مستقبل ایشیا کا ہے

انقرہ میں روسی سفیر کا قتل خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ روس، چین، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے اس واقعے کے نتیجے میں اپنی نئی منزل کی جانب سفر کی رفتار مزید بڑھادی ہے۔ افغان طالبان کے روس کے ساتھ سمجھوتے نے کابل کے میئر اشرف غنی کے قدموں تلے زمین ہلادی ہے کیونکہ سمجھوتے کے تحت روس نہ صرف افغان طالبان کو “ہر طرح کا” اسلحہ فراہم کرے گا بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ بھی کرے گا۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ یہ ہتھیار داعش کی سرکوبی کے لئے فراہم کرنے جا رہا ہے لیکن اشرف غنی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ محض سیاسی بیان ہے، فی الحقیقت یہ ہتھیار امریکہ اور اس کی پٹھو افغان حکومت کے خلاف ہی آ رہے ہیں۔ اس تازہ صورتحال نے افغانستان میں مستقل اڈوں کے خواب دیکھنے والے امریکہ کو وہیں کھڑا کردیا ہے جہاں سٹینگر میزائل کی آمد کے وقت سوویت یونین کھڑا تھا۔ اس تازہ ترین منظر نامے میں روس اور پاکستان اس قدر مضبوط پوزیشن پر کھڑے ہیں کہ پاکستان نے نائین الیون کے بعد ایک بار پھر کھل کر افغان طالبان کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے جسے وہ اب تک محض رابطوں کا عنوان دیتا آ رہا تھا۔ اس پس منظر میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل اشرف غنی کے لئے اس لحاظ سے فیصلے کی گھڑی بن گیا ہے کہ انہیں طے کرنا ہوگا کہ وہ امریکی کیمپ چھوڑ کر خطے کے اصل پلیئرز سے ہاتھ ملانا پسند کریں گے یا افغان طالبان کی لات کھا کر کابل سے نکلنا ؟ پاکستان، روس اور چین اپنے پڑوس میں ایک ایسا پر امن اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں افغان طالبان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل حصہ بقدرِ جسہ والی قومی حکومت ہو۔ شمالی اتحاد روس کے زیرِ اثر ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے کنٹرول میں ہیں ایسے میں اس تازہ صورتحال میں محض چند روز قبل نرندر مودی کے ہاتھ میں ڈال کر اونچی آواز میں بولنے والے اشرف غنی کی حیثیت اس خانہ بدوش کی ہو کر رہ گئی ہے جس کے پاس گٹھڑیاں تو بہت ہوتی ہیں لیکن ایک انچ زمین نہیں ہوتی۔

خطے کی اس بدلتی صورتحال کی سب سے اہم پیش رفت مشرق وسطیٰ میں ہو رہی ہے۔ 40 ممالک میں مشتمل فوجی اتحاد میں اہم ترین کردار سنبھالنے کے لئے جنرل راحیل شریف کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے اور ان کا این او سی آج کل میں جنرل باجوہ سائن کرنے والے ہیں۔ جنرل راحیل شریف سعودی عرب میں دفاعی مشیر کی حیثیت سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جہاں سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان ان کے “کفیل” کا کردار ادا کریں گے اور اس سلسلے میں فیصلوں کا اصل مرکز پاکستانی جی ایچ کیو ہی ہوگا۔ اس پیش رفت میں پاکستان نے سعودی عرب سے یہ بات منوائی ہے کہ خطے کے تنازعات کا اولین حل ثالثی کی صورت ہوگا اور یہی جنرل راحیل کا اصل ٹاسک ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے پاکستان کو گرین سگنل موصول ہوچکا ہے یوں آنے والے دنوں میں روس، ترکی، ایران، پاکستان اور سعودی عرب ایک میز پر ہوں گے جس کے نتائج نہ صرف شام اور یمن کی جنگ ختم کرنے کی صورت دیکھے جا رہے ہیں بلکہ پہلی بار سعودی عرب اور ایران کے مابین مذہبی منافرت کے خاتمے کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے مولانا فضل الرحمن کو اہم ترین کردار سونپا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس کے افغان طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے میں بھی مولانا فضل الرحمن کا اہم کردار تھا۔ روسی بخوبی جانتے تھے کہ افغان طالبان کی جڑیں پاکستان کے دیوبندی مکتب فکر میں ہیں لھذا ان سے ہاتھ ملانا تب تک لاحاصل ہی ہوگا جب تک پاکستانی دیوبندیوں کی اہم قیادت آن بورڈ نہ ہو۔ یوں روسیوں کی خواہش پر مولانا بات چیت میں شامل رہے۔ مولانا کے اسی کردار کو اب مشرق وسطیٰ تک بڑھا دیا گیا ہے اور وہ عرب ممالک اور ایران کی قربت میں حائل مذہبی رکاوٹیں دور کرنے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

اس پورے پس منظر میں راولپنڈی کی اہم ٹیبل پر پڑی فائل میں موجودہ حکومت کی گزشتہ چار سالہ کارکردگی اور 2017ء میں بہت سے میگا پروجیکٹس کے افتتاح کے تناظر میں یہ پیشنگوئی درج ہے کہ 2018ء کا الیکشن بھی موجودہ حکومتی اتحاد جیت جائے گا اور یہ نہ صرف سی پیک کی تکمیل بلکہ خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کی اشد ضرورت بھی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم ترین حلقوں میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر نہ تو وہ زرداری قابل قبول ہوسکتے ہیں جو اپنے دور حکومت میں ایرانیوں کو خوش کرنے کے لئے سعودی عرب کو پاکستان سے دور کر بیٹھے تھے اور نہ ہی دھرنوں کے شوقین کسی ایسے پاکستانی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوئی گنجائش ہے جس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کب یو ٹرن لے بیٹھے۔ فائل کہتی ہے کہ پاکستانی تاریخ کے اہم ترین اہداف کے حصول کے لئے وہی ٹیم اور سیٹ اَپ ضروری ہے جس نے اسے پچھلے چار سال کے دوران شروع کرکے اس کامیابی سے آگے بڑھایا ہے کہ امریکہ پاکستان کی دفاعی کمپنیوں پر لاحاصل قسم کی احمقانہ پابندیاں لگانے پر تل بیٹھا جس سے ثابت ہوا کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور مستقبل ایشیا کا ہے.

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں