یہ عینک اتار دو

پاکستان کا معاشی دارالخلافہ روشنیوں کا شہر،  شہر کراچی ملکی آمدنی میں بڑے حصے کا شراکت دار ہے۔ معاشی اعتبار سے بنیادی اہمیت کا حامل یہ شہر بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، اس سلسلے میں خیبر پختونخوا جیسے بالائی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد کراچی کا رخ کرتی ہے۔

چونکہ شمالی علاقوں میں معاشی حرکات کی شرح بہت کم ہے، کراچی کا پیسہ انسانی وسائل کے اس سمندر کو اپنی جانب مائل کرتا ہے۔ ان علاقوں سے آنے والے اکثر افراد کا تعلق مزدور طبقے سے ہوتا ہے جس کی اہم وجہ ان کا زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہونا ہے۔ اپنی محنت و ایمانداری کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی میں سے یہ لوگ زیادہ رقم گاؤں میں اہلخانہ کو ترسیل کرتے ہیں جبکہ اس کا ایک قلیل حصہ اپنی ضروریات کی تکمیل کی خاطر مختص کرتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان کی انتھک محنت کا ثبوت جگمگاتے موتی کی مانند ان کی پیشانی سے ٹپکتا پسینے کا اک اک قطرہ ان کے اہلخانہ کے پیٹ میں لگی  آگ کو بجھانے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ ان کی زندگی”محنت میں عظمت ہے” کا عملی نمونہ ہے،

لیکن کئ جگہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان عظیم محنت کشوں کو خود اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ وہ اپنے خلوصِ نیت اور ان تھک محنت کے باعث عوام کی نظر میں کس قدر بلند درجے سے مشرف ہیں۔ دور دراز کے بالائی علاقوں سے اس شہر میں آ کر ایک مختلف نظام زندگی سے واقفیت ہوتی ہے اور نئے تجربات سے مستفید ہوتے ہیں، یہ اور ان جیسے تمام عناصر عقل کی وسعت کا باعث بنتے ہیں۔ ان پسماندہ علاقوں میں بسنے والے افراد دلوں کے بادشاہ ہوتے ہیں لیکن زندگی کے اہم پہلوؤں میں انتہائی محدود نظریہ رکھتے ہیں۔

ہمارے اپارٹمنٹس کا چوکیدار ایک انتہائی مخلص و ایماندار شخص ہے اور اپنے فرائض بنا کسی کوتاہی کے بخوبی انجام دیتا ہے۔ لیکن ایک بات جو ہمارے تعلقات کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑی ہے اس کے خیال میں میری وہ دولت ہے جس کا درحقیقت مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا عام فرد ہوں لیکن میری ظاہری زندگی کا مشاہدہ کر کے وہ مجھے امیر زادہ خیال کرتا ہے۔ اکثر اوقات مکالموں کے دوران مجھے یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ میری زندگی سہولیات سے بھرپور اور مشقتوں سے خالی ہے، البتہ میری زندگی اس قدر شاہانہ نہیں جیسی وہ خیال کرتا ہے۔

مشقتوں اور افکار سے خالی زندگی بھلا کسی کی ہوتی ہے؟. جگہ جگہ وہ مجھے ایک منفی تاثر دیتا ہے جس کے باعث میں پانی پانی ہو جاتا ہوں۔ کبھی کبھار میں اندر ہی اندر غصے سے تلملا اٹھتا ہوں کہ بھلا یہ کیوں میرے ساتھ ایسا عجیب سا رویہ اختیار کرتا ہے۔ میں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے مجھے کسی ناکردہ گناہ کے بدلے طعنہ مل رہا ہو۔ دراصل وہ امیر و غریب کی تفریق کا عینک لگا کر مجھے دیکھتا ہے جس کے باعث میرا کردار اسے دھندلا نظر آتا ہے۔ چند روز قبل اپنا کالم مکمل کر کے نماز عصر کی ادائیگی کی خاطر میں گھر سے اترا، مسجد کی جانب روانگی ڈالنے سے قبل ہمارے درمیان سلام دعا ہوئی اور احسن کلمات کا تبادلہ ہوا۔ اسی دوران اس نے مجھ سے حال احوال پوچھتے ہوئے کہا کہ “روزہ کیسا جا رہا ہے؟” میں نے کہا الحمدللہ اچھا جا رہا ہے، یہ سن کر  اس نے بے حد معصومانہ انداز سے کہا کہ سارا دن اے سی میں سوئے رہو گے تو اچھا ہی جائے گا نہ۔ میں ہکا بکا رہ گیا اور کہا بھائی میرے گھر میں اے سی نہیں ہے یہ سن کر اس کا ردعمل حیران کن تھا کہ جیسے کوئی بات جسے وہ برسوں سے سنتا آ رہا ہو آج غلط ثابت ہوگئی ہو۔

یہاں اس نے اپنے مشاہدے پر مبنی رائے پر نظر ثانی کی۔ عصر کی اذان شروع ہو چکی تھی اور میں اجازت لے کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ اس کی سوچ نے حقائق کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس قلیل مگر مؤثر گفتگو کا نچوڑ کچھ یوں ہے کہ میں نے اس سے کہا یہ امیر وغریب کی تفریق کی عینک اتار دو

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں