تقلید اور اندھی تقلید

علماء میں “اندھی تقلید” قابلِ تحسین بہر کیف نھیں ہے۔ یہ درست ہے کہ تقلید کرنا ایک عادی امر ہے، قرآن مجید اور احادیث و روایات میں بھی اہلِ علم کی طرف رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک امر سے نہ آشنا بندہ، ماہرین کی طرف ہی رجوع کرے گا، یہ بھی طے ہے۔ یہیں سے دینی اُمور میں بھی تقلید کا تصور پیدا ہوا کہ لوگ علماء سے دینی معاملات دریافت کرتے چلے آئے ہیں، علماء کرام قرآن و سنت اور دیگر فقہی منابع سے جواب دیتے ہیں۔ عام آدمی دلائل کو نھیں سمجھ پاتا، اسی وجہ سے عام طور پر چند سطری فتاویٰ ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
قابلِ افسوس پہلو علماء کرام میں “تقلید” کا پایا جانا ہے۔ فقہاء، اپنے سے ماقبل بڑے بڑے فقہاء کے فتاویٰ کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں، جیسے شہرت یا اجماع کے مباحث۔۔۔ یُوں فقہاء کے مابین “تقلید” کا رُجحان سامنے آتا ہے، جو علمی روش سے لگا نھیں کھاتا۔
یُوں تو فقہاء اپنے فتاویٰ پر قرآن و سنت اور دیگر فقہی منابع سے دلائل رکھتے ہوتے ہیں لیکن تقلید کے رائج ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عام لوگوں کی طرح غیر مجتہد علماء کرام بھی دین کے اساسی منابع قرآن و سنت سے دور ہوتے چلے گئے۔ اُنھیں اپنے فقیہ کا فتویٰ معلوم ہوتا ہے مگر اِس فتوے کے دلائل سے وہ بے خبر ہوتے ہیں، مزید یہ کہ ہر ہر مسئلے میں تقلید کے تصور سے یہ بات ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن و سنت کو پڑھنے، سمجھنے کی ضرورت نھیں ہے، یہ کام بس فقیہ کا ہے۔
فقہی احکام کے علاوہ بھی بہت سے اخلاقی، اعتقادی، سماجی اور انسانی مسائل کو قرآن و احادیث میں بیان کیا گیا ہے، اُنھیں تو سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ مشہور یہی ہے کہ تقریباً 500 آیات قرآنی کا تعلق فقہ سے ہے، گویا 6000 کے لگ بھگ آیات دیگر موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، اُنھیں تو دیکھنا چاہیے۔ قرآن و سنت کو براہِ راست پڑھ، سمجھ کے بھی بندہ مقلد رہ سکتا ہے، ایسی صورت میں اُسے فتاویٰ کی بنیاد اور اساس سے آشناہی حاصل ہو سکتی ہے۔ مکتبِ تشیع میں بالخصوص تقلید پر اصرار کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ مجتہد/فقیہ کے علاوہ دیگر شیعہ علماء قرآن و احادیث سے دُور ہوتے گئے، یُوں اُن کی توجہ کا مرکز، عام آدمی کی طرح بلا دلیل فتویٰ قرار پایا۔ بلا دلیل فتاویٰ پر مشتمل فقہی رسائل “توضیح المسائل” علماء اور شیعہ عوام میں یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ برصغیر سمیت دُنیا بھر کے شیعی علمی مراکز میں “فقہ” اور “اُصولِ فقہ” پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن کسی مرحلے پر علومِ قرآن و علومِ حدیث سے مناسب آشنائی کا اہتمام نھیں کیا جاتا، نہ ہی قواعدِ فقہ پڑھائے جاتے ہیں۔ (درسِ خارج میں فقیہ اِن علوم پر روشنی ڈالتا ہے، نیز اب الجامعۃ المصطفیٰ العالمیۃ کے نصاب میں یہ عُلوم خصوصیت سے پڑھائے جاتے ہیں، ہمارے ہاں جامعہ الکوثر میں بھی اِن علوم کے شعبے موجود ہیں)

آخر میں کہوں گا کہ اندھا اُنگلی پکڑ کے چلتا ہے، یہ بھی تقلید ہے، لیکن جس آدمی کی اپنی آنکھیں سلامت ہوں تو جس قدر اُسے نظر آتا ہو، اُتنا خود چلنے کی کوشش تو ہو سکتی ہے اور کرنی بھی چاہیے، یہ بھی عقلی بات ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کا تقاضا بھی۔ ہماری دانست میں فقہاء کرام اور علماء کرام میں تقلید برائے تقلید کا رُجحان کسی طرح حوصلہ افزا نھیں۔

تبصرہ کریں

Loading Facebook Comments ...

تبصرہ کریں