ہم ایک غیر سنجیدہ قوم!

آج سے  چھے سال پہلے، چھبیس ستمبر دو ہزار گیارہ کو، سکول کے بچوں سے بھری ایک بس موٹروے پر کلرکہار کے قریب پہاڑی سے گر گئی تھی، پینتیس بچے جاں بحق ہوگئے تھے. زندہ بچ جانے والے بچوں کی اکثریت عمر بھر کے لیے معذور ہو گئی، کسی کے ہاتھ ٹوٹے تو کسی کے پاؤں..

ہماری امدادی ٹیمیں بھی لیٹ ہوئیں، الٹی بس کو سیدھا کرنے میں بھی وقت لگا.. جائے حادثہ سے دو سو کلومیٹر تک کوئی اچھا ہسپتال نہیں تھا.. یوں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا.. واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی، تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنا دیا گیا، خادم اعلٰی نے اپنا مشہور زمانہ “واقعے کا نوٹس” لے لیا. مرنے والوں کو تین تین لاکھ اور زخمیوں کو دو دو لاکھ امداد کا اعلان کر دیا گیا، دو چار مہینے گزرے حکومت، میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی واقعے پر مٹی ڈال دی، سب بھول بھال گئے..

بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ ایک پرانا ٹرک تھا جسے باڈی تبدیل کر کے بس بنایا گیا تھا، موٹر وہیکل ایگزامنر نے پیسے لے کر گاڑی پاس کر دی، گاڑی سڑک پر چلتی رہی، پھر گاڑی کی فٹنس کسی نے نہیں دیکھی.. سکول انتظامیہ نے اس گاڑی کو سستے داموں بُک کیا اور بچوں کو بس میں یوں بھر دیا جیسے بھیڑ بکریاں لوڈ کی جاتی ہیں. پولیس نے اپنی رپورٹ میں سکول مالکہ فریدہ شفیق، دو موٹر وہیکل ایگزامنرز سعید اور غیاث الدین، سیالکوٹ کے سیکریٹری آر ٹی اے، موٹر وے انتظامیہ، ایف ڈی اے انتظامیہ اور ٹرک کو بس بنا کر فروخت کرنے والے شبیر آصف باجوہ کو سانحہ کلر کہار کا ذمہ دار قرار دیا۔

ان میں سے کتنے گرفتار ہوئے، کتنوں کو سزا دی گئی، میں نہیں جانتا.. نہ ہی جاننا چاہتا ہوں..
آپ یہ دیکھیں کہ اس سانحے سے ہم نے کیا سیکھا؟

کچھ بھی نہیں، ہمارے ہاں آج بھی پرانی گاڑیوں کو نئی باڈی لگا کر استعمال کیا جا رہا ہے، آج بھی رشوت دے کر گاڑی کی فٹنس پاس کروا لی جاتی ہے، آج بھی اندھوں کو ڈرائیونگ لائسنس مل سکتے ہیں، آج بھی سکول ٹرپ میں بچوں کو جانوروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے، ہماری سڑکیں آج بھی موت بانٹ رہی ہیں، موٹر وے پولیس کا ریسکیو آج بھی سٹینڈرڈ سے بہت پیچھے ہے، موٹر وے کے دور دور تک کوئی اچھا ہسپتال نہیں ہے، خادم اعلٰی آج بھی نوٹس پہ نوٹس لے رہے ہیں ، عدالتی کمیشن بنتے جا رہے ہیں… اور نتیجہ صفر

پوری قوم پیچھے چھوڑ، آگے دوڑ کی پالیسی پر گامزن ہے..

ریلوے پھاٹک نہیں ہوتے بچے مرتے رہتے ہیں، سی این جی سلنڈر پھٹتے ہیں بچے مرتے رہتے ہیں، سکول بسوں اور ویگنوں کی فٹنس ٹیسٹ کا کانسپٹ ہی نہیں ہے، بغیر لائسنس کے ڈرائیور پک اینڈ ڈراپ چلا رہے ہیں.. جاہل عوام کو نہ حقوق کا پتا ہے نہ ہی فرائض کا.. بدقسمتی سے ہمارے پڑھے لکھے دانشور بھی لکیر کے فقیر واقع ہوئے ہیں.

آج ان پینتیس بچوں کی چھٹی برسی کے موقع پر ہم ٹماٹروں کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں، ہم رمضان میں فروٹ بائیکاٹ کی مہم چلا چکے ہیں، میں نے پہلے بھی کہا تھا، آج پھر کہتا ہوں، خدا کا واسطہ ہے عقل سے کام لو، ملکی مسائل پر سوچو، حقیقی مسائل کا سامنا کرو، کیلوں کے لیے تو بندر بھی تحریک چلا سکتے ہیں…

 

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں