ایاز نظامی اور دوہرے معیار

مکرمی و محترمی اوریا مقبول جان کے آفیشل پیج کے ایڈمن نے تانگے کے پائدان پر کھڑے ہوکر اپنی حاضری لگوا لی ہے اور کل ایک پوسٹ کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے کہ ایاز نظامی کے خلاف ہم نے بھی “ٹوکن” لے لیا تھا۔ وہ الگ بات ہے کہ سلمان حیدر اور دیگر بلاگرز کے خلاف آپ “ٹوکن” بانٹنے والوں میں سرفہرست تھے۔
۔
خیر اوریا مقبول جان نے جو پوسٹ کی ہے، اُس کا عنوان ہے کہ “کیا آپ ایاز نظامی کو جانتے ہیں؟ “۔ پھر تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ ایاز نظامی کون ہے۔ جرات تحقیق کے نام پر اُس غلاظت کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ پھیلاتا رہا، نوجوانوں میں الحاد کی طرف مائل ہونے رجحان پیدا کرتا رہا، بیرونی ممالک سے فنڈنگ لیتا رہا اور “فیس بک پر بیشتر گستاخانہ پیجز اور گروپس چلاتا رہا”۔ یہ اُن باتوں کا خلاصہ ہے جو اوریا مقبول یا اوریا مقبول کے آفیشل پیج کے ایڈمن نے ایاز نظامی کے حوالے سے لکھیں۔
۔
آپ غور کریں، موصوف نے سب کچھ لکھ دیا لیکن یہ بتاتے ہوئے ڈنڈی مار گئے کہ ایاز نظامی “درحقیقیت کون ہے”۔ بالکل اُسی طرح جیسے ہمارے ہاں دہشتگردوں کی فکری شناخت و پسِ منظر بتائے بغیر دہشتگردی کی مذمت کرنے کا رواج ہے، بالکل وہی کام ایاز نظامی کے حوالے سے بھی کیا گیا۔ وہ لوگ جو گستاخی کے ہر معاملے میں لبرلز، قادیانیوں اور شیعوں کر رگڑنا اپنا فرض سمجھتے تھے، وہ ایاز نظامی کے معاملے میں یہ بتاتے ہوئے کیوں کترا رہے ہیں کہ وہ کہاں سے پڑھا، کیا پڑھا اور کہاں پڑھاتا رہا؟ کیا سلمان حیدر پر غلط الزام لگاتے ہوئے بھی آپ نے یہی روش اختیار کی تھی؟ وہاں تو منافقت کا یہ عالم تھا کہ ایک تو غلط الزام لگائے گئے اور پھر خصوصیت کی ساتھ لاحقے و سابقے لگائے گئے سلمان حیدر ایک شیعہ ہے۔ یقین نہ آئے تو اسی اوریا مقبول آفیشل کی پوسٹس اُٹھا کر دیکھ لیں۔
۔
کچھ حضرات کو ایاز نظامی کے معاملے میں یہ خیال بھی آرہا ہے کہ وہ اُس کے الحاد اختیار کرنے اور مذہب ترک کرنے کی وجوہات پر غور کریں۔ کوئی یہ بتا رہا ہے کہ کراچی عاشورہ دھماکے میں اُس کے بچے کے جاں بحق ہونے نے بھی اُسے مذہب سے باغی کیا۔ آفرین تو پھر اِسی دھماکے سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے شیعوں پر کہ ہر دھماکے اور حملے کے بعد لبیک یاحسین (ع) پکارتے رہے۔ نہ الحاد اختیار کیا اور نہ ردعمل میں کہیں دھماکہ کیا۔ مزاروں میں دہشتگردی کا نشانہ بنے والے کتنے سنیوں نے ردعمل میں الحاد اختیار کرلیا؟ دراصل ایسی توجیہات عموما طالبان اور خود کش بمباروں کے حوالے سے سننے کو ملا کرتی تھیں کہ ڈرون حملوں نے انہیں باغی بنا دیا۔
۔
کچھ حضرات کو اعتراض تھا کہ ایاز نظامی کے معاملے کو مسلک کے پلڑے میں کیوں تولا جارہا ہے۔ اُن سے گزارش کروں گا کہ اِنہی وجوہات کی وجہ سے تولا جارہا ہے، جن کا اوپر ذکر کیا۔ دوہرے معیار، بیلنسگ اور غلط موازنے ہمارا قومی مشغلہ ہے۔ کبھی شناخت چھپانے پر اصرار اور کبھی وہاں وہاں شناخت بتانے کی ضد جہاں نہ شناخت کے حامل شخص کا کوئی قصور ہو اور نہ ہی شناخت بتانا ضروری۔
۔
کچھ لوگوں نے سوال پوچھا کہ اگر ایاز نظامی کسی شیعہ مدرسے کا پڑھا ہوتا تو کیا ایسا ہی ردعمل دیا جاتا؟ میں آپ کو گارنٹی دے کر کہتا ہوں، اِس وقت اوریا مقبول، مشعل اور اِن جیسے دیگر پیجز پر ایک طوفان بپا ہوتا۔ البتہ میں آپ کو یہ یقین بھی دلاتا ہوں کہ شیعہ ایسے شخص سے اظہارِ براؑت کرنے میں ایک لمحہ ضائع نہ کرتے، بغیر کسی اگر مگر چونکہ چنانچہ کے۔ یاد رکھیں، سلمان رشدی ملعون کا تعلق لکھنو کے کسی شیعہ خاندان سے جوڑا جاتا ہے، بعض اُس کا پسِ منظر احمدی بتاتے ہیں (جس کی احمدی حضرات تردید کرتے آئے ہیں) البتہ شیعوں کے ایک مجتہد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا فتوی دے رکھا ہے۔
۔
آخر میں ایک تلخ حقیقیت بھی بیان کردوں۔ ایاز نظامی کے پکڑے جانے پر آپ نے غور کیا ہوگا کہ اُس کے سابقہ مسلکی پسِ منظر پر بہت شدت سے بات کی گئی۔ میرے نزدیک یہ ردعمل صرف ایاز نظامی کے الحاد اور غلیظ سرگرمیوں کی وجہ سے نہیں تھا، اِس ردعمل میں اُس تکفیریت سے نفرت بھی شامل تھی جس نے براہ راست یا بالواسطہ پاکستان میں ۸۰۰۰۰ انسان قتل کر دئے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تکفیریت کا اِس مکتب میں پائے جانے والے کچھ دھڑوں سےکیا تعلق ہے۔ معتدل دیوبند حضرات کیلئے یہ امر انتہائی تلخ بھی ہے اور قابلِ غور بھی۔۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں