یقیں ہے مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
وطن عزیز پاکستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب کسی بے گناہ کا خون نہ بہایا گیا ھو. ھم اس معاشرے میں زندہ ہیں کہ جہاں ظلم کو ظلم کہنا بھی چھوڑ دیا گیا ھے. گسٹاپو دور حکومت کہ جہاں دن دھاڑے لوگوں کو گھروں سے اغواء کیا جاتا ھے کبھی باوردی اہلکار یہ خدمت انجام دیتے ھیں اور کبھی سادہ لباس میں ملبوس لوگ. گھر والوں کو خاموش رھنے کا پیغام دیا جاتا ھے. کوئی تھانہ، کوئی پولیس کوئی عدالت ان کی بازیابی کی درخواست وصول نہیں کرتی اور اگر کر بھی لے تو اس پر کوئی کاروائی نہیں کرتی.

یہ المیے کسی دور دراز گاؤں اور دیہات میں جنم نہیں لے رھے بلکہ شہر کراچی اور بھی بڑے شہروں سے سینکڑوں نوجوان ناکردہ گناہوں کی پاداش میں غائب کردیئے گئے ھیں اور آہستہ آہستہ ان کو جعلی پولیس مقابلوں میں ھلاک کیا جارھا ھے. اعلی تعلیم یافتہ، پڑھے لکھے، متوسط طبقے کے نوجوانوں کو جس طرح جعلی پولیس مقابلوں میں ھلاک کیا جارھا ھے. اس سے حکومت، ریاست، عدالت اور سیکورٹی فورسز پر سے عوام کا رھا سہا اعتماد بھی ختم ھورھا ھے. دشمن کے بچوں کو پڑھانے والے اپنے بچوں کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ٹھکانے لگارھے ھیں. یاد رکھیں تشدد کو تشدد سے ختم کرنے کی سوچ معاشروں کو تباہ کردیتی ھے.

اگر ھمارے نوجوان کسی اور سوچ کے زیر اثر آگئے ھیں تو ان کو اس سوچ سے نکالنے اور معاشرے کا صحت مند شہری بنانے کے لیے حکومتی سطح پر منظم مہم کی ضرورت ھے. حکومت، سیکیورٹی فورسز کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے ماورائے عدالت قتل، تشدد، حبس بے جا، اور گرفتاریاں کبھی کسی سوچ کو مات نہیں دی سکتیں. سوچ کو کسی اور سوچ، نظریے کو کسی اور نظریے، سے ھی تبدیل کیا جاسکتا ہے. المیہ یہ ھے ریاست، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے سر پر طاقت کا بھوت سوار ھے. عدلیہ اس ھی طاقت کے زیر اثر عمل کرتی ھے. سیاسی جماعتیں ماورائے عدالت قتل اور اس ظلم پر کوئی آواز نہیں اٹھاتیں شاید ان کو اس بات کا خدشہ ھے کہ ان پر دھشت گردی کا لیبل نہ لگا دیا جائے. المیے یہ ھے صاحبان قلم کے قلم بھی خاموش ھیں کوئی بھی اس ظلم پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں. اس سکوت میں بے ساختہ جالب یاد آتے ہیں
کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب
چاروں طرف سناٹے ھیں، دیوانے یاد آتے ہیں
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو طاقت کے بیجا استعمال سے باز رکھنے، زیر حراست افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کے خلاف اور متبادل بیانیہ پر سوچ بچار کے لیے، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور اھل قلم کو اپنا کردار ادا کرنا ھوگا. وگرنہ اس خون ناحق کی ذمہ داری صرف حکومت اور سیکیورٹی ادارے ھے نہیں بلکہ عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور اھل قلم ویانا سب پر عائد ھوگی.

شیئرکریں
mm
ڈاکٹر اسامہ شفیق جامعہ کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ معاشرے کی نبض پر ہاتھ ہے اور حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور متوازی تجزیہ کرتے ہیں

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں