” لکھ نہیں سکتا”

کبھی کبھی الفاظ و خیالات ایسے دور بھاگتے ہیں کہ صحرا میں فریب دیتے سراب کی طرح انکے پیچھے دوڑتا ہوں مگر ایک قطرہ بھی نصیب نہیں ہوتا.

کبھی کبھی میں لکھ نہیں سکتا کہ مجھے اس لڑکی کی کیفیت اور وحشت بیان کرنے کی سوچ بھی ماؤف کر دیتی ہے جسے ڈیرہ اسماعیل خان میں روایات کے پاسداروں نے اپنی پگڑی اونچی کرنے کے لئے اسکی روح تک برہنہ کر دی تھی .

الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جب این اے 4 کے ضمنی انتخابات میں فاتحین اپنے جشن کے دیوتا کی خوشی کے لئے ایک نوجوان لڑکے کا خون پی جاتے ہیں. اسکے ماں باپ کو اپنے لخت جگر کی میت پر ماتم کرتے تصور کرتا ہوں مگر الیکشن کی فتح کا بھنگڑا ڈالنے والوں کی بے حسی میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگ جاتی ہے.

اس وقتِ گنگ ہونا پڑتا ہے جب وطن کے محافظ سرحدوں کی حفاظت کرتے کرتے وزیرستان، کراچی اور بلوچستان میں اپنے سامنے پختونوں، بلوچوں، سندھیوں، مہاجروں، سرائیکیوں اور پنجابیوں کی عزت نفس کی سرحدیں پھلانگتے جاتے ہیں. کوئی انھیں سمجھاتا نہیں کہ اپنے دیس کے باسیوں اور دشمن کی تلاشی میں کیا فرق ہوتا ہے؟

اس وقت خاموش ہونا پڑتا ہے تاکہ کوئی بوٹ پالشیا نہ کہہ دے، جب علاقے کا چوہدری ایم این اے کمی کمینوں کی عزتیں سر بازار اچھالتا ہے کیونکہ اسے جمہوریت کے نام پر چند ہزار ووٹ پڑے ہوتے ہیں.

آنکھیں موند لیتا ہوں جب عشقِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کے نام پر بے گناہوں کو قتل ہوتے اور پوری عمر جیل میں سڑتے دیکھتا ہوں. میں اس مجبور خاندان کی ذلت پر کچھ لکھ نہیں پاتا. کیونکہ ہمارا عشقِ رسول کسی آتش فشاں کے لاوے کی طرح ہر دلیل، ہر مجبوری، ہر نا انصافی کو روندتا چلا جاتا ہے.

قلم اس وقت خشک ہوجاتا ہے جب انصاف، سچائی، پارسائی اور اخلاقیات کا پرچم اٹھائے صحافیوں، دانشوروں کی منافقت، سستی شہرت کے لئے مذہب، خدا، پیغمبر اور وطن عزیز کے گھناؤنے استعمال، ذاتی مفادات اور نفس کی غلامی کرتے کردار منکشف ہوتے ہیں.

لکھا نہیں جاتا جب عوام کی جہالت کی مختلف پرتیں آنکھوں کے سامنے رقصاں ہوتی ہیں تو ایمان کی طرح اپنے جہل سے لپٹے لوگوں کے ردعمل سے گھبرا کر انکی جہالت کی خاموش تائید کرنی پڑتی ہے.

لکھ نہیں سکتا کہ مظلوم کی آہ کا درد کیا ہوتا ہے. سمجھا نہیں سکتا کہ مجبور کی بے بسی کیسے خون میں سرایت کرتے زہر کی طرح مفلوج کرتی ہے. بیروزگار کی بے کسی کا لمس محسوس نہیں کروا سکتا. قرآن سے شادی ہوئی منکوحہ کے جذبات نہیں لکھے جاتے. محبت میں ہوس کے ملاوٹ زادوں کی تعفن زدہ سوچ کھول نہیں سکتا. روشن خیال نہ ہونے کے خوف سے اپنے ہی وطن کو نوچتے لبرلز کی تنگ نظری پر رائے نہیں دے پاتا. پنجابیوں کو گالی پڑنے پر اس مجبور بیوی کی طرح سر جھکا لیتا ہوں جو شوہر کے دکھی دل کو ٹھیس نہیں دینا چاہتی. ناکردہ گناہ بھی قبول کر لیتا ہوں کہ مظلوم کا دل زخمی ہوتا ہے.

اس بھولے بسرے گمشدہ عشقِ حقیقی کی طرح جو افئیرز، کے چنگل میں پھنسا اپنی توہین ہوتے دیکھتا، کچھ کہہ نہیں سکتا میں بھی بہت کچھ میں لکھ نہیں سکتا.

شیئرکریں
mm
ثاقب ملک ٹی ٹی آئی کے اعزازی لکھاری ہیں۔ ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں