فرقہ واریت اور مذہبی جنون

گذشتہ دن جمعرات کو  خیرپورمیرس میں دو مذہبی جماعتوں میں تصادم ہوا. تین آدمی  قتل ہو گئے. متعدد زخمی ہوے.

واقعے کا پس منظر یہ بیان کیا جارہا ہے کہ ضلع کے اندر کسی نئی ریلی،  جلوس پر پابندی کے باوجود ایک جماعت نے بغیر پرمٹ کے ریلی نکالنے کی کوشش کی.  ریلی کا روٹ اس طرح مقرر کیا گیا کہ مخالف جماعت کے اکثریتی علاقے اور ان کے گھروں کے سامنے گذرنا تھا. جس پر دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے اہل محلہ راستے پر نکل آئے. جلوس کے خلاف  دھرنا دیا  اور  غیر قانونی ریلی بند کروانے کا مطالبہ کیا.

دوسری طرف جلوس انتظامیہ اپنی بات پر بضد قائم رہی اور مقرر وقت پر جلوس  نکال کر اس دھرنے کی  طرف لایا گیا. جب دونوں فریق آمنے سامنے ہوے تو لاٹھی باٹھے کا خوب استعمال ہوا.  پولیس نے  جھگڑا ختم کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 افراد قتل ہوگئے.

مذہبی ریلیوں،  میلادی اور ماتمی  جلوسوں  کی وجہ سے ملک  کے اندر بہت انتشار پھیلا ہے.  اکثر فرقہ وارانہ فساد ایسے مواقع پر ہی ہوتے ہیں. اور فرقہ پرور مولوی نفرت انگیز تقریروں کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو مشتعل کرکے خون ریزی کروارہے ہیں. ایسے جلوسوں میں چونکہ لوگوں کی ایک بھاری تعداد جمع ہوتی ہے ان پر کنٹرول کرنا بھی مشکل ہوتا ہے.  بس ان کو اشارے کی دیر ہوتی ہے اور وہ ایک طرف ٹوٹ پڑتے ہیں. اس طرح کے کئی واقعات ہوے ہیں، پنڈی میں تعلیم القران مدرسے پر حملہ اس کی تازہ مثال ہے. مسمانوں کے باہمی قتل عام  کو جہاد قرار دیا جاتا ہے اور فریق مخالف کے مقتولوں کو جہنمی سمجھا جاتا ہے.  اپنے مقتول شہداء قرار دیے جاتے ہیں. جب کہ مرنے والے اور مارنے والے دونوں ہی کلمہ گو ہوتے ہیں.

افسوس ہے کہ یہ نام نہاد دین فروش فرقہ واریت  پھیلانے کے لیے مذھب کا نام استعمال کر رہے ہیں.  اور اس طرح بیگناہ نوجوانوں کا برین واش کر کے ان کو اسلامی تعلیمات امن و سلامتی اور ملکی مفادات کے  خلاف استعمال کیا جا رہا ہے.

ماضی قریب میں ایسے متعدد واقعات دیکھنے کو ملے ہیں کہ جنونی مولویوں کی نفرت انگیز تقریریں سن کر نو عمر اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل پہ آجاتے ہیں.

کچھ عرصہ پہلے چنیوٹ میں ایک  مذہبی  جنونی  نوجوان  نے  مسجد کے اندر گھس کر تبلیغی  جماعت کے ایک کارکن کو قتل کیا.   جماعت  والوں نے اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا.  بعدازاں تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس نوجوان کا برین واش کیا گیا تھا اور اس کے کٹر نظریہ کے مطابق ان تبلیغ والوں  کو قتل کرنا برحق اور دین کی خدمت تھا. اس کو یہ بتایا گیا تھا کہ تبلیغ والے گستاخ رسول ہوتے ہیں.

اس طرح کا ایک واقعہ پچھلے ہفتے سندھ کے علاقے سجاول کے ایک  گاؤں میں بھی پیش آیا.  وہاں کے ایک شخص نے تبلیغی  جماعت کے  ایک فرد کو صرف اس لیے قتل کیا کہ وہ ان کی مسجد میں کیوں آئے.

اس طرح کے کٹر اور جنونی نظریات پھیلانے والے مذہبی لبادے میں چھپے سانپوں کو اگر باہر نہ نکالا گیا تو یہ مستقبل کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے. اور یہ اختلاف  ملک میں باقائدہ  خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں.

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی،  مذہبی ریلیوں، میلادی، اور ماتمی جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے. میلاد اور ماتمی پوگراموں، سیاسی اور مذہبی  جلسوں کو مسجد، مدرسہ، گراؤنڈ اور جلسہ گاہوں   تک محدود کیا جائے.  اس سے پھیلتا انتشار کافی حد تک کم ہوسکتا ہے اور عوام کو بھی تکلیف سے نجات مل جائے گی.

شیئرکریں
mm
نوراحمد حارث خیرپور میرس سندہ تعلیم، درس نظامی. مدرس شعبہ کتب جامعہ فاطمۃ الزہراء للبنات خیرپور میرس. ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نوراحمد حارث خیرپور میرس سندہ تعلیم، درس نظامی. مدرس شعبہ کتب جامعہ فاطمۃ الزہراء للبنات خیرپور میرس. ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ noorpanhwer4@gmail.com

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں