یہی ارض کربلا ھے

امام عالی مقام بھی عاشورہ کے روزے کی فضیلت سے آگاہ ھونگے پھر روزہ چھوڑ کر گردن کٹانے کو کیوں ترجیح دی. جواب سادہ سا ھے کہ معرکوں کا بلاوا ھو تو مسجدوں میں پناہ لینے والوں پر فرد جرم عائد ھوگی..عبادات کی بگھی کسی ٹھنڈی سڑک سے جنت تک نھیں لے جاسکتی.انفرادی تقوی جب تک اجتماعی تقوی میں نہ بدلے معتبرنھی ھے.گھوڑوں کی مالش اسی لۓ کی جاتی ھے کہ انھیں میدان کارزار میں اتارناھے..
مگر ھم گھوژوں کی مالش میں ایسے مگن ھیں کہ کہا جاتا ھے کہ حضور اب میدان جنگ کا رخ کیجۓ محاذ گرم ھے توھم پوری للہیت سے جواب دیتےھیں کہ تھک چکے مالش میں آگے کسی اور کو روانہ کیجۓ جناب..ستاون اسلامی ملکوں میں لاکھوں مالشئے ھیں جو گھوڑوں کو چمکارھے ھیں پھر بھی میانمار کے مسلمان بےآبرو موت کے گھاٹ اتارے جاتے رھے..سینتیس اسلامی ملکوں کی افواج کا اتحاد انکو کوئ دلاسہ تک نہ دےسکا..
ھاں کٹے پھٹے ننھے اور نسوانی جسموں کودیکھ کر ھم بےاختیار آسمان کو دیکھتے تھے کہ ..مولا ابابیلوں کےلشکر بھیج دے .ھم ڈیڑھ ارب مسلمان بےبس وبےکس ھیں.ننھی ابابیلیں نمودارھوں غزہ میں اسرائیلیوں کو .مقبوضہ وادی کشمیر میں ھندؤں کو اور میانمار میں بدھسٹوں کو کعصف ماکول کردیں..
یوم عاشور کا اک ھی تو پیغام ھےکہ امام حسین رضہ نے جس طرح پیغام دیا اس سے واشگاف پیغام شائد ممکن بھی نہ تھاکہ ریاست کے امور پر نظر رکھنا تم میں سے ھراک کی ذمہ داری ھےاللہ کی زمین کو فسادیوں سے بچانا.. ریاست ماں کے جیسی ھے اسکو اسلامی اصولوں سے ھٹتے ھوۓ دیکھو تو مقدور بھر کوشش ٹرین کی پٹری تبدیل کرانے کی ھواورڈرائیور کی رگوں میں یزیدی لہوہوتو ٹرین کے سامنے کھڑے ھوجاناکہ ایمان کی یہی گواھی ھمیں سکھا کر گۓ ھیں نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم…یہی ارض کربلا ھے

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں