صارف کی طاقت

لٹل سیزر ( Little Caesars) نامی فوڈ چین کے امریکا میں سو سے زائد شاخیں ہیں اور یہ مسلمانوں کو حلال پزا بھی فراہم کرتی ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق رواں سال 20 مارچ کو امریکی ریاست مشی گن میں مسلمان شہری ٴٴ ایم بازیٴٴ اپنی بیوی کے ہمراہ پزا کھانے گئے اور کائونٹر پر تاکید کی کہ انہیں بیف پزا کھلایا جائے۔ اسٹاف نے ان کا آرڈر لاکر رکھ دیا جس پر حلال کا لیبل بھی لگا ہوا تھا۔ لیکن جب ایم بازی نے پزا کھانا شروع کیا تو انہیں لگا کہ یہ بیف نہیں کچھ اور ہے۔ اس نے اسٹاف کو بلایا اور پوچھ گچھ کے بعد پتہ چلا کہ وہ در اصل خنزیر کے گوشت کا بنا تھا۔
ایم بازی پزا وہیں چھوڑ کر پولیس اسٹیشن گئے لیکن پولیس نے ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ایم بازی نے اپنے وکیل ماجد مغدونی کے توسط سے لٹل سیزر کیخلاف وائن کائونٹی سرکٹ کورٹ میں کیس دائر کر دیا جس میں اس نے کہا کہ فوڈ چین نے ان کے ساتھ واضح فراڈ کیا ہے اور اب تک پتہ نہیں کتنے مسلمان صارفین کو حلال کے نام پر حرام پزا کھلا چکی ہے۔ ایم بازی نے فوڈ چین کے خلاف ایک کروڑ ڈالر کا دعویٰ کر دیا۔
جب عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو فوڈ چین کے کان گرم ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے ایم بازی کے وکیل ماجد مغدونی سے رابطہ کرکے پیش کش کی کہ اگر آپ کیس واپس لیں تو ہم آپ کے موکل کو5 لاکھ ڈالر ہرجانہ دینے کیلئے تیار ہیں۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 5 کروڑ24 لاکھ 17 ہزار 500 روپے بنتی ہے۔ لیکن ایم بازی نے فوڈ چین کی یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے قانونی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اب آتے ہیں پاکستان کی طرف، بڑے بڑے ریسٹورنٹس ہمیں کئی سال سے مٹن کے نام پر گدھا کھلاتے ہیں۔ فائیو اسٹارز ہوٹلوں میں شادیوں کا بچا ہوا کھانا کھلایا جاتا ہے۔ جانوروں کی باقیات سے بنا کوکنگ آئل ہم استعمال کرتے ہیں۔ سرسوں کے تیل کے نام پر بھینس کا پیشاب فروخت کیا جاتا ہے، حلیم میں دھاگے ڈال کر ہمیں کھلایا جاتا ہے۔ گندے ٹماٹر کوٹ کر ہمیں کیچ اپ کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے۔

کوریئر سروسز والے ایک دن کا پارسل 10 دن سے پہلے نہیں پہنچاتے، نازک چیزیں ارسال کرو تو ٹکڑوں کی صورت میں ڈلیور کرتے ہیں۔ منرل واٹر کے نام پر ہائیڈرنٹ سے کین بھر کر ہمیں سپلائی کیا جاتا ہے۔ آن لائن شاپنگ کرو تو 10ہزار کی چیز دکھا کر100 روپے کی چیز ڈلیور کرتے ہیں۔ دل کا علاج کرتے ہوئے ہمیں جعلی اسٹنٹ لگائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ خون بھی جعلی مل رہا ہے۔ لیکن مجال ہے جو ہم کچھ بولنے اور کرنے کو تیار ہوں۔ ہم اتنے ڈھیٹ بن چکے ہیں کہ گدھے کھانے کے بعد ڈکار تک نہیں لیتے اور حکومت کی آس میں لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔

میرے پاکستانیو! سرکاری ادارے ایک طرف لیکن جو پرائیویٹ ادارے اور کمپنیاں بھاری معاوضوں کے باجود معیاری اشیا اور خدمات فراہم نہیں کرتیں ان کے خلاف کم از کم آواز اٹھائیں۔ کسی ایک کمپنی کو گھسیٹ کر عدالت میں لائیں، عوامی سطح پر اس کمپنی کے خلاف مہم چلائیں، پھر دیکھیں یہ کیسے انسان کے بچے بن جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں بطور صارف اپنی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں، ہم احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ہمیں اس احساس کمتری سے نکل کر اپنی حیثیت خود منوانی ہوگی۔

شیئرکریں
mm
نورالہدیٰ شاہین صحافت کے طالب علم اور ٹیم "ٹی ٹی آئی" کا حصہ ہیں۔ حالات حاضرہ اور سیاسی و سماجی موضوعات پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں