعت اور گنجائش تھی۔سادگی کے سبب کسی کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔
یہ بات ہم سب کے سوچنے کی ہے کہ آج معاشرے میں ہر چھوٹا بڑا ذہنی دباؤ کا شکار کیوں ہے اس میں یقیناً مادہ پرستی اور ہمارے بدلتے رویوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اشتہاری صنعت نے بھی میڈیا کے زریعے معاشرے کو ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔غیر ضروری آسائشوں کو ضروریات بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ہر انسان کی خواہش ہے کہ وہ عالیشان گھر میں رہتا اوربڑی گاڑی میں گھومتا ہو ۔ بچہ مہنگے تعلیمی ادارے میں پڑھتا ہو چاہے اسکے لئے اسے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونا ہر فرد کی مجبوری ہے۔
زرا سوچیں ہمارے نمائشی رویے ،ہماری بناوٹی گفتگو کے موضوع،ہماری پی آر ( جس میں رشتے نہیں مال بنیادی حیثیت کا حامل ہے ) ہماری زیر استعمال برانڈڈ اشیاء۔ کتنوں کی زہنی اذیت کا باعث بنتی ہیں ،کتنے گھروں کو بے سکون کرتی ہیں ،کتنوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی احساس محرومی میں مبتلا کرتی ہیں،کتنوں کو ناجائز اور حرام کمائی کی طرف جانے پر مجبور کرتی ہیں اور ساتھ ہی دماغی و زہنی دباؤ اور بیماریوں میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔
اللہ نے آپ کو اپنی نعمتوں اور فضل سے نوازا ہے الحمد للہ
ان سے فائدہ اٹھائیے اچھا کھائیے اچھا پہنئے مگر جذبۂ شکر کے ساتھ جذبۂ نمود و نمائش کو نکال باہر کیجئے ۔اپنی گفتگو اپنے رویے میں تبدیلی لائیے ۔سادگی اپنائیے گفتگو میں ،رویوں میں ،رشتوں میں ۔
اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کو اپنے جیسے انسانوں کے لئے اذیت نہ بننے دیجئے انہیں اپنے نمائشی طرز حیات سے محرومیوں کا احساس نہ دلائیے ۔۔۔۔معاشرے کے لئے زندگی کو آسان بنانے میں پہلا قدم اٹھائیے سادگی کو رواج دیجئے۔ ان شااللہ ہم سب کی زندگیاں اللہ آسان کردے گا۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز