الطاف حسین کی گیارہ جون

جس روز امریکا کی نینسی لوپیز لیڈیز پروفیشنل گالف ایسوسی ایشن چیمپئن شپ اپنے نام کر رہی تھیں ، اسی روز سویڈن کے بجورن بورگ ٹینس کا ستترواں (مین) فرنچ اوپن ٹائٹل جیت چکے تھے– اسی روز رومانیہ کی ورجینیا روزکی بھی ستترواں (وومین) فرنچ اوپن ٹائٹل جیت کر تاریخ میں امر ہو گئیں تھیں — اس روز جہاں تاریخ کھلاڑیوں کو نام دے رہی تھی، اسی روز، اسی تاریخ کو کچھ نوجوان ایک قوم کو نام دے رہے تھے…. وہ نام جو دوسرے تضحیک سمجھتے تھے ، وہ نام جو ان کی شناخت تھا ، وہ نام جس نے آگے جا کر انھیں ان کا حق دلانا تھا —

یہ تاریخ تھی گیارہ جون انیس سو اٹھتر (11 -06 -1978)، اور یہ گیارہ جون کا کراچی تھا ، وہ کراچی جسے ہندوستان سے آئے مہاجرین نے بسایا تھا ، نکھارا تھا ، اپنے خون سے سینچا تھا — وہ کراچی جہاں ان مہاجرین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جانے لگا تھا ، وہ کراچی جہاں کوٹہ سسٹم نے اپنے رنگ ، اپنے جلوے دکھانے شروع کر دیے تھے ، وہ کراچی جہاں اس کے رہنے والے کو ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ ملنا دشوار ہو گیا تھا— نوکریوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے ، تعصب اپنی بلندی پر تھا ، سرکاری جامعہ میں لسانی بنیادوں پر درجنوں طلبہ تنظیمیں کام کرنے لگیں تھیں ، جہاں جمیعت کی غنڈہ گردی عروج پر تھی—

یہ جامعہ کراچی کا زکر ہے… حالات ایسے تھے کہ مہاجر ہونا جرم سمجھا جاتا تھا ، طرح طرح کے طعنے مہاجروں کے منتظر رہتے تھے ، لوگ مہاجروں پر ہنستے تھے اور اگر وہ جمیعت ، این ایس ایف یا پی اس ایف جیسی طلبہ تنظیموں میں پناہ لیتے تو وہاں بھی ان پر ہنسا جاتا— جب یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی پر آنکھیں بند کر لی گئیں ، قابل اور لائق طلبہ کا استحصال ہوا تو الطاف حسین اٹھ کھڑا ہوا ، یہ وہ شخص تھا جو ١٩٦٤ کے فسادات دیکھ چکا تھا ، جس نے ١٩٧٢ کے لسانی دنگے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے ، وہ جانتا تھا کہ اپنی قوم کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لئے اسے انھیں متحد کرنا ہوگا ، اور متحد کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم درکار ہوگا ، ایک پرچم چاہیے ہوگا ، اور یوں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگناآئزیشن وجود میں آئی–

اس کے بعد کیا ہوا یہ دنیا جانتی ہے، اس کے بعد کے حالات کی تفصیل سے آپ سب ہی واقف ہیں— ہاں مگر اتنا ضرور ہے کہ تاریخ میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی کے جہاں ایک طلبہ تنظیم کے بطن سے ایک سیاسی جماعت نے جنم لیا ہو — یہ ایک بینظیر کارنامہ ہے ، یہ خود اعتمادی ، نظریے پر یقین اور قوم کے اتحاد کا بہترین نمونہ ہے — کیا آپ جانتے ہیں کہ پچیس سال کے ایک لڑکے اور اس کے رفقا نے یہ کام کیسے کر دکھایا ؟ اس کم عمری میں وہ کیسے اتنا پختہ قدم اٹھا سکے ؟؟ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ انہوں نے یہ کام ذاتی فائدے کی خاطر نہیں کیا ، یہ کام قوم کی بقا اور سلامتی کی وجہ سے کیا گیا ، انفرادی نہیں اجتماعی فائدے کی خاطر کیا گیا — اور ایسا کوئی بھی عمل ناکام نہیں ہوا کرتا —-

آپ نئے جذبے ، پرانے جذبے ، نئے خون ، پرانے خون میں لگے رہیں، لیکن اتنا یاد رکھیں کہ جس طرح انیس جون انیس سو اٹھتر کو بجورن بورگ ، نینسی لوپیز اور ورجینیا روزکی اپنے اپنے ٹائٹل کے فاتح قرار پائے تھے، جس طرح یہ اعزازات ان تینوں کے پاس تھے ، ہیں اور رہیں گے، جیسے وہ ٹائٹلز کوئی ان سے چھین نہیں سکتا یہ ان کے تھے ہیں اور رہیں گے— ٹھیک اسی طرح اے پی ایم ایس او کا بانی الطاف حسین تھا ، ہے اور رہے گا —

یہ طلبہ تنظیم اور اس کی کوکھ سے جنمی سیاسی جماعت اسی کی تھی ، اسی کی ہے اور ہمیشہ اسی کی رہے گی — اس قوم کو نام دینے کا اعزاز و سہرا الطاف حسین کے سر ہے اور رہے گا ، یہ اعزاز آپ چھین نہیں سکتے —– کوئی کتنی بار گیارہ جون منا لے، گیارہ جون بھی الطاف حسین کی ہے…اور الطاف حسین کے بغیر ادھوری ہے–

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں