دو نومبر۔۔۔ ایک اور چیخ

کہتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی بھی عمل مسلسل نہیں۔ ہر چیز نے بالآخر تھم جانا ہوتا ہے گویا اس کا آغاز ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اب یہ اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔ اگر کچھ ہے تو وہ جسے ہر ذی روح دیکھ سکتا ہے اور ہر ذی شعور محسوس کر سکتا ہے۔ دیکھنے کا تعلق روح سے اس لئے کہ روح انسانی جسم کو سوئچ آن کرتی ہے اور آنکھ انسانی جسم کا ہی ایک حصہ ہے۔ مگر صرف دیکھنا کافی نہیں کہ دیکھتے تو ہم بھی بہت کچھ ہیں مگر بے شعور اتنے  کہ بے حسی کی معراج پرہیں اور کچھ محسوس نہیں ہوتا جیسے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر روز کا سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کچھ امیدیں جنم لیتی ہیں۔ رات تک یہ سورج بھی ڈوب جاتا ہے اور اس کے ڈوبتے ڈوبتے کئی خواہشات، ادھورے خواب اور آس بھی دم توڑ جاتی ہیں۔ گو کہ یہ ایک عملِ مسلسل ہے مگر جس میں تسلسل نہیں  اور جس کی شاید ہر آنکھ شاہد ہے وہ تبدیلی کا ایساعمل ہے جس کے تحت آج آپ جس جگہ بیٹھے ہیں کل یہاں کوئی اور ہو گا اور کل جن سڑکوں کو آپ شہر سے باہر کوئی اور علاقہ تصور کیا کرتے تھے آج اس سے کئی میل آگے تک رہائشی علاقہ نظر آتا ہے۔

تبدیلی کا یہ عمل اتنا مسلسل اور مربوط ہے کہ بنی نوع انسان کی قد و قامت، جسمانی ہئیت، ذہنی صلاحیت اور انفرادی و اجتماعی عادات تک میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے، آپ کا جو بچہ پیدا ہوتے ہی آئی فون دیکھے گا جسے آپ نے اپنی نصف عمر گزر جانے کے بعد بھی پوری طرح نہیں سمجھا تو کچھ تو تبدیل ہوا ہے۔ مسلسل تبدیلی کا یہ عمل دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ اس دنیا میں کچھ بھی مسلسل نہیں سوائے تبدیلی کے تو شاید یہ کسی پیرائے میں درست ہو اور آپ اسے تسلیم بھی کر لیں۔ تبدیلی دراصل انسان کی وہ فطری خواہش ہے کہ جس کی تکمیل کیلئے وہ ہر اس شخص کے پیچھے چل پڑتا ہے جو اسے تبدیلی کی نوید سنائے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک۔ قائد اعظم کے قتل سے لے کر مختلف جمہوری ایڈونچرز اور فوجی حکومتوں کے قیام تک۔ آپ کسی کو دیکھ لیں اور کوئی ایک مثال ڈھونڈ کر لے آئیں جہاں تبدیلی کی نوید نا سنائی گئی ہو۔

ہمارے ایک مہربان دوست اور استاد اسے کارل مارکس کے نام کرتے ہیں۔ ان کے بقول کارل مارکس سے پہلے دنیا کی تاریخ واضح نہیں۔ مارکس کے دو رمیں اس دنیا میں صنعتی تبدیلیاں آئیں اور موجودہ نظام کی ابتدا ہوئی۔ ایسے میں مارکس کی فکر ہی جدید انقلابی تحریکوں اور سوچ کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہے۔  گر چہ مجھے اس سے مکمل اتفاق نہیں مگر انسانی فطرت کا یہ پہلو بہرحال ایک حقیقت ہے کہ وہ تبدیلی چاہتا ہے۔

تبدیلی کا یہ نعرہ اتنی قوت رکھتا ہے کہ ایک سابق کرکٹ کھلاڑی میدانِ سیاست میں قدم رکھتا ہے اور ملک کے اکثریتی نوجوان طبقے کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا ہو یا مصر کی تحریر اسکوائر میں مرنا۔ روح، نظریے، مقصدیت اور معنویت کے اعتبار سے جدا مگر لوگ تو دونوں جانب تھے۔ آتش فشاں تو کھول رہا تھا چاہے ایک جانب ڈی جے بٹ کے میوزک اور ہر سو پھیلے حسن سے ٹھنڈا ہو رہا ہو یا دوسری جانب سیسی کی فوج کے شعلہ اگلتے ہتھیاروں سے۔ ڈی چوک میں موجود یہ نوجوان نسل اسے طبقے سے تعلق رکھتی تھی کہ جس دن شہر میں جلسہ ہو اس دن ڈرائیور یونیورسٹی نہیں چھوڑا کرتا تھا اور ممی ڈیڈی کہتے تھے کہ بیٹا آج خطرہ ہے۔ عمران خان کو بہرحال اس بات کا کریڈٹ دینا لازم ہے کہ وہ اس طبقے کو گھروں سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے اور ایک نعرہ دیا۔  یہ بالکل ویسا ہی ہے کہ ایک تاریک رات کے سناٹے میں آخری پہر اچانک کوئی چیخ بلند ہو۔ جو سکوت تؤڑ دے اور سحر کی پہلی کرن نمودار ہو۔ گو ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا اور سحر کا وقت دور ہے مگر یہ سیاہ رات تو پوری قوم پر مسلط ہے اور عمران خان یہ آنے والا دھرنا اس رات کے سناٹے میں ایک اور چیخ ثابت ہو گا چاہے سحر کا اجالا ہو کہ نا ہو۔

ہرچند کہ یہ نعرہ بہت طاقتور تھا مگر المیہ یہ رہا کہ آئے، آ کر ملے بھی نہیں اور چل دئے۔ ایک نعرہ جسے پوری قوت سے بلند کیا گیا تھا اس کی گونج سے جب لوگ اکٹھا ہوئے تو دیکھا کہ جس نے پکارا تھا وہ خود ہی موجود نہیں۔ شاید کنٹینر سے گر گیا تھا مگر اٹھ جانے کے بعد بھی انتظار ہی رہا۔ احتساب کا مطالبہ کرنے سے پیشتر خود اس امر کا جائزہ لینے کا کی ضرورت ہے کہ وہ کس درجے مستقل مزاجی کے ساتھ اسی مقصد کو لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ حبس اور گھٹن کے اس ماحول میں شاید کرپشن پر احتساب کا یہ مطالبہ ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا تو ہے مگر کب تک؟ اگر تو اس مطالبے پر عمل در آمد ہو جاتا ہے تو یقینی طور پر یہ خان صاحب کی سیاسی فتح ہو گی مگر یہ بات بھی بعید از امکان نہیں کہ ن لیگ کا کوئی وزیر اس احتساب سے گزرے اور نامہ ء اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر نمودار ہو۔

 

شیئرکریں
mm
مصطفی کا ادب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن کبھی کبھار کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں