گلگت بلتستان کےجنگلات تباہی کےدہانے پر

جنگل زمین کے ایسے قطعہ کو کہتےہیں۔جس پر بڑی تعداد میں درخت ہو۔جانواروں کے کئ اقسام کو جنگل کی اپنی بقاء اور زندگی کےلیے اشد ضرورت ہوتی ہے۔جنگل جس کا صیغہ جمع جنگلات ہیں،دنیا میں تقریباً ہر جگہ پائے جاتےہیں۔اور ان کی ماحولیاتی اہمیت کے سبب نہایت قدر سے دیکھے جاتے ہیں۔گو ان کی ماحولیاتی اہمیت اور حیواناتی زندگی کے ساتھ ساتھ اہم رابطہ ہے۔مگر پھر بھی دنیا بھر میں جنگلات کے کٹاو کا عمل جاری ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی ہے۔جس کی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے جنگلات کا بے دریغ کٹائی کیا جارہاہے۔جنگلات کے کٹائی کی وجہ سے نہ صرف ماحول بلکہ انسان اور دوسرے جانواروں کی حیاتیاتی تنوع پر برے اثرات مرتب ہورہےہیں۔

جنگلات و خوب صورت و دلکش سبزغلاف ہیں جو کہ ماحول کی حفاظت کرتے ہیں۔جانداوں کو سانس لینے کےلیے آکسیجن کی فراہمی کے علاوہ جنگلات بہترین تفریع گاہ بھی ہوتے ہیں۔کسی بھی ملک میں جنگلات معاشرے کی فلاح وبہبود اور معاشی ترقی کےلیے بہت سود مند ہوتےہیں۔اور زندگی کےلیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں
۔world Bankاور wwf کے مطابق دنیا کے 300ملین افراد جنگلات میں رہائش پذیر ہیں۔اور 1.6بلین سے زائد لوگ اپنے زریعہ معاش دیگر معاشی سرگرمیوں کےلیےجنگلات پر انحصار کرتےہیں۔

ایک سروے کےمطابق روس میں 48%،برازیل میں%، انڈونیشا میں 47%، سوئیڈن میں 74%، اسپین میں 54%، جاپان میں 67%، کینیڈا میں 31%، امریکہ میں 30%، بھارت میں 23% ،بھوٹان میں 72%،اور نیپال میں 39%،جنگلات پائی جاتے ہیں۔جبکہ ہمارے ہاں 2.9%پائی جاتےہیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ ہم کتنے ماحول دوست ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ جنگلات آزاد کشمیر میں 4لاکھ 35 ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہیں،جو آزاد کشمیر کے کل رقبے کا 36.9فیصد بنتاہے، کے پی کے میں 20.3 فصید،اسلام آباد میں 22.6فصید،فاٹامیں 19.5فصید، گلگت بلتستان میں 4.8فصید ، سندہ میں 4.6فصید، پنجاب میں 2.7فصیدرقبے پر جنگلات ہیں۔

گلگت بلتستان کو اللہ تعالی نے قدرتی وسائل مالامال کر رکھاہے۔خاص کر ضلع دیامر کو اللہ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔گلگت بلتستان کے تقریباًنصف فصید جنگلات دیامر میں پائی جاتاہیں۔اس خطے کے سرسبز وشاداب رکھنے میں جنگلات کا مرکزی کردار ہے۔فلک بوس پہاڑ،ٹھنڈے میٹھے چشمے،گھنے سدا بہار جنگلات ضلع دیامر کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتےہیں۔مگر یہاں کے مضافاتی پہاڑوں پر خوب صورتی میں اضافے اور ماحولیاتی توازن میں اہم کردار ادا کرنے والےسرسبز درخت بڑی تیزی کے ساتھ کاٹے جارہےہیں۔

ماہرین ماحولیات، آلودگی سے بچاو کےلیے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگانے پر زور دے رہےہیں۔جبکہ ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس سسٹم چل رہاہے۔حالیہ ٹمبر پالیسی کے منظوری کے بعد وزیر جنگلات گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ ٹمبرپالیسی گلگت بلتستان اور خاص کر دیامر کےلیے کسی تحفے سے کم نہیں۔
اور ساتھ ہی دیامر کے عوام ،مالکان جنگلات اور عمائدین خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر آعظم، وزیر آعلی گلگت بلتستان، کونسل کے ممبران ،اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتےہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ بحثیت مسلمان اور ایک ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے ہماری یہ زمہ داری تھی ہم ان قدرتی جنگلات کے تحفظ کو یقینی بناکر اپنا کردار ادا کریں اور درختوں کے بے دریغ کٹائی کرنے والوں کے نشاہندہی کرکے حکومت کے حوالے کریں۔۔
اور حکومت کو چاہیے تھی کہ لوگوں کے آگاہی کےلیے ایک موثر مہم چلاتے،لوگوں کو جنگلات کے، فوائد، سے باخبر کرنا اور ان میں شعور پیدا کرنا تھاکہ جنگلات کی کٹائی سے بےشمار قسم کے نقصانات جنم لیتےہیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہےکہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کےلیے جنگلات کے کٹائی کو روکناہوگا۔حکومت پاکستان کو بھی اس حوالے سے عملی اقدامات نہ کیےگے اور نہ دیکھا گیا کہ جنگلات کا کٹاو کہاں اور کون کررہاہے۔تو یقیناً ہم آنے والے دنوں میں ماحولیاتی آلودگی کا شکار تو ہوں گےہی لکین ساتھ ساتھ اپنے ملک کی خوب صورتی بھی کھوبیٹھیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

..

تبصرہ کریں

کُل شیئرز