مجلس عمل سے بے عملی تک !

ہمارے ہاں پشتو فلم انڈسٹری کا ایک دور رہا ہے،خصوصا اس فلم نگری میں بدر منیر کی آمد نے اسے عروج بخشا،بدر منیر ساٹھ کی دہائی میں کراچی کی سڑکوں پہ رکشہ چلاتا تھا،کچھ عرصہ بعد انہیں مشہور اداکار وحید مراد کے دفتر میں ڈرائیور اور چپراسی کی نوکری ملی. یہ شروع سے ہی فلموں کا شوقین تھا لہذا ان کے سامنے بہترین موقع تھا قسمت آزمائی کا،سو انہوں نے وحید مراد کو آئینے میں اتارا اور وحید مراد نے انہیں اپنی فلم ‘جہاں ہم وہاں تم ‘میں مختصر سا رول دلوا دیا ،اس کے بعد بدر منیر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،ساڑھے چار سو سے زائد پشتو اور اردو فلموں میں کام کیا،بدر منیر کا پشتو فلم انڈسٹری میں وہی مقام تھا جو سلطان راہی کا پنجابی فلم نگری میں تھا،بدر منیر کی آخری فلم ‘زمانہ پاگل جانانہ’ متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں سنہ 2005 نمائش کے لیے پیش کی گئی،اس فلم نے صوبہ سرحد کی اسلامی حکومت کی فیوض و برکات کے سائے میں ریکارڈ بزنس کیا. پشتو فلم انڈسٹری کو کچھ دیر کے لیے اسی جگہ چھوڑ دیں،

پہلے متحدہ مجلس عمل کے کچھ کارہائے نمایاں پہ بات کرتے ہیں،2002 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے بھرپور حصہ لیا اور صوبہ سرحد سے قومی اسمبلی کی تین نشستوں کے علاوہ صوبے کی تقریبا تمام نشستوں پہ الیکشن جیت کر صوبے میں اپنی حکومت بنا ڈالی،متحدہ مجلس عمل نے ووٹ نفاذ اسلام،امریکہ مخالفت،فحاشی کا خاتمہ ،فرقہ واریت کا خاتمہ اور پرویز مشرف کی روشن خیالی کے خلاف نعرے لگا کر لیا تھا سن دوہزار چار جب صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کا طوطی بولتا تھا،خیر و برکات دیکھ لیں یہ وہی سال ہے جسے پشتو فلموں کی تاریخ میں سب سے کامیاب سال قرار دیا جاتا ہے،جب ایک سے بڑھ کر ایک پچیس فلمیں ریلیز ہوتی ہیں جن میں سے بیس فلمیں ہٹ ہوئیں،اب یہ آپ رعایت اللہ فاروقی صاحب سے پوچھ لیں کہ پشتو فلموں میں کیا دکھایا جاتا ہے کہ ان کا مشاہدہ سند مانا جاتا ہے. مختصر یہ کہ نفاذ اسلام کا نعرہ لگا کر ووٹ لینے والوں کی حکومت کے دوران فحاشی و عریانی نہ صرف فلموں کی صورت فروغ پاتی رہی بلکہ پشاور میں قائم جسم فروشی کے اڈے صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے برابر چلتے بھی رہے،جب کہ اتنے مضبوط مذہبی اتحاد کے ہوتے اسلام مخالف حدود آرڈیننس بل بھی اسمبلیوں سے منظور ہوا،امریکہ بھی سرحد کے آر پار من مانیاں کرتا رہا،ادھر جس مشرف کی روشن خیالی کے خلاف محاذ آرائی کا نعرہ لگایا تھا ایل ایف او پہ سمجھوتہ کرکے مشرف کے ہاتھ پہ بیعت بھی کرلیا، ادھر ملک میں مذہبی جماعتوں کے سب سے بڑے اتحاد کے ہوتے سکردو سے لیکر کراچی تک فرقہ وارانہ فسادات اور قتل بھی اسی دور میں ہوئے،

دوہزار پانچ میں تو گلگت بلتستان فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا تھا بلتستان میں اہل سنت اقلیت کے مراکز،مساجد ،املاک دکانیں نذر آتش کی گئی مجلس عمل کی قیادت نے کتنے دورے کیے بلتستان کے؟مختصر یہ کہ متحدہ مجلس عمل نے جن نعروں پہ ووٹ لیا تھا ان میں سے کسی ایک پہ عمل نہیں ہوا دوہزار دو میں مجلس عمل کے پاس عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مذکورہ سارے نعرے تھے،جب کہ اب صورتحال بالکل مختلف ہے،متحدہ مجلس عمل کی ٹوٹل گیم خیبر پختون خواہ میں ہے جب کہ دوہزار دو میں اس صوبے میں مجلس عمل کا ٹاکرا دین بیزار ایک لبرل پارٹی اے این پی سے تھا جب کہ اب خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف نے اپنی جڑیں مضبوط کیں ہیں وہی تحریک انصاف،جو یوم فاروق پہ سرکاری چھٹی کرتی،آئمہ مساجد کو تنخواہیں دینے کا اعلان کر رکھا ہے،رمضان میں مولانا طارق جمیل سمیت مدراس کے سینکڑوں طلبہ بنی گالہ میں روزہ افطار کرتے ہیں،

اس عرصے میں کپتان نے پختونوں کو اتنا سیاسی شعور دیا ہے کہ وہ قرآن مجید اور مجلس والوں کی کتاب کا فرق جان چکے ہیں،لہذا ‘غیر متحدہ مجلس بے عمل’ کی ممکنہ بحالی کو اسلام اور امت کے لیے نیک شگون قرار دینے والے مومنین اس وسوسے پہ توبہ کریں،اور خدارا اپنی وزارتوں اور حصول اقتدار کے لیے سرگرم عناصر کی اس نئی سیاسی دکان پہ مذہب کا سائن بورڈ لگا کر اس دیس میں مذہب کو مزید گالیاں مت دلوائیں،للہ مذہب پہ رحم کریں.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں