یہ ہیں وقت کے امام ، یہ ہیں وقت کے حسین !!

سب نے کہا کہ سر جھکا دو ، سب مان چکے تم بھی مان جاو، فتنہ پھیلے گا ، قتل و غارت ہوگی ، ابھی ان کا تختہ مظبوط ہے فائدہ نہیں ہونے کا ، بات تمہاری درست سہی لیکن طریق کار درست نہیں، جان گنواو گئے اپنی بھی دوسروں کی بھی ۔ جس بات کی مخالفت کررہے ہو وہ بات بھی کچھ اتنی بڑی نہیں !
لیکن امام عالی مقام نہیں مانے ، مکمل احساس تھا کہ سمجھانے والے بہی خواہ ہیں درست مشورہ دے رہے ہیں وقت بھی مناسب نہیں ہے ، جو کچھ مرضی کہہ لیجیے ،جو مرضی تاویل کیجیے ،کوفہ والوں کا دوش گنوایئے ، دشمنوں کی سازش سمجھیے لیکن واقعہ یہی ہے کہ امام عالی مقام نہیں مانے ۔ اور کربلا کی خاک کو اپنے خون سے رنگین کرگئے ۔ سر نیزے پر بلند ہوا تو قرآن پڑھ رہا تھا ۔یہ خون “تو نہ ماننے والوں کے لیے مقدس تھا” ! لیکن افسوس کہ کوفیوں نے ہی ہائی جیک کرلیا !!
لوگ پھر جمع ہوئے ، امام عالی مقام تھے ، امام احمد بن نصر ، لوگوں نے پھر کہا حضور مان جایئے ، کیوں جان کے دشمن ہوتے ہیں ، چھوڑیئے جانے دیجیے ، مخالف صاحب اقتدار ہے ، امام بولے میں نہیں مانتا ، لوگ کہنے لگے خروج کریں گئیں ؟ فرمایا ہاں خروج کروں گا ، بادشاہ نے اپنے محل میں بلوا کر اپنے ہاتھوں سے گردن اتاری ، اور امام کا مردہ جسم قرآن پڑھتا ہوا عازم سفر ہوا !
بیل گاری ہچکولے کھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ، کوچوان کو خاص تاکید تھی کہ اونچے نیچے راستوں سے گزاری جائے ، پچھلی جانب چار قیدی تھے جو کبھی ادھر لڑھکتے کبھی ادھر ، یہ سزا کا ایک طریقہ تھا ، ان چار میں سے ایک وقت کا امام ” امام احمد بن حنبل” تھا ۔ لوگ کہنے لگے “امام اب تو مان جاو سارے مان گئے ہیں چھوڑو کیوں جان عذاب میں ڈالتے ہو، اکراہ کا فائدہ لے لو” مگر امام عالی مقام کی پشت پر کوڑے پڑتے رہے اور امام فرماتے رہے کہ “اگر آج احمد مان گیا تو پھر انکار کون کرے گا”
بادشاہ نے کہا ، مان جاو وگرنہ آگ میں زندہ جلوا دوں گا ، قوم نے پکار کر کہا کرلے جو کرنا ہے ، آگ کے گڑھے جلے ،سب کو زندہ ہی ڈال دیا گیا ، لوگ کنارے پر بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے ۔ ایک ماں گھبرائی ، گود میں چھ ماہ کا بچہ تھا پکار اٹھا ، ماں مت ڈر چھلانگ لگادے تو حق پر ہے ۔ نہ ماننے والے بھی حق پر ہوتے ہیں چاہے اقلیت ہی کیوں نہ ہو یا کمزور ہی کیوں نہ ہوں !
بادشاہت افریقہ کے دوردراز علاقوں سے نکلی ، مصر تک پہنچ گئی ، شام بھی قبضے میں آگیا ، مکہ و مدینہ پر بھی عروج ہوا ، سارے ہی مان گئے کچھ تلوار کے ڈر سے ، کچھ شیطان کے دھوکے سے ۔ نہیں مانتا تھا تو ایک نہیں مانتا تھا ، حکم ہوا شہر میں پھروایا جائے ، سولی دے کر کوڑے لگوائیں جائیں ، اور پھر زندہ کھال اتار لی جائے ، ابو بکر النابلسی سب کچھ برداشت کرتے رہے لیکن طاغوت کی سیادت نہ مانے ! کھال گرتی رہی یہ پڑھتے رہے “یہ تو کتاب روشن میں لکھا ہوا ہے” دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مردہ جسم سے بھی آواز آتی ہے “کان ذلک فی کتاب مسطورا”
مبارک ہو “آج کے منکروں کو ، آج کے خارجیوں کو ، آج کے تکفیریوں کو” بھلا یہ بھی مان گئے تو انکار کون کرے گا ؟؟ زرا سوچو تو، جو مانتے نہیں تھے اگر ان کی مان لی جاتی تو کیا واقعہ حرہ کبھی ہوتا ، مخلوق قرآن کا مسئلہ کبھی اٹھتا ؟، رافضی کو مسلمان کبھی کوئی سمجھتا ؟ عقائد کا جنازہ کبھی یوں نکلتا ۔
مبارک ہو انکار کرنے والے کو ، مبارک ہو وقت کے اماموں کو ، مبارک ہو گولیوں کے دہانوں پر قرآن پڑھنے والوں کو ۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں