” مجھے سمجھ نہیں آتا “

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ چیف آف آرمی سٹاف قمر باجوہ کے اکانومی پر لیکچر کی طرح دوسرے ممالک کے آرمی سربراہان اپنے عوام کی علم اور گورننس کی پیاس کیوں نہیں بجھاتے؟ کیا انکے آرمی چیف صرف فوجی ہوتے ہیں؟ اور ہمارے ہر فن مولا؟ یا ہمارے کے پاس مولا ہوتا ہے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ دنیا کے عدالتیں ہمارے ججز جتنے کمنٹ او ریمارکس کیوں نہیں کرتیں؟ کیا انکا قانون گونگا ہے اور ہمارا اندھا؟ کیا دنیا میں ہماری عدالتوں جتنے فیصلے محفوظ ہوتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ بینکوں، دکانوں، ہوٹلوں اور معلومات سنٹرز میں بیٹھے ہمارے لوگ اتنے فرسٹیٹڈ، طیش میں اور دنیا بیزار کیوں ہوتے ہیں؟ انھیں ہر سوال اپنی توہین کیوں لگتا ہے؟ وہ اپنی جاب ڈسکرپشن سے یکسر متضاد رویہ کیوں روا رکھتے ہیں؟ کیا اچھا رویہ انکا دینی، اخلاقی، معاشرتی اور کاروباری فرض نہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ سینکڑوں صفحات لکھنے والے ناول نگار، ادیب، لکھاری کو وطن عزیز میں عزت، شہرت دولت کیوں نہیں ملتی؟ جبکہ حالات حاضرہ پر چند سطریں گھسیٹنے والے لاکھوں کماتے ہیں؟. آج کوئی کالم نگار وفات پا جائے تو ایک آدھ برس بعد اسکا نام لیوا ہی کوئی نہیں ہوگا . مثلاً آپ چالیس برس پرانے سپر اسٹار کالم نگاروں کے نام بتائیں. لیکن ناول، افسانہ نگار، کہانی کار اور شاعر جو لوگوں کے دلوں میں جا ٹھہرتا ہے وہ مر کر بھی شیکسپیئر، ٹالسٹائی، اقبال، کی طرح بستا رہتا ہے.

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم حقوق اللہ کیسے نبھا سکتے ہیں؟ کیا اللہ کا حق کوئی ادا کر سکتا ہے؟ ہمیں تو اسکی رحمت کا امیدوار بننا چاہیئے نہ کہ اللہ سے برابری کے تعلق کا متمنی؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اللہ براہ راست تعلق کا حکم دیتا ہے تو ہم غیر یقینی دور والے وسیلوں پر کیوں تکیہ رکھتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ڈکٹیٹر کو غیر قانونی، غیر آئینی بھی کہتے ہیں اور اسی کے قوانین اور اداروں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں؟ کیا ہمارے سویلین ادارے ویسا قانون خود نہیں بنا سکتے؟ ہمارے سیاست دان ویسا ادارہ خود نہیں بنا سکتے؟ اگر نہیں تو وہ قانونی اور آئینی کیسے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اظہر علی جیسا خوش شکل، خوش اخلاق، خوش گلو اور اچھا بلے باز، ندیم ملک جیسا شائستہ اینکر، احمد جہانزیب، شفقت امانت جیسے سنگرز، اظہار الحق صاحب،، ڈاکٹر مبارک جیسے کالم نگار دانشور، باوجود کارکردگی کے سپر اسٹار، گھر گھر نہیں جانے جاتے مگر اوسط درجے کے کھلاڑی شاہد آفریدی، ڈاکٹر شاہد مسعود، زید حامد، عامر لیاقت جیسے سائیکو، ابرار الحق، عاطف اسلم جیسے تک بند چوری شدہ بے سرے گلوکار، جاوید چوہدری، اوریا مقبول جیسے مبالغہ آرا اور دروغ گو مشہور و معروف کیوں ہوتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہزاروں برس سے پاکستان میں رہنے والا مسیحی اور ہندو اس ملک کا پہلے درجے کا شہری کیوں نہیں بنتا؟ وہ خاکروب ہی کیوں بنتا ہے؟ وہ بھنگی ہی کیوں رہتا ہے؟. مستثنیات چھوڑ دیں.

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کس کس بات کا ذکر کروں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتا ؟

شیئرکریں
mm
ثاقب ملک ٹی ٹی آئی کے اعزازی لکھاری ہیں۔ ان سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں